سے ثكےےہو ان سس امہ 882618... طخ موی 0800618چؤ

ٹہ ٤ی‏ :01880 بل لا ایز 0٥۸ ۸٢‏ ںو

ران رم

>< دہ :ودوھ 00ا50 ت5 ۷ ع۴۸۸۵ ۳

4

72727

رہےہج:

بر بج ۹2345811

س2

عکرتعلوی

ابلاز(صجغٌ)

سی واجمام اسلامک تھاٹ تم

نا کاب کملر کروی

گی واجتمام : اس لاک تھا ٹ٠‏ پہلااٹنشن صن تق مطابل: ععلماء 5 ڈ

97-7

1 ,اوںم۲٠]۲٥١٥٥٥‏ ,533 ×ہ۲.0.8 ؛٤ماوں٥ہ‏ ۲5 ء ا ّ٘صداذا ۔کاتا ,5۳۴۷۷

۱۷۷۰۱: ۷۸۸۷ ۷ ۱۸13۲٣1٥٤٥٥51 ٤.:ہ.×‎

۸۷.ہ-.٤1و‏ :۱۹73۸21513511 3۸ہ :ام٠٥‏

٥ہ‏ ۔ 1اا ط۰۷۸۷۷۷۷۸۷۰.3٥۵۱‏ ۱۷۷

۴]:]]1۱:٥٠9853طہااا.‎ ہ٥‎

مس ماوڈد این ارتم الحمد لله ر ب العالمین والصلاة و السلام علی سید الانبیاء والمرسلین و آلە الطاھرین المعصومین ال جھانہ دتھالی کے و :سید الا نیا تر تیئرمص ٹل کے وی ءامیرالمومین ححضرت لی علیہ السلام کےکلام کے پھرے ہو موتیوں کے ایک ھےکو چٹھی صدکی جری یسر نے کیا اورا جو کا نام ابلاغ رکھا۔ سیدررش یکا پودانا تج نان الم دسوکی الشریف ہے اورک پک شہرت سیدرشی سے ہے۔آپ ۵۹ ہج ر یکوبفدادل پیداہہوۓ اورا محرخح۸۹ مج ر یکو ےسا لکی عرش ا دنا ےو ف ایا سید رش شمفیو کے شاگردہیں اور وی کے استاہیں۔ یرت ن ےکس اغخلاص ےم اٹھا کان کے اس نمو کودد مقام ملاک بحداْق رآن ابی یکا بکولاہو- ا لا رکیسید رش نے تن تصوں می تی مکیا۔ ایک حص فطبات پٹنی ہے جس ٹل

۸ خطبات ہیں اوردوسرے جے میں شطوط او یں در ٹیش نکی تعدادہے ہے او رتیسرے صے می قرف رشن مع سے گے ہیں نکی تعداد* ۴۸ ہے۔

ال ہلا کی ایت چنشظمت اورقررومنزا تکیا ہے اس کے لے درجنو ںکاہیں اور ینکڑوں متا لےکیھے جا گے ہیں ءع لبلا کے مغ بیو بیا نکر نے کے لے اہ کک یی راکھی جا گی ہیں اورکئی ادارے اس مقصد کے ل ےکا مکرر ہے ہیں ۔ بک ال بلاضہ کے مقام کے مان کے لئ یں ابئے استا یت مآی: او فی فاض ل کرای کا ایک جملہ یا نکر چمتاہوں دوفریاتے ہیں للا خرامی موس کلام ہے 'اب بشر یت امیر الم وی نکی باتی صفا تکوک ب جج گی ہ ےک دہ ان کےکلا مک وھ س ےکی ۔ الب امیر من کےکلام ہی سے ایک سہاراطا ےکہ امام فرماتے میں انسان اپنی زبان کے نے چا ہوا لمات قصا رن ر۸٢۱‏ ]شی انسا نکی چان اس کےکلام او رو سے ہل ہے ا کے الات دجذیاتکاانازدا کیریں او نتروں ےکیاب اکا ہے۔ جب ا لک ز با تلق ےق اس کے جو ہرنمایاں ہوتے ہیں۔ایک اودمقام پرامیر اش فرماتے ہیں باتک وتاکہیچانے جا فکیونکہانسان ایز بان کے نچ اشیدہ ہوا ہے '۔(کلما تصا۳۹۲)

ال ہلاخ کلام امیرال حر ہے ا کلام سے اما مکی بائی صفا تک بھی پان ہوک گویا ا مکی علیرالسلام سے صفات وفضائل امام علیہ السلام ےبھ یآ شنائی ہوگی-

ادا کی شرح کین وا شی کرد قیفر سے بقو لعلی علیہ السلام ے تی علیہ السلا کا تارف ہوگا۔

ملا جب صفات وکمالا تعلو یکو پڑت یا کھت ہیں نذ ہماریی ہگ ہوں میں امیر المخی کی سب سے بڑیصفت میدکھائی دق ےکپ ببت بڑے عابدخدائںگردہ کصی عبادت ہے ج امائم انام د پت ہیں بیاما خودی اکھت ہی سکم رکی عبادت اور عام ہنرو لک عحبادت ٹیل فر نکیا ہے۔عحباد تک اقسمام بیا نکر تے ہدے اما شف ماتے ہین ایک جماعحت نے ار عبادت نو ا بک رقبت وخواشل کے یک کی بیتاجروں والی حبادت سے اود ایک جماعت نے عبادت خو فک وجہ ےکا ا لک بی عبادت خلامو لک عبادت سے اور ایک بجماعت نے از رو ۓ شگرعباو تک ءآزادو ںکا عیادت ہے لمات قصارك۲۳۷)

امیر تی کی دوسربی بڑی صفت جواماغمکوز مان ےگ رسے بکند کے ہو ئے سے دہ آپکی اطاعت رسول خدا سے ۔اب الوطالب عل السا مکا یڑا مصط اصع و فرمان بردار سے بیجھی اما خوددی مبتر جا سیت ہیں ۔اس اطاح تکو بیا نکر تے ہوئۓے فراتے میں

نہ راکرم کے وو اصحاب جوا کا م رش لعت کے ال نک رائۓ گے ے لا بات سے ھی ط رع آ گا مہ ںکہمیش نے بھی ای کان کے ل بھی رادرس کے سو کے اعم سے س رتا یی لکی اور یٹ نے جوانردکی کے ئل بوتے رک جس سےالپندنے تھے سرفرازکیا ےپ ری دل وان سے ان موقحول پ مدکی شن موقحول سے بہادد بھاگ کھڑے ہوتے تےاورند مآگے بے کے ہیاۓ یی ہٹ جاتے تج( خطبہ۱۹۵)

امیرال تی کی تسری فضیلت ےہ راک رم نے ہار ہاو رخھدامام ن ےکی مو انا

فضیلت کےطورپرٹیی لکیاد دق رآئن اوراما مکاساتھ ہے۔امائ رفرماتے ہیں

”نی می د وق برست ہوں جس سک یرد کا جانی ا او رکتاب خدامرےساتھ ہے اور جب سے می را ا لکاساتھ ہو اہے ٹیل أس سے الک کی ہوا (خب.۳١)‏

امیرا موم نکی جچی صفت جوامائمکوامامت کے مق کک پپچاتی ہے دد امام اسم ے اور پل علم القرآن اس کےکیتحلق اما فرماتے ہیں کہاں ہیں دہ لی کک جھ وٹ بو لے ہوئۓے اورہهم یتم روا رھ ہو ہہ دو یکر تے می ںکردہ ران ان ٹّْ اعم ہیں نک کم چوک ہا نے چھمکو ہل رکیااو ری ںگرایا ہے اور ہیں منصب امامت دیا ہے اورائ روم رکھا ہے او میں منز لمکم یس رکھا ہے اویل دو رکا (خطی۱)

امھ رال وی انی ا نچوی عفت کےطود برٹس ن ےکا ذکرفرماتے ہیں دو اما مکی اعت ہے جس سکودوست وشن سب بیا نکر تے ہی ںمگرا ماش انی ال فضیل تکولیوں شی فرماتے ہیں“ یھ رسولی سے دی فببت ہے جوایک بی جڑ سے بیو ٹۓ والی دوشاخو کو ایگ دوسرے سے اورکلاگ یکو بازو سے ہوثی ہے۔ خدا حم اگ رتا عرب ایک ہوک بجھ سے نا جا می ںتے مییران کچھو کر بی نہ دکھا و ںگا اورموح ات جیا نکگررشیں روچ سی کے لے لی کک کے بڑھوںگا“'۔(ع(۵ہ)

م ییہاں صفات امیر الم تی علیہ السلام نی سگنوانا ات اس لل ےک خودامائم خط ۸ل می ان صفا تکوالی نما ت تقر اردیے ہیں اور جب بیصفات وفضا ل حماتِا ٰی یں تق خودال جات کا ارشاد ےکم ریت ںکوگنانئیں جاسکتا ہم انقاع من لک رن جات ہی ںکہ کل مع علیہالسلا مکوپپیانیں ٗی چا ےکک ابلاغ کے نام سید نے موتو ںکی

جھمالا ہناگی بے ادراسے جمارےپپردکیاہے اسےاپنے سینو کی ز نت بناکیں ا کلام کے ذد اترام را می کسی عدک پان ہی ۔خوداا سکلا مکی عمظرت جناہراھر الخ کےا ن جھلوں سے در ک یئ ۔ اما علی السلامفر مات ہیں

”مج می نے اپ امش ذبا نکو جس می بڑی جیا نکی جات سے گیا کیا'۔(خطبہ۴) اد ر ایک موقعہ پراپ نے کلا مکی عظمت کے بیان شش فرمات ہیں مم (اہایت ) اشی رشن کے امیرہیں کلام ہمارے رگ دپے ٹس ساباہواہے اورای شال بھم بی ہوئی ہیں“۔(خر۳٣)‏

ا لکل مکی بلنعد یوں کے بیان میں ابسجت کےمشپورھالم دبین این اپی الد لمت لی جنپوں نے ات یی دی جری میں ہیں جلروں پٹنی ہللا کی شر ھی ہف رماتے ہیں اگ را میران جنگ می جشجاعح تک با تک تے ہیں تذ دو جالیت کے نائیگرائی ببادرسطظام بعحییاورعامرین اُفیل ھول جات ہیں او راگ کت وموعظہ بیالن فرماے ہی تذ مت را طولوضااو رکا یادتاذہ و جالی ۓ“-

ایس کلام کے نال قکانام ہے ورس ک ےکا مو اک کے اور ال بلاغ کا نام در ےکر نام پیداکرے وا یتخعبیت اوریلی علیرالسلام کےھیوں پراحسا نکر نے والی ذات یں سید تی۔

ابا ظآیا تب رآنکاثیرے-

ال ہلا ےق رآن می ر کے یلو نکودرککرنےکا سیقہتاے-

الا ےق حیاق ے_

٣2-02 0ی‎

لزغ موی عکی زیارت نیب ہل ے۔

اابلاغرازسان سا زیی کے اصولو ںکا ما غززے-

البلاغرزخدکی کےقوانی نکا یھو ے۔

ابلاغ ے مگ انم خی تک خدم تکاجزہحال ہوتاے-

ابلاغ سے عاولا وص تک رن ےکا ڈھنک میس رہوتا ے۔

ا بلاقہ پر فا شیع علاءعی نے کام نی کیب ہاہمدت علاء نےبھی باب اعم کے دروازے پر ینک دگی اور البلاغرکی ا تھی جانے والی درجنول شرتوں یں سے سب سے یادہیشپورشرں سی عالم این الی الد امت ز لی جیکی ہے۔مھ رکےمشبورعالم او ضرق رن شی عبرونےال ہلا غکیپشقری شر اچکھی او اکر یی دنا رٹ تچ ابلاغ کاخوب تحار فکرایا۔ پاکستان کےا وت کے ایک تپوارنی الم ڈ کر طاہرالتقادریی اپے در نگ لبلاخرٹش لگ رکے دیٹی عدار لکانجو یز دی ہی ںک ہکا للا شر مراارس کےنصاب ٹیل شائل ہونا جا جے-

صراتوں کےعلاو عم دوست خی سلموں نے بھی بک للا نہک بڑھااورا سک ھت کا رما اقرارکیا۔ نان کےمشپورعیسائی مصنف جورع جرداقی نے فک البلاغہ پےکتاب لکھی اوروہا ںپکھت ہیں می نے تچ البلارکودوس ہار پڑھاے۔

کچ البلاغ کی تا رن ء اد یی اخلاقّی اورفصاحت وہلاقت کے والوں ے بیا کان ایت وظمت پٹنی اردو می اھ یکئی مبترب نز کے لئے علام سید اشن صاحب

مرعوم کے اس مقر کو بڑھاجاۓ جوآپ نے علارمطتیتتف رین مرعوم کے تج کا البلانم کے متقدم ہیں ک ریف ایاے-

اسلا رک اٹ کےنلیس وفعال لمران چندسمالوں سے ا کش میں میں کرام رام کے ا لکلا مکوخرہت 2 پدوں سے باہ را اکر وحیر ے پستاروں اور ول“ تھے حبداروں ‏ موصدرول اورۂضتّو کک پپچائیں اوراس راوس علاءنے جتی کی ہیں اس سےآو مک گا ءکریی۔

اس مقمد کے ل جک قدم اٹھائۓ گے ہیں اور اس وق تآ پکی خدصت ٹل مولی الموعد ین امام تین امیرلمومنی۲ن لی علیہ السلام کے فراشن کےجموھے کچ ابلاغ کےآفخری تح مات قصا کول کک بکی صورت می سٹحکمت لوبی کے نام سے پیی آررےژن۔

الا کا تیسراحح حعمتعلوکی کےمنوان ےآ پ کے یی خدصت ہے اس جے کوا لک پچچوایگیاے ت اک لو گآ سائی سے ا کا مطالک مین ٦ایک‏ دوس رےکو تاب ریہ کےطورپرٹیٹ یک ریس اوران یشقراقوال کے ذدیعامام علیہ السلام ک کلام ے الس پیداہواور پر ےگ البلانغم کے مطال تہ کاخول بیرارہو-

پهم نے ا سکاب میں علامفتی نف بین مرہوم کے تج کو ٹین نظ ررکھا سے ؛ جوترا تگمل تچ البلا کا مطال کر چا یں دہعضقی صاحب کےت جمہ یاچنداورتر اج مچی ممویجود میں ا نکی طرف رج گر یں۔

ھم جوا ےآ پکوامیرالم ومن نعلی علیہ السلا مکا شیع اویحت ککتے ہیں جمارافرش بن

سےکہاپے امام کے پا وق م کے ہر ہرکھ راو ایک ایک فر دنک پیا میں ءبیان ےبگ نام پیا ہر ےکی مہ رات پھیلامیں اور اننس خطباءوذاک بن ا نقارہ کوان جیا نات امام سے م ناف رائلیں :ہار ےےل می بھی ان ف رای نکی جک کن لی جایے۔

1 حکئی اطراف سے شی ع تاد کا تک اظار ہے اورسب سے ڑا اعترائ بیگیا جانا ےکەشی ہکا عقی وت حیرکزرور ےی امیر الم وت کےکلام سے دت یکو حیدکی حقیقت انی ےی اب ےآ پکو رن علوی یس ڈھا لکرداوالو ںکو یجان ہ ےک اگ کوئی لی علی السلام تع گا کن رت کی آگموق سے زین کے سے سے

پر آسمان کےکون ےکونے میں چم کے ہ رہ ضوبی اوردنیا کیا ایک ایک چم تو حد ک ےلاو ےط یں کے مھ یور کے درخ تکوسا نے رکوک رت خی چھاتے میں بیھی نی ای کے وجودے وجوددرب ای ت کرت یں اوریھی مور کےکنگوں میں سے ای خااق کے کات ہین۔

البلا کا ہلا خطہ ہو یا خطہ ا شیا جنلبوں کےاندر ےتا ت ہوں باخظب۸۳/اگی مر کے پورے پور ےخلیء جب امیرالمؤ من صفات ای اورجلال و عمال غداوندگ بالنفرماتے ہیں و یڑ نے والا اصائ لک رتا ےکہاسے پر الیل گے ہیں اورو وف شتقل کے۔اتھوخو برواز سے اورلکرانسالٰی کی مع ان پر گیا سے اور حیھ کے اسبا قکویا خود باب ا٥ی‏ علیہالسلام س ےکن ہاے۔-

آ ہے غداورہتعال سےالت اکر یں !

ےگ کے“تبوداللہجمارے ہاتھو ںکودو طات عطافاککلا مک کودام نی برک مفبولی ےےتھاےر ہیں اورمائک اش کطر زہرکھاکیی خووکرتت ہی گککا ہل کوز ۲ نگیرنہرہونے دریں۔

ےگ کے رب ہماردےکانو لکوٹذ فی د ےکن کی یداو نکی گیل اور مارگ زہافو ںوج رآ تپ کیغم ارک طر پا ناد دس روج بھی پچ یاکھیں۔

اےن کےالقی ہماری1گھو ںکودولصیرت عطافرم اہک خثان بین حفیف جیسو ںکو کک گے علوبی دستو اتل پڑ ہوک رزنگیاں اس کے مطالق ھا لمگیں-

ا کدولی ہیانے وانے از جعارے اذ ھا نکودہ ارت ملس ف ماک ہتیرے ولی کوغرات ون ساعھیس اوران وسقورا کو ٹوش وکی رر دوسرو تک پٹچا میں

اےگکنشتیں بنٹتے وا نے رب عل کی جرّت ےکمیس اتا بی فعیی ب فرادے کین کےمقیر ےکی الف کرنے والوں ےگ رای اورع عقاد دتیاوالو ںکوکھا یں

اےٹ کشر فامامت عطافرمانے والے رب تمع یا یکا خلائی کے دنو یدار ہیں ہم ترذات ےی ما گت اس مات ہی ںکییں عبت عطافربادےتکیاک راہ سیت آئحیوب مییصمطفی لی جائے اوران دیاوں سے تی ذا تک پاگیں۔

خدایا خی بچاادردور روا ںجھقی ےک کوکہنا پڑے تم پرانسوں ےک ےنم ےکی یں اھ نا ی میں (خ۳٣٣)‏

پروروگارا! می ںتفوظا راس ذات ےکریگی علیہ السلام یوں مفاطب ہوں””تماى رق میں اپنے امام کے نافرمان و ۔(خظب۲۵)

إٰی ان بناناچہیں ان افراد می سے جن کے لۓاف میں نیس نے سھیں منانا اگ رق نے اک شک '(خظب۵+)

ےک غکوع زی بنٹے وا نےع زی الد میں دیما ہنا جی ےگ جات ہیں ادرف ماتے کے ب کی اہلایی کو دیھوا نکی بیرت پر چو اوران کےفتتش قز مکی چا کرو ۔اگمرو ہی کی رمیں توق پھ یک رجاواوراگر دو یں ےت بھی اٹ ھکنڑے ہوان ےآ کے نہ بڑھ جا و ور ہگمراہ ہو جا و گے اور تہائیل مچھو کر جکیے رہ جا رن تباہ ہو چا گے “(ظب۵٥)‏

اگ کا نام لی ےکا شر فجنٹے وانے او میں ای اما لک تن تعیب فر کیل ہم سےراشی ہوں جیے م لک اش سے راشی تھے اورفرماتے ت لا شض کی کومیش نے مرکا دای بنایا تما وہ جارا خ رخواہ اورشنوں کے لے خ تکیرتھاء دا اس پر رت کرمے اس نے زندگی کے دن پ رےکر لیے اودیموت سے وکنا رہئوگ اس حالت ٹن کہ ماس سے رضا مند ہیں ہخداکی رضا مند یا بھی ا ےنھییب ہوں اوراے یل ازج ٹذ اب عطارے '(خ(٣٣)‏

- وسیری مدکی زندگیکاکوکی ولا مےے لی ے نا نوواوٹ لکالولبجااخرت علئی ےا لک تہو۔

مو تآ ت2 محب تک اس زا اش اورزند ی مز رے ا یا رپنا لی رنتی علیرالسلام

ہیں۔

2 ڈو راآرازت جار للارش ہب ےک کلام امام کے بے جاہرا تآ پگ خدمت شی پد رگ رر ہے ہی ںکیشت لکر یں انی خودیڑعیس ‏ جھمیں اوران کے مطا لی اچ زنریا ڈخالین میں بیو ےس ات مکل یس دوضتین کے مات تح مور مسبدرول امام بارگا ہوں میں علماء وخطباء کے پا اک را نعکما تک جھییں اوردوصرو نکو اد

آخرییس میس اس لاک تا ٹک کےتما مکاشگر یراد انا چاہتا ہوں جنہوں نے لف عرائصل می اسلاک جاٹ ک ےکا مو ںکوآ گے بڑھانے میس تتاون فرمایا اورف را رے ہیں۔

جناب چچت الاسلام لیا قتم٦ی‏ اعوان صاحب اورجشن احباب نے ال سکتا بکومرتب و منفممک کے ز اور ےآ راس کیاے ہک توفیقات بس خداوندمتعال اضاففرماۓ-

دعا فر انمیں ال ان وتھا یمیس اپنے ا ےکا موں میس اخلاص عطا ےار ابلانری ین ایس رما کی فا تک قش ق تعیب فرمائے۔

والسلا سک ین ات ادا متول مین علوی

بمطاعہ

۸۰ فراینامیرالش نکی علاسلام

ڑاگ تتفادرگے سی

کُنْ فی الفَِْة کان الونء لاظهُرقَيْركبَء وَلا ضرع قَبْعلبَ

فتنفضیادییش الس طر رہوش ط رح اون فکادہپیرجنس نے ایی ای عم کے دوسال شحم یئ ہو ںکہتہتذ ا لک یٹ پرسوار کیا جاستی ہے اورتداس کےقھنوں ے دو ووہا جاسکتاے۔

لپون دودتد ہے والی اوشیواوراین الو ناس کے دوسالہ جےکوسکتے میں اور ود ال بیس شہسوارکی کے قائل ہہوتا ہے , اودضہال کےٹعن لیا ہدتے می ںکران سے دودبودپا جا گے . اسے ائن الب لن ال ل کہا جا تا ہ ےکہال دوسای کےعحرص یس ال کی ما کو را دو راید ےگردددھد کی ے.

متصددیہ ےکہانسا نکوفتن وضاد کے م وت برا ط رح ر ہنا جا ب ےک لوگ اے نا کارہ تج کرک را طدازکردیس او سی جماعت میس ا لک رک تکی ضرورٹموں نہ وگ فتوں اور ہگ موں مس ا کتھلک رہن ھی تا دکار یوں سے بیاسکتا ہے .الہ جہا تق و ان لکاگراد ہددہال پر خی رجاخبداریی جائزنئیل اود ناس نقتندوضراد ےلت رکیاے . بللہ ایے وت برع نکی حایت اود ہاش لک مرکو لی کے لی ےکھڑا ہنا واجب سے جیےجمل و صفی نکی جگوں مم تکاس اتد ناضروری اور اٹل سےنبردآ زم ہونلاز متھا.

۲ب ذانٹس کےاسباب اَی بنَقُيِ مَىْأَممَعرَ الع وَرَضِیٗبالل مَْ كشَق عَنْ صُرّهِ وََاَت عَلَيْهِ نَفْسّه مَنْ اَمَرَعَلَيْهَا لِسَانَةُ. یش نٹ کواپناشھار نایا انل نے ا ےکوسی کیا اوج نے ای پان عا یکا اظہارکیادہ ذات پرآ ماد ہوگیا اوج نے اپئی ز با نکوقا ہویش نہ دکھا ال نے خوداپتی بے نت یکاسماما نکریا۔ ۳ب ئیوب شھاکن

جات ہے لے ہے وی تھا پل ہے وھ پڑھ ‏ وے ھا ہے وی فا ے وی لے الَْحُل غاز. رالَن تََصةً وَالَثربَخرِسُ القجع عْ غخيہ زالعدل

عَرِیٔبّ فی بَلدیہ الَجز اڈ وَالصُبر شَجاعَة وَالزّهد تروَةء وَالَرٌَجتہ

کل تنک وعار سے اور بزد لات دگیپ سے اورفربت مردز یک ودانا کی زیا نکا دا لک قوت دکھانے سے عاجز یناد بت سے اورلس اپ شپ میس روک بھی خریب الین ہوتا ےاورجزودر مان گی مصیبت ہے اورصب کیاکی شباعت ہے اوردنیاسے بی چجافی بی

دوات ہاور پیر ہیہزگا رکا الیگ بڑکاییرے.

یم دادب وَنْعُم الْقَرِییْ الرْصّیٰ اَلْعِلم وِرَالَة كَرِيِمَلہ وَلَادَابُ خُلَل مُجَدهَةٌ وَالْیَْكُرْمِرْآة صَافِیَةً. تلیم ورضا ہت ین مصاحب ےم شر یف تربن مرات سے اوزھی وی اوصاف و خلحے ہٍں اورلگرصا فخشفا فآ کیدے.

4 چنراوصاف

صَذدر العَاقِلِ صَنْدُوق سِرٗہہ وَالیْشَامَةحِبَالَة الْمَوَةَةء وَالا خِمَالْ بر العیْوبٍ او و المَسْالمَةُ خجیاء الْمیُوب.

22 یراس کے بپیرو ںکا خرن ہوتا ہے اورکشادہ رولی حبت ودوت یکا پچٹراے اور دبرد ار یو کان ہے با ںفقرہ کے اۓ حضرت نے بیفرما کہ( صفائی یب لکوڈڑھای کاذر لیدے.

٦پ‏ ٹورپنری

وَمَنْ رَضیٗ عَْ قَيِه ككْرَ السَاخجط عَليْه. الصُلفةتوَهُ شْجح, وَآعمَال

ٹس اپ ےکو بہت پپن دکرتا ہے وو دوسرو ںکوناپندہوچانا ہے اورصد تکامیاب دوا ہے اوددٹاٹش بندول کے جواعمال ہیں وہ1 خرت می ا نکی آگھموں کے سائۓ ہوں کت

ىارشا دجن جملوں پمشقل ہے پیلہ جملہمیش خود پیندی سے پیدا ہونے والے شا د اشرا تکا ذک کیا ےکراس سے دوسروں کے دلوں میں نفرت وتقار تکا جذ بہ پہارا ہوتا ہے .چنانی ہو انی ذاتکوفمایا ںکرنے کے لے بات بات می اپ تر یکا مظا ہر کرت ہے دہ کبھی عزت داتتزا مکی ڈگاہ ےنیس دیکھا جا ااورلوگ ا لکیتفوق پیندانہ ہنی تکود بت ہوۓ اس سےففر تکرنے گت ہیں اوراے انتا بھی وک ےکوتیارکیل ہوتے جن دہ سے چہ جائیہج چجددداپنے 1 پکو تا ہے دی پنوا ےمج لیس ۔

دوسرابجملرصدقہ کےپتعلقی ہےاوراے ای ککامیاب دوا ےک کیا ےکیوکمہ جب انسان صدقہ وخرات سےعتاجوں اور نادارو نک مددکرتا ہے تو دہ د لک یگبرالییں سے اس کے لیے دعاۓ صحت و عافی تکرتے ہیں جوقبولیت حاص٥‏ لک کے ا سک شفایال یکا باعث لی ے . چنانیپقب راک کاارشاد ےکہ داوواصرضاکم بالصدقہ ‏ اپے بیارو لکاعلاحصدد ے کرو. تس را مل تش رم اعمالل کے بےنقاب ہونے ک تح ےک انسائن اس دنیائس جواجیتھ اور بر ےکا مکرتا ہے دو تا بعنسرکی کے عائل ہون ےکی وجہ سے نظ ہرک حواس سے ادرا کیل ہوسکتےگ رآ خرت میں جب مادییت کے پردےاٹھاد ہے جامیں گیذ دو اس رح 1 عگھموں کے سا خضنےعیاں ہوجائمیں گ کرکسی کے لےکنفیائش انار ضر ےکگیا. چنا خچرارشاداٹچی ہے :اس دن لو گر وگرو وقبروں ے اٹ رکنڑے ہوں گے تاکردواپنے اعما لکودیھیں نس نے ذر ہیر یکی وگ د اس دک لگا اورجنس نے ذ دوگ ری برائ یک ہوگیادداے دکیہ لگا پڑے 4 انسای ھاے اَغْجَبُوا لھڈ الإنسان, یَنْظريِفَخم وَیَكلم لم وَیَسْمَمٌ بعظھء وَ>ََقَس مِنْ عَرْما انان تب کے قائل ہ ےکہدہ چپ سے د کنا ہے او رگویشت کے لٹھزے سے لا ہےاور یی سے کنا ہے اورایک سودراخ سے ساس تا . ۸ہ انال وادپار دا اقبلّتٍ النيَا عَلَیٰأحَدٍ اَعَارَنة مَحَايِنَ عَيِْه وَإِذَا اذيرَٹ عَنْة سَلبتَةُ جب دنا انی نت کون ےکر کی طرف بای ہے دوسرو کاخ یا بھی اے

مارمتددے٤‏ تی ہاور جب اس سے موڑلق خوداا کی خی با ھی اس سے لق ے

متقصد یہ ےکہجٛن سکابجنت بادد اود دنا ال سے سا گار ہولی سے اور اٹل دما ا کی کارگزار یو کو بڑھائجڑ اک با نکرتے ہیں اوردوسردوں کےکارنا مو ںککاسراچھی اس کے مر بانددد نے ہیں اورشٹس کے پاتھ سے دنا جائی رق ہے اورنحوس تکاگنااس پر چا ای ہے ال کین بیو ںکولظراندازکرد نے ہیں اوھ نے سےگھی ا کا نامز ان بر لا ورای کرت ۔

تن محاشرت

َلبِعُوا لاس مُخَالطَةإِنْ تم مَغَھَا وا عَليْكُمء وَإِن عِشْتُمْ عَنُوا

لوگوں سے اس ط ریت سےموک گرم جات تم پردوجیں اورزندورہونتہارےمتاق ہولں۔-

ہٹس لوگوں کے ساتھ نکی اور اخلا کا بر کرنا ہے لوگ ا سک طرف دست تحاون بڑاتے ال کی عمزت و قیرکرتے اورااس کے مرنے کے بععدائ کی یاد یی س7 نس بہاتے ہیں- ہز اانا نکوچا ہ ےک دو اط رح عرفجاں مر زنگ یکذ ار ک کال ے شگامت پیدانہ ہواورتداں سے یکوکزند کیچ تا اکرا سذ ندگی بل دوسرو لک ہعدددیی عاصل ہواورمرنے کے بھی اے!اجیچھاغطوں میس یادکیاجاۓ-

٭ اپ فوا3 ار

ِ٥ًا‏ قدَرْتَ عَلَیٰ عَدُوَکَ فَاجُعَلِ الَقو عَنَهُ شُكْرألِلقذرَة عَلَيْه,

ٹن پرقابو پا تاس قالد پان ےکاشگرانہ ال لکومعا فکردیناتراروو-

عنووورگز رکال ودی ہوتا ہے جچہاں اتظام قد رت ہواور چہال قررت ای نہہودپال اتقام سے پا جع اٹھا ینا کی مجبورکی کیا نیہ ہوا سے جس پرکائی ففیلت مت یں ہوئی الب قررتو اقرار کے ہوتے ہو ہے فودرکگنزر ےکام لیا فحضیلت انسالی کا جھ ہراور ا دکی ا بش ہوئی نت کے متقابلہبیش اما شر ےکیوک شک رکا زا سکاٹٹنخی ہوتا ےکا نسان ال کے سا نے نز واککمار سے جلھکے جس سےاس کے ول دق وراففت کےاطیف جذ بات پیراہوں گے اور خی فضب ک ےھ کت ہو ے شتلےشھنٹرے پڑجاکھیں گے جس کے براقا مکاکوئی دای بی نہ ر ےگ اکردہ ا ںقوت وفدر تکوفی کی ککام می لان ےکی ججاۓ اپ نے غحضب کےفروکر نے کاذرلیآراردرے۔

(اا ہر ودر ما ۶

َغججر لاس مَنْ عَجرٌ عي اكحسَابِ الاخْوَانء وََعجَزمِنَةمَنْ صَيعمَنْ طفْر يِهينهُم.

لووں یں بت در ماندوددہ ہے جو ای عم مس یھ پھلاگی این لیے نحاص٥‏ لک کے اور اس ےکی ذزیادودر ماندددہ ہے جو پاکرا ےےگھورے_

خل اخلاقی وخندہ پیشای سے دوسرد ںکواپنی رف جذ بک ناادرشی ری ںکلائیا ےئیروں کو پنا کوئی دشوار نیس ےکیوگہ اس کے لیے نہجمانی مخق تکیضردرت اورن دبا کرو کا کی عاجت +وثی ہےاوردوست بنانے کے بعدد وق اورتعلقا کی خوشگوار یکو اتی کنا

اس گی زیادہ سان ہ ےکیوکہدوقی پیداکرنے کے لے پگ ربھی نہ یجرنا تا ےگمر اسے ہاقی ر نے کے لے کوئی ہم سرک نی پڑئیل زان ای چز بھی گہداشت ش کر سے جےصرف پیشالی کی سلوئش دورکر کے باقی رکھا جاسکتا ہے اس سے ذزیادہ عاجمز ود مان کون ہوکنا ہے مقصد یہ ےکہازنسا نک ہرایک سے خوش نی وندوروئی سے ٹین ی1ا جاہے تا لیگ اس سے واششگی چا ہیں اورا کی د کی طرف ات بڑھائمیں- ۱ یل ہے 1

ِذًا وَصَلَث الَيْكُمْ اَطرَاف الم فَلاَنتفرُوا اَقصَامًا بقل الشُکُر۔

جب ہیں تھوڑی بہتاتتتیں حاصل ہوں نز ناشکری ے نہیں اپ نے کک کے سے پیل بوگاضدد

۳اچ اپنے اور بیانے من صَعة اقب اع له اھ ےت رج جھوڑدیں اسے بیانےل جاکیں گے . اجتلا ۓ فقمر

ما کل مَفیون یُھاقب. پرفننیٹ پڑ جانے والاقائل خابکڑل ھتا.

2-9 وقاض, مر این مسلہاورعبدرانشدای نعمرنے اصحا بجمل کے مقابلہ مل پکاساتدد ہے سے اڈکا کیا ق اس موںع پر جملیفر بای مطلب ہہ ےک بیلوگ وس ابے تحرف ہپ ے ہیں کرالن بر شرمیرییابا تکا پواٹ ہوتا ہے اورشدالن پ مر 2ء7

خابت ہولی ے

۵ا چا مرگ ءا 1 َو اور لِلقَِئرِء عَنّٰ ون الع فی ایر حا لے تی کے1 گے رکگوں میں پا ں تک زییھی نون ورس ممیت ہوجالی ہے.

خضاب

عن قول الرسولص:غَرُو الشیْبَ وَلأتعَيُهُوا بالیهُود)ء فَقَالّ نما قَالَ صلی اللّهُعَلِیه وَالہ وَمَلَم ذلِک وََلدیْْ قُلُء فاما ای وَقّد الْسَمَ اه وَضرّب بجِرَانهء فَامْرُو وَمَا اختاز

مکی اش علی د1 لی مکی حدیث کے کی کہ ڑا ےکوخضاب کے ذر لہ بدل دو اور ود سے ما بہت اخختیار شرگروءآ پ علیہ العلام سے سوا لکیاگیا فآ پ علیرالسلام نے فرما چٹ لی الشعلیہ لہ یلم نے بہاس موںع کے لے فرمایاتھا. جج بکرد ین وان ےکم تھے ادراب جب کہا ںادان پیل کا ےا کی ککرجم کا ےو ہن کو اخیارے۔

مقصصد یہ ےکہ چون ابترائۓ الام می مسلمافو لکی تدادک نی اس لی ضرور تہج یک ملمائو ںکی بیائتی حشی تکو برقراز رن کے لیے انی بیبددوں سے متا رکھا جائۓے لیے ححضرت سے خضا بکاعم دیاکہ جیب وداوای کے پا مسوم نیس سے اس کے علادہ مقصید بھی ت اک دو وشن کے متقا ہہ ضسعیف دن رسیدہدکھائی رد بیی.

ڈڑےاپ نی رجانبداری فی الذین اعتزلوا القتال معہ: خلَلوا الَْقٌ وَلُمْیتْضُرُوا البَاطِل. النالوکوں کے بارے می لک جھآپ کے ہمراہہوکرلڑنے سےکنار وک رے. فیا اانلوگوں نے نکوئھوڈدیااور ہا لکیبھی نصر تی ںکا. یر ارشمادان لوگوں کے تی ہے جو ا ےکوغی رجاخبدار اہ رکرتے تے جیسے عمبداوٹداین عمررسعدابن لی وقاض :الو موی اشترىی ءاضف ای ن ٹیس اورالنس این مالک دظیرہ. پیک ان لوگوں نگ لک باط لک ای تنمی لک ارت کانضرت ے ‏ تا ٹھالینا بھی ایک طرح سے پا لکوت یت بچیانا سے اس لے ا نکاشا اشن کےگر دہ بی یل ہوگا۔ ۸ای امیر :7 جس ام یی وش شی کا نر وت ٣رت‏ ساکراجاڑے۔ اپ ال مرت پامردت لوگو ںکیلنغززشوں سے درک رکر ران یل ے چویھ اخ لک اک رکرتا سے اراس کے پان بی پاتھھ در ےک راس اوپراٹ الا ے-

اپوشم دحاء ُرِنّتِ الب بِالْحََْةہ وَالْحَیاء بالْجزمَانِ وَالْقْرصَةُتَمْرمَوَالسُحَابء خوفکانتی نا کائی او رش مکانتیجردیی ہے او رفرص تک یگھڑیاں ت زدوا کی طرںںگزر

اتی ہیں لہا لاگی کے لے ہوے موقتو ںکے ایت جانو عوام می ایک چززخوا وی دی محیوب خیا لکی جا اقآ میزنروں سے جیھی جائے اگر اس می کوک دای ینیل یقاس ےش ینا سراسرنادای ‏ ےکیون ہا کیج ےاکٹران چزوں ےےہحروم ون پڑت ہے جود نیا دہ خر تک یکامیابیوں او رکا مرانو لک باعت ہولی ہیں یےکول 29 اس خیال سک لوگ اے جابل تصورکر بی گ ےکا اہم اوربضردری بات کے ددیاف تکرنے ٹل او ںکر ےو یہ بے موق و ٹل خودداری اس کے لیعلم دداْش ےٹحروئ یکا سبب بن جائۓے گی اس لی ےکوکی ہوشمندانسان یھ اوردر اف تکر نے ٹس عا ری سو نکر ےگا. چنا غچ ای ککن سپٹ کہ جو بڑھا ہے کے پاوجو تی لعل مکرتاتھاکہاکیاہکہ ماتستحی ان تتعلم علی کیو شھمیں بڑھاپے شس پڑ ھت بہوئے ش من سآ لی لی نے جواب می ںکہاکہ انالا استحی من الجھل علىی الکبر فکیف استحی من التعلم علی الکبر جب گے بڑماپےٹٹل جہاات سےشرم ئن آئ ناس بڑھاپے میں پڑ نے ےش کی ےآ تی ہے .الہ جن چیزوں ں اتی برائی اورمفسدہ ہوان کے ارجاب سے ش رم سو لکرنا انسا یت اورش راف تکا ج ہر ہے جیلے وہ اعمال نا شا ئک تک جویشر یشل اور مہب واخلا قکی رد سے نرعوم ہیں . ہہرحالل اکی مجہ ی ضف اوردوسریضھرتسن ہے .چنا خج نہ راکرمکا ارشاد ہے .جیا د ہیں ہیں ایک دہ جو جاضاۓے عق ہوتی .رہ اعم دداناکی ہے . اورایک دہ جواقت ک ےشیش ہولی ہے بیس راس یتیل ونا دای

سے

0

٢ت‏ دی

نا حَقٌّء فّإِْ اَغَطِيَ٥ء‏ َال رَکيتّا اَعَجَاز الابلِء وَإِن طَالَ السُرَئٰ.

ہتارا لیکن ےار ووجیں دیاگیا وم نےلیس کے ور ہکم اوٹف کے کے دا نے پچھوں پٍوارہول گے اکر شب روکی لو یل ہو

سیدہینیافر مات می ںکہی بہت ہدواو رس کلام ہے ا کا مطلب بی ہےک۔اگریں جعاراضق شدد گیا ذلیل وخوا رھ جاتیں کے اورمطلب اس طر متا ےکراونف کے جچجیچے کے حصہ پرددیف ب نکرغلاماورقییی یا حم کےلوگ بی سوارہو اکر تے جے

سیدرشی علیرال رت ےت مرک رت یکا اتصل یر ےک حخرتف مانا جات ہی ںک اگ مارے تن اک جوامام مفترض الطاعتد ہون ےکی حثیت سے دوسروں بر واجب سے اق رارکرلیاگیا اور “ہیں ظاہری خلا ف تک موتحع دیامگمیاف ہہت ور یں ہرطر حک مشقتوں اورخوار لو ںکوبرداشت کرناپڑ ےگا اود ہم اہ تیروت لی لکی حالت می زندگ یکا ایک ول عرصیگز ار نے پرجیورہول 2

بس شانشین نے اس می کےعلادہاورٹ یپھ یتس کے ہیں .اوردہمیہکہاگریئی جمارے مض ےگ راکراویف کے پپھے پرسوارہوتاہے دہ گے ہوا ہے اورانن نے ىیہعفی کے ہی ںک گر ارات دے دیامگیانة جم اسے لے لیس گے او راگ تددیا گی اس سوا ری ما رنہ ہو گے جواپٹ ار یگ پگ ذوصرے کے تھی دے دا ےکزدہ درا سے لے جانا چا بج ئے جائے . لکہاپنے مطال ہت پر برقرادر ہیں کے خواہ رت دداز رکیوں شگزد جا اودیی اپ ےت سے قب ردارہ وک رخ بکرنے والوں کے سا نے لیم شک کی گے۔

٢٢‏ پیل اورنب جضے اس کےاعمال جییئے بٹادریں ا ےتسب ضب1 گ ایس بڑھاسکتا. ۳ دگیری مِن کَفارَاتِ الذُنُوب العِکَمَإِفَاَۂ الْملمُوفِء وَالتّفِیْسُ عَنْ الْمَکگرُوب. سی مطر بکی داوفریادسفزا اورمحیبت زدءکومصیبت سے پھلگا رادلانابڑے بڑے گنا ہو ںکاکغاردے۔

ہلت

ہے یں 27 ری مج يَایْنَ آدَمء إِذّا رَأَیّتَ رَبُک سُبْحَانَه یَُابع عَلَیْک َعَمَة وَاَنَتَ تَتُصِیْہ فَاخذَرةُ,

آاےا دم علی السلام کے بے جب اذ در ےکر الد تھے ید لت دےر ا اور نذا کی ناف مال یکر ہاہے تال سےڈرتے رہنا۔

ج بکیکوگناہول کے باوجود پے در انیس حاصل ہورہی ہول و وو اس شایڈٹی می جتلا بوجاتا ‏ ےکمرایداسل سے خویش سے اور با لکی خوشنودیی وط رک کا نیہ سے عا لامک یڑ توں یں زادئی شکرگز ار یکیصورت میں ہولی سےاورناشکرىی کےنتہمی نت ںکا سکع ہوجا تا ے اک اٹ اکا ارشاد ےاگرقم نے شک کیا تی س ہیں اورزیاد نیس دو ںگااو لگ :اشک ری کی تچ ریادرکھ وک میراعذ ا بجخت عذاب سے لہ احصیان دناسپاس یک اصورت میں برابنھمتوں

کا ملزا ا کی خوشنودیی ورضا مند یکاخ دیس ہوسکن اورضہ کہا جاسکتا ےکہ اد نے ال صورت ا یں در ےکرشوہہ می ڈال دیا ےک دنت کی فراوا یکوا سک خوشفودیکاشمرہ یھ کیوککہ جب دوب بجر ہا ے کردہ خطا کار عاصی سے او رگن ہکوگناہ اور برا کو برائ یب گرا ںکا مرکب ہور پا ےا اشتیا ہک یکیاوج ہک ددالش کی خوشنودیی ورضا ند یکا تقو رکرے بللراے ‏ ےجھنا جا بےکہ مرا ک لیر ک1 ز ان اورجلت اک جب ا لکطفیالی دس رت ان اون جاۓے

یب

تق اسے دفھ اگرفت بیس لےلیاجاۓ لہ ای صورت بس ا سے تظردہنا چا ےک یرکب اک پھ غحضب لی ککاورود ہواور یں اس سے چشین لی جایں اورجردی ونام راد یک یکقة بتوں مل ازے لیا جا ۓ ۔ ۱۵پ بات جیپ اق

مَا اَضْمَرَأَحَد فَيْتَا ِلّ هر فی قَلمَاتِ لِسَانهہ وَصَفْعَاتِ وَجُھو.

جم کین بھ یکوکی بات دل میس پچھ اکم رکنا اہی دہ ا کی زبان سے بے ساخن کے ہوے انا اور رہ کے خارےنمایال ضرورہوجالیٰ ے.

انان جن بات ںکودوسروں سے پچپانا اتا , وہک سی وقت زبان ےئن ہی جائی ہیں

اور چھپان کیکیشش ناکم ہوکردہ جاتی ہے ,وج یہ ےک عق لخصصلحت اندلیل اکر چ ئل پپشیدہ کنا جا ہی ےگ ربج کسی اورابم محاملہمی اب ےکرادھرسے خائل ہو ای ہے اوروہ بےاختیالفظوں کیصورت می ز بالن ےئل جائی ہیں اور ج پپتفل ملتقت ہولی اذ تیرارکمان جت وائیک پلنایا یں چا سکنااوراگر ریصورت یھی ٹین ی1 ے اورنضل پور ےطور سے تفبروہوشیارر ےج بگگا دہ سید ہیں رک ں بط 2 ے کےےےخوال نی تقورات کےا زاون یکیفیات ک ےآ داز ہدت ہیں چنا نچ چر ےکی سرتی ےش من دک یکااورزردی تو فکا لی ئل متا .

٦‏ ۳ہ امت نک ڑو

ھرتس میس ج بتک مت ساتھدے حلت رت رہو۔

0 0" ضدیا چا ےکگامیت دیے ےطریحت اصسا مرن سےمتاٹ ہوک راس کے اضافہکاباعث ہو چایاکرکی ہے .اس لیے جیلتے رتے رہنا اوراپۓے کویحعت من رتو رکر اتیل مرن کے علاوہطبیعت ٣‏ و ہون ےکی دیتااورال ںکیقوت ممنو یکو برق راررکتا ہے اورقوت ممنوکی بچھو ئے مو ٹے مرش کوخودہی دہایاکرگی سے بش لیک رتس کے وہ میں بت ہوک را سے سپ ران داضت ہونے پریجیورشرکردیاجاۓ-

پڑے ٢‏ اخاۓزہ

افْضَل الھد فا الو شی :بر زبد زہ کان رکناے.

اوت

اذا کُنْتَ فی َء وَالمَوث فی اَل فَمَا اَسْرَ الْملتقَٰا

جبم دنا اکو یٹم دکھار ہے ہواورموتتہا ری ط رف رر کجۓ ہوۓ بڑبورتی جو لا قات یس دی ؟

۲۹پ رد گی

اَلْحَذَر الْحَذَرَا قوَالله قد سَترَء تی کَائَه قد عَفَر

ڈرو ڈرو !ال یندا ای نے ال دنک تہاری پردہ پٹ یکا ےکیگد ہیں نے

۰پ ایمان

وسُیِلٌ عَن الَایْمَانء فَقَال:الَایْمَا عَلیٰ ابع فَعَائِم : عَلیٰ الضُبرٍء فی وَالفڈلِء وَالَجھاد وَالصْبْرُبنَّا علیٰ تع شَّبٍ: لی الشُوْقِ, وَالشُفَقِء وَالرُهْیِء وَالرَقٍّ: فمَ اشَْاق لی املع القّهَوَاتِ وَمَیْاَفْفَق مِنْ النَار اَمُتنْبَ الْمُعَرَمَاتِء وَمَنْ زَمة فی لن اسمهَانَ ِالمَصِيَاتِ, وَمَي اَرنَقبَ المَوْتٌ سَارع الَیٰ الَيرَاتِ.

الین بنا غلیٰارتج فُعقبِ: علیٰ تبصرَة البشَْة رَتزِْ الِْکُمَة وَمَْعِة اليرَة, وَمْنةَالَوَِيَْء فمنْ سر فی الدطََةتَََِت لَه الَْکَمَة رَمنْ بت لَه الْحَكُمَة عَرَف اْيْرَ وَمَنْ عرّف الْبْرَة لَكَانمَا کان فی ألاوَلِیْنَ.

وَانْعَدلْ مِنھَا عَلیٰ ازع شُعَبٍ: عَلیٰ غائص الْقهُم وَغَورِ الله وَزمْرَة لمکم وَرَسَخَو الجلم: فَمنْ قهھمْ علم َورَالیلمء وَمَْ عَلم عَورَليم صَرَ َْ شَرائع لحم وَمَنْ عَلملم رط فی ارہ وَعَاشٔ فی الا حَميًَّا.

وَالجھَاد مِنْهَاغَلیٰ ازع شُعَبٍ: عَلَیٰ مر بالمَمْرُوفہ وَالَهٔي عَنِ الشگرء وَالصٌذقِ فی المَوَاطيٍ وَمَسَانِ لَقَاِقِیِیَ: َمْأَرَبالَرُوفِ فَد یور الْمُوِیَْ رَمَْ تن المُنگوأَزعَم آلوف الگافِرِينَ وَمنْ تق فی المَوَاطِنَ قَسَیٰ ما عَليٰء ومن هَْ الین رَغَضِب الہ غَجضِب الله رَآَرصهيَوم ايند

حخرت علیہ السلام ے ایمان ک کتحلق سوا لکیامگیا نآ پ نے فرمایا :ایان چار سونوں پرائم ہے . صبر لین ہعدل اور چہاد .کس برکی ار شاشیس ہیں . اشتاقی ‏ توف

ددنیا سے بے اعقتناکی اوراضنظار۔اس لی ےکہجو جن تکا ماق بہوگا دا جوا ہتو ںکوبھلا رے گا او دز ےو فک کھا ےگا دوخ مات ےکناز شیک ےکا او جات تے نے اقناکی اخقیارکر ےگا ورمحیببمو ںکو ہل ےکا اور سے مو تکا اتنظار ہوگادہ تی ککاموں جلد یکر ےگا اور شی نکی بھی ار شائیس ہیں ردشن ڈگاہی :تیققت ری ہبرت اندوزی اوراگو ںکا طورط پچ ۔ چنا مہ جو افش د1 گی حاص٥‏ لکر ےگا اس کےسا نیلم و تل کی رایں دان ہو جا تی ںی اورجنس کے لع و لک شکارہو جات ۓےگا وورت رے آ شنا ہوگادداییا ے جیے دہ پیل لوکوں می موجودر اہو

اورعد لک یبھی چا رشایس ہیں تہوں کک کے ولیک راویھ یکپ رائی اور فیصلہکی خو لی اون نکی پاتوداریی. چنا نجس نے وروگ رکیا دی م یگہرائیوں یل اترادہفیصلہ سے مم جتھوں سےسبراب ہوکر پل اور نےعلم و برد بای اخقیا ری ا نے اپے معاملات می کول یکی نی سکی اودلوگوں میس کیک ام ر رذ نی اسرکی اود چہا دی یبھی چا رش انیس ہیں ام پالعروف یمن امگر قمام صوقحوں پر راس تگغتارکی اور برگرداروں ےظرت .چنا ننس نے ام بالمعرو فکیاااس نے مو نکی یشت مو مکی اور٘س نے نیشن نکاس ن ےکافرو ںکو زی ليکیاادرینس نے تھا موقعول پر ہے بولا ال نے اپنافزنل اداکمردیا اورجن نے فاس تو ںکو برا مھا اورال کے لے خحضن اک ہوا یھی اس کے لے دوسروںل بح ناک ہوگا اور قیاممت کے دن ا کاخ یککاسا ما نکر ےگا-

۳ب کفر َالكُفرُعَلیٰ اَرَع مَعایم: عَلَیٰ الَمُقي وَالسَارعء وَالرْغء وَالشُقَاق. قَمَیْ تَعَمُق لم ِب لی الَق_وَمَنْ گَتْرَ راغ ۂ بِالْجَهُلِ ذامْعَمَاۂ عنِ الحَيٌ وَمَنْ رَاغ سَاءَ ث عِنْلۂ الْحَسَتَةُہ وَحَسُنَثُ عِْلۂ السيْنَلہ وَمَکر کُر الصلال وَمَنْ شَاق وَغرّث عَلَيْه رق وَاَصَلِ عَلَيْه امرٰهہ وَضاق عَلَيه مَخْرَجْة وَالفُکُ علیٰ ازقع شب :غلیٰ النّمَارِیء وَالفوْلِء وَالَرَڈُدِ وَالایسُلام فَمَنْ جَعَل الْمرَاء فیَْاردی لم يُصِح ليَهَُوَمَْقَالهبَینَ کفرچھی پارستونوں پبقائم ہے . عد سے بڑھی ہوگیکاوش :چنال سن رک رو اور اتلاف جونے ج اتی وکا تا ے دی گی رف رج یں ہوتااورجھ چہال تک وب ےآ ۓ دن مجنھڑےکرتا ہے دو سے پبیشاندھار تا ہے اور جو سے مم وڑ لیتا ہے دہ اسچھائ یکو برائی اود برا یکواسچھاک یکنا ہے اورگراہی کے نشہمیں مرہوش پڈارہتا ہاور جو نکی خلاف درز کرت ہے اس کے رات بہت دشواراوراس کے موا ملا تخت دہ ہوجاتے ہیں اورپ نکی راہاس کے لیگ ہوجالی سے ش ککیبھی چار شائیس ہیں بک ئتی خوف مرگردانی اود پل کے آ گے ہیں سای چنانیٹنس نے لڑائی کڑ ۓکوشمید:بالیا ا سک رات گا سے ”مکنا ری وت اور جم سکوساست کی چززوں نے ہہول میں ڈال دیادہ ال پیر لٹ جانا سے اور جک دشہہ

مرا ن چا ہے اسے شیا ین اپنے ہیں ے روندڈا لئ ہیں اوس نے دئیاو آخر تک مای کے1 گے لیگ مکردیا. دددوچہاں یں تباودریادہوا- (۳۲ پ یی وبری تی ککا مکرنے والاخودال ںکام سے بہت راور برائ یکا مرنگب ہونے والاخودای برا ے بلڑے۔ ۳٣ (‏ میا ضردی کُنْ سَمخا وَلاَتگن مَُذرأء وَكکُنْ مُقدُراوَلا تک مُقترا. سخاو تگر وک نفضو لق تی شیک رواورجتزر یک روگ رین یں . ۳۴ر کآرزو ضرف الفقَٰ تزک المتی . مہ رین دولت مندکی ىر ےکیتحنا لکور ککرے. ٣۵‏ ینان مر مَيْاَسْوَعاِلَیٰ الس بِمَا يكرَهُوَء لوا فی بِمَالايِعْلَمُونَ. نٹ لوکوں کے ار ے یس جپنٹ سے الک بات سکہددیتا سے جو انیس اگوار گزد سو بچردوااس کے لے ای بات ں کک ہی ںک ہچ تی دو جات نہیں .

مَنْ أَطَال الأَمَلاَسَاء الْعَمَل, جس نے طولطو یل امیر بی با نیس اس نے اپ اعمال لگا ڑ لیے . کی 1 وقد لقیه عند مسیرہ الی الشام دھا قین الانبارء فترجلوا له واشتدوا ہین یدیهء فقال : ما هذا الذی صنعتموہ؟ فقالوا: خلق منا نعظم بە امراء نا۔ فقال: واللەماینتفع بھذا امرا وکم! وانکم لتشقون علی انفسکم فیىدنیاکمء وتشقون بە فی آخرتکمء وما احسر المشقة وراء ھا العقابء واربح الدعة معھا الامان من النار! امر اون علی اللام سے شا مکی جانب روانہ ہو تے وقت مقام انبار کے زیندارو کا سا منا ہوا تذ وآ پکو دک ےکر پیادہ ہو گئے اورآپ کے سام دوڑنے گے کپ نے فرما اقم نےکیاکیا؟ ان پوں ن ےکہاکہ می جھاراعامطر ایقہ ہے . یی سے جم ہے مرو ںکی تم بچالا بہیں مآ پ نے ایا :خدا ضحم ہار حکررانو ںکو چوکھی ذائد نیس پت لتقم اس دالس ا ےکوزحمت ومشنقت می ڈا لے ہواور خر ت میں ا سکی وبرے بیشقی مول لت ود مق کن یگھاے والی ہے جس کا مزا اشروکی ہواوردوراح تی فاحدومند ےج٣‏ امت دوزحخ سے امالن ہو- ۳۸ب اما میرحت

لابدە الحسن:َابَُیٗء احفظ عَنّی َریَغاء وَاَربَعَاء لأيَضَرُک مَا عَمِلّتَ

مَعَهُنْ: اِو اَغَْیٰ العَيٍیٰ العَقْلْء وَآَكبَر الْفقر الْحُمُیُء واوْحش الْوَحْمَةِ ا بُتَي ِهاک وَمْصافقة الَحْمَقء فَإلنهيرِية ا یََْعَکَ فیَسرِک َابُاک وَمُصَادَقَة الیل فَإلَهيَقمّةعَنْک اَخْوَج ما کون اِلیه: وَإِبَاک وَمصَاهَقَة الْفَاجرء فَإلنيَيیُْک بِالْتَافہا وَاِاک وَمُصَاءَقَة الْگذٌابء فَنَهُ ان فرزنتخرت سن علیہ السلام سےفر مایا :ہھ سے پاراور پھر جار پاٹ یادرکھو .ان کے ہوتے ہوتے جھ کرد کے وو یں ضررنہ ہیا ےگا۔ سب سے بک ثروت ین ال ہے اور سب سے بڑی ناداری حعات نے نی ے اورسبپجے ولگ وحضتنرورخود نی سے اورسب سے بڑاج ہر ذالی سن اخلاتی ے. اے فرزند قوف سے دوقی نہکرنا کیوکہ و ونھمیں فائدہ پان جا ےگا نز نتصان پا ےگا. اورکل سے دذقی شکمناکیونکہ جب "ہیں ال کی مددکی انی ایا ہوگی دہ تم سے دور بھا گ ےگا اور برکردار سے دوقی نرک رنا ہی ںکوڑیوں کے مول چے ڈا لگا اور گول سے دق شک ناکود ہسراب کے مانندہارے لیے دورکی نزو ںاوقریب اور تر بک نزو ںکودو رک کے دکھا ےگا

.۳۹ پف راک کی امیت لا قرَة النَّافلِ اذا اَضَرّت بالْقرَائِضِ۔ مات ہے قرب الین عاصل یتاج ب کرد دداجیات من سدراووون.

۳ پراناوناران لسَان اْعَاقلِ وَرَاءقلْهٰء وَقَلبْ اَّ عَمَق وَرَاءَلِسَايه۔ عل مندک ز بان اس کے دل کے چیہ ہے اور بیو فکقادل ال کی ز بان کے چیہ سے ہپ عائل داتق وقد روی عنه ھذا المعنی بلفظ آخرء وھو قولھ:قّلّبْ الَحْمَقِ فی فِبء وَلِسَانٌالَْاقلِ فی قَلبٰءومعنا ھما واحد. بی مطلب دوس رےاغوں می بھی ححضرت سے مرو ہے اوردہ لے وو فکادل 221 ے اورعمندکی زان اس کے ول می سے ببرحال ان دونوں جھلو ںکا متصدایک ے ۴ از دی لبعض اصحابه فی علة اعتلھا:جَعَل اللّهُمَا كَانّ مِنْ شَکكْوَاکَ عَطا لِسَُمَايَک فا المَرَض لأَآَجْر فی وَلکَهيَخط السيَاتِ رَيُنّهَا عتٌ الْوْرَق. وَإنمَ ال جُرُ فی القوْلِ باللَانء وَالعَملِ بالیدِی وَلاقدام, وَاِنٗ ال مُْحَانَۂ یل بصذقِ ال وَالسْرِرَة الصَالَِة من یمَاءُمنْ عبادہ اپنے ایک سای سے اہ لگا نار کی عالت شی فرمایا .اب نے تمہارے مت کو تار ےگا ہو ںکودو رک رکا ذ رای قراردیا ےکیون خو دم کاکوک نوا ب کیل گر د گنا ہو ںکومٹا تا اورآئجیل ال رح چھاڑ دیتا ہے جس ط رح درشت سے نے ججثرتے

یں ہا و اب اس شس ہوتا ہ ےک مھ ذبالن س ےکہاجائۓ اور ہگ پاتھ پیرول س ےکیا جاۓ اورخداون عا م اپنے بنروں یل سے کیک میق اود پاکرائ یک وج ے تے چابتا سے ججنت می داش لکرتا ے_۔ ۳۳٣‏ بی ضباب امن ارت

فی ذکر خباب بن الارت:

يَرْعَمُ اللهُعَبَابَ بُی ارت فَلقَد اسم رَاِبًاء وَمَاجَر امہ رَقَمَ بالگفَافِ وَرَضضیَ عَن اللہ وَعَاش مُجَامداً.

باب امن ارت کے بارے ٹل فرمایا. خداخباب ائن ارت پررمت إِبغائل عال فرمائۓ دو اپنی رضا مندیی سے اسلام لا اورنوگی اجثر تکی اورضرور تل رققا ح تک اورا تھا لی کےفیملوں پرداضی ر ہےاوریھاہراضشان سذ نکی صرکی-

فرت شاب ابین ارت پٹ رکیل الق مال اورمہا جب اوشن بش سے تھے .انہوں نے قرلیش کے پاتھوں طرع طر کی یمیس اٹھاتمیں . چلچلاتی دعوپ مم سکھڑے کے گے گ پلڑاۓ گے . گی طرع مقب راک مدان پچھوڑنگوارا ہکیا. بدداوردبصرےمعرکولں ٹس رسالت ماب کے ہمریکاب ر سے صفین ونجروان یس امی امن علیہ السلا مکا ساتھ دیا مد ینوک رکوف ریونت انارک لاح . چنا یں بر 73 بی کیرٹ 39 ججری ٹش اتال ف مایا نماز جناز دامی نین علیہ السلام نے بڑھائی اور ہرد نکوفہشن ہو اورتحضرت نے لمات تو ال ناک تیرب رکعڑے ہوکرفرمائۓ۔

۲۳پ قائل مبارکباد ۱ طُوبّی لِمَنْ دُگر المَعَاء وَعَملَ لِلْحِسَاب, وَقَم بالكفَافء وَرَضِیٗ عَنِ الله وا تیب اس کے جشسس نے خر تکو یادرکھا ناب تاب کے لیگ لکیا ضرور ت برا حع تکی اورایٹ سے راصمی وخوشتور ا_ ۵ ,ےم وی ومنا تن لو ضَرَبْث عَیْمُومَالمُوْمن بِسَفٰي ھذًا عَلَیٰ ان بْغِصَیٍی مَا ابَْصَنی: وَلَوْ صَبَبّےُ الڈَيا ِجَمّاتھَا عَلیٰ المَافق عَلیٰ ان یُسبّبی مَا اَحَبّبی وڈلک َنَه فُضِیٗفَاثقَضَیٰ عَلّیٰلِسَان اہی الم صَلّی الله عَليه َآِہوَمَلمَ: انه این من کی ناک بیکواری لاو ںکددہ بچھے دن ر ےت ج بکھی وو رے وشن ی نکر ےگااوراگرقاممتاغ دنا کاف ر کے1 کے ڈعی کر دو ںکہوہ جھے دوست ر کے بھی دہ یھ دوست ضر گا اس لیک مدوفیصلہ ہے جو یٹ ہرائیسلی ال علیہ ول ہ2ل مک زان سے گیا ےکآ پ نے فر ایا ا ےکی علیالسلامہکوئی من تم سے نی نر ےگا اورکوئی منا نتم عبت :کر ےگا- (٦))ورپنری‏

ووکناء یش سکا نہیں رر ہوا کے نز یک ا بی ےکی اسچھا ہے ج ہیں خودپبند

با نشۓ.

وٹ ارجا بگناء کے بعرنرامت و لی نمو کر اورال کی بارگاہ ورک رے وہ گنا ہک یعقزیت سےتفوظط اورت یہ کےا بکاشن ہوتا سے اور ج کی مل با لانے کے بعد دفیردں کے ما یش پت یچ نو ںکرحاہےادداپی گا کمن ڈکرتے ہد ےب تتاجےکراب اس کے لکول یبھڈکانییں دہ ابی مگ یکو بر باوکرد تا ہے اون نہمل کےٹو اب ےمحردم رہتا ہے . ظاہر ےک جو یہ سے محصیت کے وا غکوصا فک چنکا مود اس سے بہت رہوگا ج اپنے خرور گاج ےاپنے کک را ۓےکوضائ کم کا ہواود نہ کٹ اب سےجھی ا کا دالن می ہو

ڑ٥‏ ارد تا نان

قَدر الرّجْلِ عَلَیٰ قُڈرِ همیء وَصِدقّه عَلَیٰ قڈرِ مُرُوءَهءوَشَجَاعَتْةُعَلیٰ

انا نکی جشئی ہمت ہو اتی بی ا کی قرو قجت ہے اورجشفی مردت اور جواخردی ہوگی ای ھی راس تکوئی ہی اوری فی حمیت وشودداری ہوگی ای بی شیاعت ہہوگی اورشأنی قرعظگظفا اگ

۸پ تر

الْفَربالْعَزُمء وَالْحَزْمْباِجَال الراء وَالرٌایٔ بتَحْصِيْن اَسْرَار

کامیالی دودران کی سے وابست سے اور دوراند ینکر وت برکوکام ٹس لانے سے اور یرد ں۷ا چیا 091

۹پ شریف ورذ یل َخْذَرُوا صَوْلَة الْگریٔم إِذَا جع وَاللیم إِذًا شَبع. کش ریف اور پھر ےکن کےتھملرے ڈرتے رہ . مطلب یہ ےکہ باعزت و بادقا ردب بھی ذات وف نگواراننی کرتااگمر ا سک عزت و وقار رما ہوگا فدہ مھ کےے شی رکی طر جیٹے گا اورذا تکی زمیرو کون ڑکر رک ےگا اوراگر ذ یل وک مر فکوا سکی حشیت ے بڑھادیاجا ےگا نذا لکاطرف چک ا ےگا اوردد ا ےکو بلنرم رتخا لکرتے ہد دوسروں کے وقار یھ لآ ورہوگا. (۵۰)رل رعقت پنر قرب الرَجَالِ وَخفِيّةہ فَمنْمَالَهَا اقبّٹ عَليهِ. لوگوں کے دلبجھرائی جاور ہیں کہا نکوسدحا ےگا ا سکی طر جھییں کے_ اس قول سے ا س نظ کی تا ئی ہوئی ےک انساٹی قلوب اصل فطرت کے لابا سے وعشت پندوائ ہو ہیں اوران مب اس دحب ت کا جذ ایک اکسسالی حجذبہ ہے .چنامجہ جب الو محبت کے ددا گی واسباب پیدا وت میں نے دہ مانوس ہو جاتے ہیں اور جب اس کے دوائ یتح

ہوجاتے ہیں مااسل کے خلا فنفرت کے جذ بات پبیدا ہو تے ہیں وحضش تکی طر فگودکرجاۓ ہیں اوریھ رید یمشئل ۔ےححب تک راہ برگا رن ہو ہیں۔- ۵۱پ خوش یک مَستورٌمَا اَمْعَذک ججڈک. جب ککتمارےتھیپ یاور ہیں تمہارےعیب ڈ جک ہوۓے آلنا

۵۴ پکفووورگزر آؤلیٰ لاس بالْفو رم عَلیٰ الْقّوبَةٍ معا فکرنا سب سےزیادہ اس ز یب د تاس جس زاد تن پرقادری. ۱۳ھ ہے ناوت کے می المَّعَاءُ مَا کَانَ اَبيِدَا٤:‏ فَأمَّا مَا کان عَنْ مَسْأَلة فْعَيَاء وَتَلمُم سفادت دہ ہے جو بن ماگے ہواور ما گے سد ینا باشرم ہے با کی سے بنا۔ ۵۰پ چنرنیں لاغتی کَالْعَقْلِ: وَافَقَرَ كَالْجَھْلِ: وَلامِیْرَاتَ کالدب: وَلاظھیْرَ كَالْمُمَاوَرَۃ 2 ۴ 6 ٰ9 سے بڑ وک رکوئی میرار ٹنیس اورمشورہ سے زیادہکوکی سن ود دک رکیل . ۵۵پ بی د یں الصّبْرُ صَبْان: صَيْرعَلَیٰ مَا تگوَۂء وَصَبْرعَمًا تَجبٌ. صبردوط رکا ہوتا ہے ایک ناگوارباقول پضبراورددسرے پیند ید ول ےت ر. ۵۷ فقرغن الفَّیٰ فی الْهرََة وََنْء وَالْمقر فی الّوطنِ غَربَةٌ دوات ہوف پر ولیس می بھی ولی ہے اوزغلسی ہو ولیس می بھی پر دیس

اعت وہس مایہ سے ج زغم نہیں ہا

علامریشی فر مات ہی ںکہبیکلا مین اکر مکی او علی ہد لہ یلم سےکچھیا مردیاہے.

اع تکا مفہوم یہ ےکہ انا نکو جوم ہوا پرخوش وخ رہے او رکم لے پرکبیرہ خاطرد شاکی نہ ہواوراگ رتھوڑے رسک کڑیں ہوگا نے رشوت , خیاعت اورنروفرجب ایی ےرات اخاّ کے ذر بی راپنے دان تو لکوگھرن ےک یکوشت کر ےگا ؛کیونک تی کا تقاضا تی یہ ہے جن رر بن بڑےخواہشا تکوپوداکیا جائے اوران خواہشا تکا سلس یل پر رکےنی پا تا کین ایک خواہن کا ور ہونا دوسریی خواش لک یہی جن جایاکرتا ہے اورججوں جول انسا نکی خوابش کا مال ی سے ہمکنارہوتی سےا لک اعقیاع یق ہی جاتی ہے اس لےبھی تی دبےےافمینافی بات صلی ںکرسکتا اگ راس بوصتی ہوک خواہ کور وکا سکم ذو مصرف قاعت سک جو گے ضردراں کے علادہ برضرورت سے سصعػی بناد بت ہے اور لا دال سربابہ سے جو ہمیشہ کے لیے فارالبا ل/دیتاے۔

۸ء ال ودوات الْمَالُ مَاَّة الحْھُوَاتٍ. ما لٰففاانی خواہشو ںکاسرنمرے. ۵۹پ ناک ایال مَيْ عَذرک کَمَنْ بُشرک.

یرائوں توف ولا قئۓ دچچھارے لے دہ ستائے وا نے کے مانکرے۔

پ۹۰ با نک دنگ اسان سَٔعء ان عَلَی عَنةُعَقَ. زان ایگ الییادرندہ ےک گرا گلا مچھوڑدیا جا ےذ پا ڑکما ظا کور ت ای ککچھدے الْمَرْأَهُ غَقْرَبَ خُلوٰة اللسْبَة عورت ایک ایا کچھو ےجس کے ینمی بھی مرہآ تا سے . ج(۹۲)٭ اصا نکابرلہ ِا حیتَ بِمَحِیّة فَحَیٗ بأَحْسَنَ مِنْھاء وَإِذًا اَسُدِيّث اِلَيْکَ يَد فَکاِفِٹهَا ِمَا یہی عَلَيهَاء وَالَْصْلُ مَع ذلک لِلبَادِی. جب تم رسلا مکیا جاۓ تال سے اجنگھ طر یقہ ے جواب دو اور ج بت پکولی اص نکر ےا ال سے بڑھ پچڑ کر بل دداگر راس صورت می لبھی فضیل تب لکر نے وا یی گ.

5

221 ٦٣ سفار لکر نے والا امیردار کے لی ہنزلہ پروبال ہوتاے.‎

۳٠د‏ ماوالو ںکی ففلت َكلُ ایا كرَكُبِ یُسَاربهمْ رَهُمْ ام دنیادانے ایےےسواروںل کے ما من ہیں جسور ہے ہیں اورسف رجا ریا ے. ۹۵پ دوستو ںکوکھون فقذ لحم رڈ دو ںکیھودبیاخریب الوأنی ے. (۷):ائل _سرال وٹ الْحَاجة امن مِنْ طَلهَ لی عَيرٍأهْيِهَا. مطل بکا اھ سے چلا جا ناائل کےآ کے ات بپچمیلانے ےآ سسالن ہے پڑ ےپ سان لکونا کام ن یرد ا تَسْمَح مِن اغطاء الْقلِيْلِ فان الَْرمَاَ اَل من تھوڑادہینے ےئش می ںکرونک خی اتکی نا اس ےب ری ہوک یاتد ے. ۹۸ب عنت گر عضت نت رکاز یور ہے او شر دوات مندر لک ز مخت ے. ٦۹‏ نا کا یکاخال شگرہ اگ رص نخاتہارا کام ضگن 2 ۹ھ"

تر موی ا سس سس سم ھوس سس تھے +گظ

* ےپ افراطولفربیا لأتوَیٰ الجَاهِل ال مُفْرطًا َو مُقرَطاَِ جا لکونہ پا کےگر اعد ےآ کے بڑھاہوادریاال سے بہت جچچے . کال ِا تع اتل ننس الکلام. ج تخل بدھتی جن بات سکم ہوجالی ہیں. بس رگوئی بر ان خی یکاادر بر ینان خالتف لک خائیکاستہ+ولی سے اور جب انا نک عق لکل اودٹم پن ہوا سے اس کے ذ بن اور خیالات یں ان پیراہوجاجا سے اور٘ل دوسرےتدائۓ برغ یی رع ذبان پک اط داقدارحا٣‏ لک لق ےگس کے یمیس +بان عقل کے ضوں سے ہ ٹکراورہے سو ہے بج ےکھلناگوا رای نک ری اور ظا ہر ےک سو بچار کے بعد جوظام ہوگا وپھراورزواکرے پا ہوا : لا کے ہز انکاردے التمْر تلق ادا . َبُجذذ الال وَبِرَبْ العَييةہ باج الما زما عو لکن ولوسید ہاور رزو لکودورکرتا ہے جوز ماش سے یھ اتا سے د دنگ رس چتاےاوروگوریا سے وو دک ئیلتنای ہے . بط ے پچ یو اک اوصاف

ووھ

تَاِیة بِيْرَتہ قَبْل تَادِییه بلسَازہ: وَمعَلمْ نف وَمُوَذُبْهَا اَحَق بالاجُلالِ مِنْ

مَُلم الناسِ وَمُوَذَيهم. جولوگوں کا میٹوابمنا و اسے دوسرو ںکاعیم دی سے پلے ا ےکوی دنا چا ہے اورزہان سے در اخلا تی دینے سے پل انی سیرت وکردار ےٹملیم دینا جا بے اورجھ

ای ھا

ان سکینعلیم وتادی بکرنے وہ دوسرو ںک یم وجادی بکرنے وانے ے زیادہ زا ما تی ہے ےپ می سان۱س نَفْس الْمَرْء خْطَاۂ اِلَیٰ اَجْله. انما نگ ہرساف ایک ق دم ہے جواسےمو تک طرف ڑا لیے جار اے . نی جس طر ایک تدم م ٹک دوسرے قم کے لیے موہ خا رتا ہے اود میق فرسالی زگ کے قرب کا باعحت ہولی ہے لی زندگ یکی ہرسمانس ہی سان کے لیے پییام فناب نکر کاروان ز نگ یکومو تکی رف بڑھاۓ لیے جائی ےگو اجس سا سک1 کیم حیا تھا جات ہے وی ساس زندگی کے ایک سے کے فا ہو ن ےکی علاصت اورمنزل موت سے قر بکا اعت ہو لی ےکیوکہ ایک سال سکیا حیات دوسریی ساأس کے لے موت ہے اورا نی فا بردوش سانسوں کےجمو ےکا نام زندگی ہے۔ پ رکز شنکی مت ال ی زنفدگ نام ہ مم کے جے چان کا ےپ نت وی کُلّ مفڈود مقَضِ (منقص) وَكُل مولع آتِ جچزحاریی سآ ےا نتم ہونا چا بے اور ےآ نا ابد ہآ کررےگا-

بے پ٭آغازہاتجام الّمُورَإِةّا اکھت اَغِرَ آخِرُها باَولِهَا ج بککیکام میں ایٹھے بر ےکی پان نر ہے نآ ناکود کہ اضیامکو چان لینا جا ا ایک کو درک رکاشککار ریم لگا سکنا ےکراس سےکون سا درخت پیدا ہوگا اس ک کیل پچھول اور چنے کے ہوں گے ا کا یلا اور بڑھاکتا ہوگا سی ط رم ایک طال بعل مک یسح د کوشن کو دک را سک یکا میالی براوردوسر ےکآ رام یی وقفل تکو دوک را سکی اکا نی پگ لگایا جاسکنا ےکیونگہاوائل اواھ کاورقر .ت6ب کآگزدبرے ہںلذ اک ایام بھائی شرد رتا ہونذ ا سک ابر اکودریکھا جات .اگ ابا ری ہوگی فو انچ پھی ری وگ او راگ رابنا ای ہہوگی نذانچابھی ای ہگی۔ چا ےھ ماضرارکایان ومن خبرضرار بن ضمرۃ الضبائی عند دخوله علی معاویة ومسالتہ لە عن امیر المومنین قال:فاشھد لقد رایته فی بعض مواقفه وقد ارخحی اللیل سدوله وهوقائم فی محرابه قابض علی لحیته یعململ تململ السلیم ویبکی بکاء الحزینء ویقول: یا دنیا یا دنیاء الیک عنیء ابی تعرضت؟ ام الی تشوقت؟ لا حان حینک ھیھات!غری غیریء لا حاجة لی فیک, قد نک ٹاذٹا لا رَحعةفھاافمیٹک قصیر وخطرک یسیں وافلل حقیر.آہ من قلةالزادء وطول الطریق وبعد السفرء وعظیم المورد!

جب ضرار این شع رصتاگی معاویہ کے پاش گے اور معاویہ نے امیر اشن علیہ السلام کے تل ان سے سوا کیا انہوں ن ےکہ کی اس ام رک شہادت دیتاہو ںکہ یش نے ٹن موقحوں پآ پکود اج بکردات اپنے ا مز نلم تکوپھیلا یھی آپ حخراب عبادت می الیتادہ ریش مارک لو پاتھوں ین نے پور نے ارگ زی کی طرح تپ رسے تھ الم رسیدہکی رح رور ہے تاد ربہر تھے. اےدنیاءاے دیادو رہوج سےکیامیرے سان اہ نےکولا کی ہے؟ یا میرک ولدادہد فریفہ ب نکر کی ہے تیراددوقت آ کل یف جب دے ‏ ےبھلا یکیوکرہو تا ے جا سی اورکوجل دے بجھے تی خوامش نویس ہے میں ذ تین بار مھ طلاقی دے چچکا ہو ںکہ ٹس کے بعدرج ںک گنک نیس :یىی ز ند یتھونڑیی ‏ ری اہعیت بہت اکم اور تیر رزوزبیل وبییت ے۔اغسوس زاورایکھوڑاء راستتطو بل بسفردوردرازاورمنز لضت ے. اس ردای تکاتتہ یہ ےکر جب معادی نے ارز بان سے داقن سنا تو ا لک اآ کھھیں انبا ہوکیں او رکن لاک خداایواشسن رت مکرے دہ واتھا ا ےکی تپ ضرار ےہا طب ہوک کہاکہاےضرارا نکیا مفارقت مل تہار ےر داندد ہک کیا حالت ےار ن ےکہاک ہنی می ولک رام انتا ہی ہے جتنااس ما کا ہونا ےج سک یکودمی ا سکااکوتا پچ ذ کرد یاجاے. ےہ تضاونرر للسائل الشامی لما ساله: اکان مسیرنا الی الشام بقضاء من الله وقدر؟ بعد کلام طویل ھذا مختارہ:

گحذ یک لکل الاب وَاليقاب وَسقط الَغة وَالّعِيّة. ا اللهَسُبْعَلَه أَُر اه تَخِیْر وَنَهَامْم تَخِْیرأ كت َىيرأوَلَمبْكلْ غَییْراء َاَْعیٰ لی القَِلِ کیبرا:وَلمبعصّ مَلرْبَء وَلم کم مُکُرهاء وَلميرِْل َء لب وَلمبْرِلِ الْكََابَ لِِبَادِعَبََء وَلحَلَقَ السَمَاوَاتِ وَاَرّضْ َمَا بَيْنَهُمَ بَاطِانّرذلِک هي الین كَقرُوافويْلَلِلِّيْنَ كَقَرُوا من الا(

ین نے امیر الین علی السلام سے سوا لکیاکہکیاہارائل شام ےلڑنے کے لیے جانا اوہ رےتھا؟ ت7 پ نے ایک وہل جواب دیا جم سا ای کنب حصہ یہ ہے خفداقم پر مکمرے شا برقم ن تی ولا زئی قضا وف ریھولیا ےک جس کے انام دینے پ جم مجبور ہیں اگ راییا ہوتا ف رن ڈو ا بکاکوئی سوال پیدا ہوتاض ا بکاندوعرے کے پلئ می رتج نہ وید کے خداوندعالم نے فو بنرو ںکوخودتار ناکم مامو رکیا سے اورعزاب سے ڈراتے ہو ئے تہ یکا ہے۔ اس نے کل وآ سال نیف دک ہے اوردشواربییں سے بیچائۓے رکھاے دوتھوڑے کے برزیادہاجرد یا ہے . ال کی ناف ماف اس لیکش ول یکسدددب گیا سے اور نہ ا کی اطاعت ا ل ےکی جائی ‏ ےکمہال نے یو کر رکھا سے اس نے ٹہرو ںکویلورنف رج نی ںبھیااور بنروں کے ل ےکاڈیں بے فائد ٹیس انا رکی یں اورشہ ]ماع دزن اور ج یگران رّول کے دزمان ہےالناس بکو بییار پیر اکیا سے یلان لوک ںکاخیال ہےجنہوں ن ےکفراخقیارکیا 1 نیج نم کےعذاب سے

اس ردای تکاتنہ یہ سے پیل را کیٹ تےکہاکردوکو نکی فا وق شی جم سک وج ے_ییں جانا ڑآ پ تےکہ اک قضا کے تیعم بای کے میں جی اک دارشادے.وقضی ربک الا

تعسدوا الا ایاہ ادڑجہارے پروردگارنے عم دےدیاہ ےکس کے سوا کیا بی شکرنا یہااں شی مت ام رکے ہے۔ ۹ے پوت خُدِ انْحَكُمَة انیٰ انث فان الْحَكُمَة تگون فی صذر المُنَافِقِ تلجع فی صَدرو عَتّٰ تَْريجََسْکُناِلیٰ صَوَاحِبهّا فی در الْمُومِن. عس کی بات جچہا نہیں ہواسے حاص لکر وکیون حکمت منا فی کے سیینہ بی بھی ہوتی سے لین ج بک ا کا ز بان ےئگ لکرمؤین کے۔یدن ہم پٹ کردوسریعکتوں کےسات کل میں جائی ےق رنتقی ہے ۸۰پ سا یھت کت ملین ہیک یگمشد یز سے اے اص٥‏ لکرداگرچ ماف ے لیناپڑے۔ ۸۱پ بض رک قررو مت یڈ ٹیک ما .اب کی قیت دہ رہ جوا اٹم ے. سیدررضی فر مات ہی ںکہ ایک ایم انمول ججملہ ےک تکوگی یماش بات ااس کے ہم دزن ہیکت ہے ,اور کوئی مل اکا ہم پا دکناے .انسا نکی تی قیت ا کا جب یم وکا ہے وم وکا لکی جس بلندک پر فا ہوگا,امی کے مطابق ال لک قررعتزات وگ چنا رھ ہراس اپ شل وصورت. بلنری تر دقامت اورنماہری چاو زشم کڑس دیٹیں بگ اسان کے جنر یھت ہیں اوراسی جن رکے اط سے ا کی قح تتھبرای ہیں مقصد یہ ےکانسا نکواکساب

فضال وت ل کم دش میں جدوججدکرن اہے. ۸۷ با یں َوْصِیکُمْ بِحَمُس لو ضَرَيتماليْهَا آباط الاب لَكانَت لِالِک اَمملك لا َرْجُوَنَ اَحَدڈ مِنكم ال رَبَهہ وَلأيََافَي الا دَيَء وَلأيَسْمَحِینٌ اَحَذ مِنكُم اِذَا سُیْل عَمّا لأیَعْلم ا یَُولَ: لالم وَلايَسْمَحِینٌ أحة اذا لَميََلم الشٔیٗ ان عم وَعَلَيْكُمْبالصُبْر فان الصْبَْمِنْامَانِ کالرَاسِ مِنْ الْجَسَیہ وَلاَ فی جَسَد لا راس مََةء وَلاًفی مان لاصَبرَمَعَة. تی امک پان اف لکا برا تک جال ےک ہاگ یں حاص لک نے کے لیے اونٹڈ لکوایڑ کرت ز اذ دہ ای قائل ہو کی بقم میس سےکوئ ینف ال کےسواکسی سے آ کی ضہلگاۓ اوراس کےگنا کے علاد مکی سے خوف شرکھاے اوراگرقم بی ےکی سےوگی انی بات لیٹھی جا ۓکہ ص دہ نہ جات ہوقے یکن یس نش مات ۓےکہ م۲ یں جانا اوراگرکو یف کی با تکس جا تا َال کے سک می ش ایس اورصب کیبائی ایارک دکیونکبرکوایمان سے دی بت ہے چوس رک بن ے ہولی ہے اگرسرتہہوبدن ار ہے لو نی ایمان کےسا تحص رنہ ہونا یمان می لکوگی خ و پئیں. 4۸۳س را لرجل اضرط فی الشناء عليه وکان لە متھما:أَنَا دُونَ مَاتقولَء وَفَوْقَ اھ نے پک متنیا کرو اما رآپ عاقرت وارامتن

رلتاظا آ پ نے فرماا جوقہارگا زبالن بہ سے میں اس سک ہوں اور جوتہارے دی بیس ہے اس سےزیادہ ہوں- ۸۳ رق الیف َقيَّةٌ المَیْفي ابق عَددا وَاَكُنْر وَلَذَا. تلوار سے بے کیچ لوک زیادہباقی رے ہیں اودا نکیل زیادہ ول (4۸۵ہمدالی مَنْ تَرکَ قَوْلَ(لأآڈری) أَصِيَْث مَقَالة جم سکی پان بای ہے جملہ نآ نۓےکہ نیس جانا ذو چو ٹکھان ےکی جاہوں پہ چو ٹکھ اکر جتاے. ۸۷ب بڑو ںکاشورہ َأْ الشُیٔخ اب ِلَی مِنْ جَلَدِالْقلاَم. وروی: رمِن مَخْهّدِ الْعاام بوڑ کی راۓ بے جوا نکیا جمت سے زیادوپہند ہے ایک ردایت ٹیس یوں ےکہ بوڑ کی راۓ بک جوان کے خطرہ بی ڈ نے رجے سے ریادہلپند ہے ۔ بڑے۸)٭استغفار عَجبٔث لِمَنْ نَقتط وَمَعَة الاسْیغفَارُ ور تہ کتحت رگا عور عم جو مرن

۸۸ء ایک طف اخاط

وحکی عنہ ابو جعفر محمد بن علی الباق انه قال :گا فی اَّرُضِ مان مِنْ عَلاب الله وَقذ رع أُعَثهُمَاء ڈو قَدُونَكُمْ ال عَرَفَْمَسُکوا بی: ما مان لی ری ابر رسرن لعل ی دناما زو ولب رن مَانُ الباقی قَلاسْتِغفَارُ رُفَالَ الله تَعَالی:روَمَا کاو الله لِيعَليِهْمْ رََك ََِهم وَمَا کا الله مُعَلَيهُموَهُم يَسفِرُوْنَ

فرش ای نی الات علیہ السلام نے روای تک ےکہامیرال وشن علیرالسلام نے ایا دیاٹ عذاب خداسے دو یی باعحث امنیس ایک ان میس سے ا گنی مر دوس ری یتمہارے پا موجود ہے للہا موی ےتھا ےرہ . دوامان جواشھا یگ دہ رسول انڈری٥کی‏ علیہ ول ریلم تے اوردہامان جو بائی روکئی ہے وو رواستخفار ہے جیب اکہ الا ضہنے فرمایا.اڈرلوگوں پرعذ ابی لکر ےاج بک تم ان می موجودہو. الڈران لوگوں برع اب یں انار ےگا, ج بکہ یلو اذ برواستففارکرد ہے ہوں گے .

سیدریشی علیہ الرحمتفر مات مہ ںکہیہمہت رین ا جح ان او رد وت آ خر بی سے . 4)۸ اش ےش معاملیی صلح مَاَيْته وََیْنَ اللہ أَصْلَح اللّهُمَاَيْتة وین الَاسِء وَمَنْ اَصْلمَ شر آج رہ اَصْلَح اللَهله مر د٥ء‏ وَمَنْ کان له ِنْ تَقْيِهِ وَاعظٍ کان عَلَيهِ

جس نے اپنے اورایٹر کے ما ٹین محاحلا تکوٹئیک رکھا تو انڈداس کے اورلوکوں کے

معاملات مبٹھائۓ رگا اورجس نے اپنی1 خر تکوسوا لا خدا ا کی دنیابھی سنوار دےگاادرجوخھ دا ۓےگودعظ وپ رک نے تو ا کی طرف سےا سک ات ہوئی ر ےگ . وپ دنم

لمَقیة ُالفَقنه مَئ لم بط الس من رَخمَواللہ وَلميزيسهُم من وج اللٰء وَلميُوِنهُم من کُر الله

پدراعالم ددانادہ ہے جولوگو ںکورعت خداسے اوس اور ا ںکی طرف ے عاصل ہونے وال یا1 سانش دراحت سے نا امیارنہکرے اور ڑل اٹ کے عذاب ے پالنگل ملک نکروے.

ہد گی

ِن هو الْقّتُِبَ تَمَلّ كمَا تَمَل الابدانء فَابَعُوا لها طَرَائت الُحگم.

ید بھی اسی طر اکتا جات ہیں جس ط رب بدن اکتا جات ہی ںلہذ اجب ایا ہون ان کے لیا طی تلہم ہکات اش لکرو-

)یلم ےل وضع الْعِلم مَا وٴقِت عَلَیٰ النسَانِء وَأزفَمُه مَاطهَرَفی الْجَوَارح وآلاکان. دیلم بہت بے درد قبت ہے جوزبا نکک دہ جا اوروبلم بہت بلندم رب ے جھ

اعضاو ارب فھورارو

کے علوی و سرت جامس سصسہسمسی۔ ع اه ۹۳پ نت فیر

لأتَفُولَی اعد نغ: الله نی ائودٔبک مِ الفنَقهاْنَهلَیْسَ اح ال

الله سْحَانَه َقُولُ:روَآلمُواانمَا لالم وَآؤْلادَكُمْفِتَق وَتَغنیٰ ڈلک يَْتِرْهُمْ بالمُوَالِ وَالوْلاد لَعَيْنَ السُامجط لِرژقهہ وَالرَاضیٗ بقسمهِ وَاِْ کا سُبْحَانه الم مِ الشُيِهِمْء وَلکن لِمقهرَ الْعَالَ الٔی بَا يُسْمَحَقّ السَوَابُ وَالعِقًابُ: ٤و‏ بَعْضَهُع یب اللكورََيَکره ناك وَبَتْسَهُمْ یب تَعْمِیْرَ الْمَالِءوَيَکرَۂُ لام الّحَالِ۔

خی سےکوگ یتنس مین ہک ےکا اید :شی تچھھ سے نوز اض سے پناہ چاہتا ہوں اس لیے کوک ین اییانیس جوفتدکی لبیٹ میس نہہدہ بج ناد ماگے دوگمرا وکرنے وا نےفتوں سے پناہ ماگ ےکیوکہ ال با کا ارشماد ہے اورائس با تکوجانے رہ دک تھہارا ال اورادلا در ے اس سے مرادیہ ‏ ےک الڈدلوگو ںکو مال اوراولا د کے ذر یی ےآ ز متا ہے تاکہ بی ظاہرہو جا ۓےکیکون ان یقسمت پر ش اکر ہے اگ چرالہبھا ضا نکوا جات ےکدہ خویھی اپ ےکوا یں جات لین سیآ ز ان اس لیے ےکہدہافعای سان ےآ یں جن سےٹذاب وعزا بکا ا ختقاقی پیدا ہوتا ےکیونگ یبن اولا دم یکو چاجے ہإں اورلڑیوں ےگبیدہ اط رہوتے میں اورشتل مال بڑ ہا کو بین کر تے ہیں اورینن نت حا یکو برا "کت ژں۔

۹پ خ فرح وسئل عن الخیر ماھو؟فقال :لیس الْخَیْر ان يكْر مالک وَوَلَڈک, وَلٰكِى الْحْرََه یگنر عِلْمُکَ, وَان یَعظم جِلمکَءوَاِن تُجامی الَاسَ بِِبَافَو رَبَک : فان اَخْسَنْتَ ححمذث اللہ وَإِن اُمَات اَمْتَفْقَرْتَ الله وَلاَ خرف النیا ال لرَجلَيْي:رَجُلِ اَذَْبَ دنوب فَهؤََمَدَارَکُھَا بالَرَّةرَرَجُل يُمَارِعٌ فی الَْْرَاتِ آپ سے ددیافتکیاگیاک ہت اکیا یز نے فرب کہ ین ںکتہارے مال وادلادریش فراداٰی ہوجاۓ بپخ لی می ےکرتتہاراعلم زیادواورعلم ڑا ہواورقم اہۓے پروددگارکی عبادت پرنازک رواب اگ اپچھا کا مکرولذ الیل کاشگر بھالا اود اگ کسی برای کا انا بک رون برواستففارکرواورد نیا صرف دنخنصوں کے لیے بھلائی ےایک دوج گناہکر ےن بر سے ا لک جلاٹ کر ےاوردوصرادہ جویی کا م مم ت رگا ہو۔ (4۹۵میارُل جو لتق کی کےساتھاضیام دیاجاۓ دوکھوڑ ای مچھا چاسکااورمقبول ہونے الال تھوڑاکیگکر کا ے؟

معیالقرب او لاس َء ُلمُهُمِْمَ جَاؤُوَابهہ ثُمقلا رإِغ َلیٰ الا بِائْرَامِیْمَ لِلَدِیْ اتبعُوهۂ وَھٰذًا اي وَالِیْنَ آمنُو) الاَقہ تم قالَ: ان وَلیٗ

کے علوی ررش ا را سس ھت

--سس‌‌سك٣۰ككسجحصتت-×<یچص-تھححصحوووصىصصسسحووصصجسْددھصھٔ0ۂکک5ککُگ‪ےگجحمحمَم×ٴُحصسسمس‎

دار6 رظ

محمد من أُظاع الله ان بُدث لحم وَإٌِ عَدَمُحَمَدِمَیْ َضَی الله وَإِنْ قَرََت قَرَابَتَةا

نمیا سے زیاد خصوصیت ان لوگو ںکو عاصل ہولی ہے جوا نک لاق ہل چچڑەں کازیادہعلم رکتے ہوں یج رآپ نے ا سآ جی تکی حلاوت فرماگی :ابرائیم ے زیادہ ختوضیت نن لوک نگیاشی جو ان کے راف دا تے ؤاپ ان نا اون انان لائے والو ںکنتصوصییت سے۔بلرفر مایا نر تح صلی مکی ارڈ علیہ دآلہ وم مک دوست دہ ہے جاک اطا عح تکرےاگ چان کول قرابت شرکتا ہوادرا نکاشن دوہے جوا نافرماف یکر ےاگر چنزد بی اقرابت رکتا ہو

ٹڑے۹ ایگ نار کی عیادت

وسمیٴ رجلامن الحروبة یتھجد ویقراء فقال :تَوْمٌعَلَیٰ يَقِیيٍ خَيَِْنْ

ایک نارجی کےتتات ق7 پعلیہالسلام نے سناکرددنمازشب بپڑہتا ہے او رق رآ نکی لاو تکرتا ےتآ پ نے فر مایا یق نکیا حالت یں سونا کن کک حالت می نماز پڑ سن 029

روامت ودعایت ۰ 2 سس جب لی مرح زورزےگل کے معیار بر پرکولوصرفنأفل الفاظ برا شکرہ

کیو یلم کےا لکرنے والےت بہت میں اورا می فو رکرنے وا ن ےم ہیں۔ اناڈلدداناالیراتو نکی لیم

وسمع رجلا یقول :(ناللَهِ ون لی رَاجُِوو) َقَالَ:

قَرْنَنَ: رن لی أَْرَار لی اق بالْلکِ: وَقوا: رون لی رَاحجهُون) اِفرَارٌعَلَیٰ اَنقْيِسَا بالْهُلکک.

ایک کوا ناوات لیر دا ہحون ہم ای کے ہیں اوراللکی طرف پا سےککتتے سنا رما اکم جعارا کہ اک ہم الد کے ہیں اس کے ما تک ہون کا اعتزاف ہے اود یکہنا کہ می ا یک طرف پاڑناہے بیاپنے لی فا کااقرارے.

۰ ابمر

ومدحہ قوم فی وجھہء فقال:

الهُمٌ اک اَعْلَمْ ہی مِنْ تقیی وَأتا الم بنقُیی مِنْهمْ اللهُمَ َجْعَلَنا یما بَطُمون وَاغْفََا مَالاَعلمُون.

لوکوں نے1 پ علیہ السلام کے ردبردآ پک مد وستائ لیذ ف مایا اے اود بے جھھ ےبھی زیاددجاتتا ہے اوران لوگوں سے زیادد اپنےٹأ لکورٹش پیا اہول اے خداجھ الن لوگ ںکاخیال ہے؟ یں اس سے مہترقراردے اوران غزشو ںکوینشی د ےمج نکا یں لو

۱+ اپ عاجتردائی میم ضا العوَازج ال بعلثِ: بِاسُحضُعَا ِا عم وَبِاسَمكُايهَا عاجت روائی تن چیزوں کے ایر بادارنڑیس ہوکی ۔ ا کیھوٹا کچھاجائۓے ت اک دہ بک قرار پاۓ اسے مایا جاے تاکردوخودہن وھ رہواوراس ٹیل جلد کا جاے تا کہ و لارہون-

۱۰۶ ایک ین کوک ابی عَلَیٰ السا رمَائلأبقرّبفه ال المَاجل وَلابَرّث ہل الفَاجرُ وَلأَئْصَهتُف یو ال انف یَفڈُونَ الصَتفَة یه غُرمَء وَصِلة الرُجم مَسًاء وَالعتَافَة اَسِطالَةعَلَیٰ النَاسِ١فَهنْڈ‏ ذلِک یَگون السُلْطَانُ بِمَدُورَة النْسَاءء وَِمَارَةِ الصُبيّانء وَتَذبیْر الْخَصُیَانِ! لوگوں بر ایک ایا زان“ 1 ےگا ننس میس وی بارگا ہہوں ٹیش مضرب ہہوگا چولوگوں کےکیوب جیا نر نے والا ہواوروجی خول نرا تق مھا جا ےگا جوفاس وفاج رہواورانصاف پنرکوکرورونا نذا ں مھا جا ےگا صد ہکولوک خسار ہاورصل ہز یکواحسان جھییں کے اور عادت لوگوں رو ضنا نے کے لیے ہی وا لیے ز ماش شی لعکوص تکا رارورارگررؤل ےیور ۓبا و کو نکیا کارثر ال اورتابمراں 01 بیردراے پروگا۔

۳ ٭ اب بوسیرولباس ورئی عليه ازار ححلق مرقوع فقیل لە فی ذلک: فقال: يَحُصم لَه القَلّبٔء وَتذِلُ بو اللْقُْء وَیَقْعَدِی بہ الْمُوْمنُونَ. ا الڈ وَالاخِرةًٌ عَڈوّانِ مق ِنَانِء وَسَِْلانِ مُخْتَلِفانِ: فَمنْ اب ایا وتوََمَا

32

اَبُغص الَاخرَةً وَعَادَاتھاء وَهُمَا بِمَنولَة المَشْرِقِ وَالْمَغرِبٍ, ماش بَينهَمَا: کُلمَا قرّبَ من وَاجد بعد مِنّالَاحَرء رَهُمَابَُة سَرَننِا

آپ ک ےک پر ایک وسیدہ اود ونددار جامدد یھ ا گیا آپ سے ال کے بارے ہیا ہآ پ نے فرماا:اس سے ول متواشمع اوس رام ہوا ہے اور کن ا کی ای کرت ہیں دمااورآ خر تک بی بیس دونا مازگارشکن اوردوجداحجداراتے یں چنا خی چھ دن اکو جا ےگا ادراں سے دل لگا تۓگاء وہ دوفوں بخزلہشرقی ومغرب کے ہیں اوران وولو ںکتوں کےدرمیان لے والا جبگھی ایک سےقرجب ہوگا نو دوسرے ے رورہونا پڑ ےگا ران دوفو کا رشنتدالیما سی سےجلیمادوسونو لکا ہوتاے- ۰۳ا لوف کا یکا یان وعن نوف البکالیء قال: رایت امیر المومنينٌ ذات لیلةہ وقد خرج من فراشہء فنظر فی النجوم فقال لی: یا نوف اراقد انت ام رامق؟ فقلت:بل رامقءقال: یا نوف طُويَ للزَامِيینَ فی الڈیّاء الَاغِبیْنَ فی الَاخِرَۃ اولِکک وْمٌ تَحَذُوا اض بِسَساطٌء وَتْرَبَهَا فِرَاشٌء وَمَاء تا طِبَاء وَلْقْرْآنَ شِعَارَاءوَالعَاءَ وِارأء تم قرَصُوا اذیا قرْضْا عَلَیٰ منج المَسِئح.

تک علوی ا رز

طویا۔.۔۔ .ت.۔۔-حصعدصےسسسھنگے

ا تَوْفٹء اِنٗ دَاؤُد عَلَيْهِ السّلاَمْ قَامَ فی مِئْلِ ھذِہِ السَاعَةِ من الیل فَقَال: نَا سَاعةً لاڈ و فَيها عیْڈ ال ایب له ال اگوی عَشَازا اَزْعَريْفا و شُرْطِيًا اَوْصَاجبَ عَرُطبَةِ

وف این فضالہ بای کے ہی کہ می نے ایک شب امی لین علیہ السلا مک د یک ھاکہدوف شش خواب سےا ای کظرستاروں بر ڈالی ادریچلرف مایا ےلوف وت پھ اگ رے ہوی ن ےکہاکہ با امیر الین علیہ السلام اگ د ہاہوں ۔فرایا:اےلوف

خوشا نیب ان کےکجنہوں نے دنیا یش زہراخقیارکیاادد ہمہ نآ خر تک طرف متوجررے یرد ولگ ہیں جنہوں نے زی نکوفرش بی کوبست اور پاپ یکوش ریت خوش لکوار قراردیا ت رآ نکو نے ے لگا با اورداکوسپر با یچ حر تک کی رح داسن چھا کر دنیا ےا نگ ہوگے.

اےئوف :دا دعلی ال سام رات کے الیے ہی حصہمی ا ٹھے اورف رما کہ ید ہکھڑری ےکس میں بندہ جویگی دعا ما گے مس تاب موی سوا ا پش کے جو نار یں صول ککرنے والاءالوگو ںکی برای ںکرنے والا کسی نال لوم تک لیس مٹش ہو یاسارگایا ڈول تا شہ یچانے والا ھ.

۵+ اپف رک سک پابنری

و الله اََرَضَ عَلَیکُم فَرَائِض فَلاَتْضَيمُومَاء وَحَدلَكُمْ مُدودافلاَ تَشَدُوفَا وَنَهَاکُمْ عَنْأَفیَاء َلََتْمھکُوَاء وَسگت لَکُمْ عَنْأَشْيَاءَ وَلمْ تھا یسیا فَلَتَتکلقُوها.

لے نف ال تم پر عائد ے ہیں ایل ضالع ضرکروادرتہارے عدودکارمقررکر دہ ے گے میں ان سےتماوز شک رد ءال نے چندچزوں سے ہیں عکیا ہے ا سک خلاف ورزگی نہکرواورجن چند نزو ں کا اس نے عم بیا ننئی سکیا نیس بھو نے سےکییس بچھوڑ دیالہبذ انان اہ یں جا ن ۓکی کش شرکرو- ۰۹ا دین سے بےاخقنائی ہ-- ہہ ہی پس جت ال قح الله عَلَيْهمْمَا هُوَاَصَرّ جولیک انی دنا سے خرااں دیاری فدہ ےکی زیادہان کے لفتصا نکیاصورقس پیداکرد یا ے چہیی۔ - بہت سے پڑ تھےاگھو ںکودین سے یت کی تا ہکرد تق ہے او ریلم ان کے پا ہوتا ےنیس ذ رای فا نویس بی تا۔ ۱۸پ د لی حاات َقَد علق يتَاط هذا اْإنسَانِ بَسْعَةمِی اَغجَبُْ مَا لہ ذلک القَلْبْ: وَذلِک اَي لَه مَوَاد مِنَ الُحكُمَة وَأَصْدَادأ مِنْ خِلاََهَا: ان سَنح لَه الرَجَاءُ اَل الطمَعء وَاِن مَاج به الطُمَعُ آمُلگۂ الْجرْصء وَإِن مَلَکة الياسْ قَتلَُ الَسَفء وَاِن عَرَض لَہ الْعَضَبَ اَشَد به الْعَیْظ ء وَإِن اَسْعَنَه الرُضیٰ یی

کر و یم

الَحَففء وَإِنْ عَالَه الْحَوْف فَعَلَه الْحَذَر وَاِنْ اتسَع لَه الأمْرَآَسْعَلبنَة المْوَةُ

ان أَفَادَ مَالااَطُعَاۂ الغَیٰء وَإِن أَصَابنة مُصِيَةٌ فَضَعَة الْجَرٌ ع, وَإِنْ عَضَنَةُ الْفَقَة خَعله البا٥ء‏ وَاِنْ جَهَدَۂ الَجُو عٌَعَد به الصْعْفء وَإِن فرط بِه العَيَمٌ کَطَنْه الكنةُ فُكلُ تَقصیْر یہ مُضرٌء کل قراط لاف ..

اس انسان ےگھی زیادہ تیب دہگوش تکا ایک لوکھڑاہے جوا لک ایک رک کے اتآ وا لکردیاگیاے اوردددلی ےجس می لمت وداناگی کے ذخیمرے یں اورال کے خلا فچھی نیس پاگی جاتی ہیں اگراسے امیرکی ھن کنظ رآ نی ےت اسے ذات میس جار ی ےاوداگ ع۱ ری ےو ا ےتیک تاد دب با کرد تی ہے۔گرنا ارگ1 ان چا لی سذ سرت وانددواس کے لیے ان لوان جات ہیں اوراگ رحب ا پہ طاری ہوا ےآتم وقصشرت اختیارکر لیا ے اوراگرخوش وو شفودہوتا اذ حذط اق کو ول جاتاسے او رگم ا اتک اس برخوف طاری ہوتا سے ئذ گکر واخدیقہ دوس ریشم کے نصورات سے اسے دوک دتتاے۔اگراسن اما نکادوردورہ ہوا ےآ فلت اس پر قبض کربیتی ہے او راگ مال ددنعدکی اسے سرک بنا ہق سے او راگ راس پرکوگی مصیبت بی ہے بے تالی و بے قراری اسے رسواکرد یق سے او راگ رفق رد فا ہک یتمکلیف می ملا ہو مصییبت وابتلا ا میتی سے او راگ وک اس برغلبرکرکی ہو نانوی اسے اٹ یں د رت اوراگ حم پرکی پڑت انی ہے یلم پک ا کے لے کرب واذبی تک باعث ول ہے کوتائی اس کے لیےنتصان رسال اورعد سے زیادی ال کے لیے ما وگن ہوئی ے۔

ط۹+اپچہم رکز ہدایت َحیْ النمرقةُلوسٌُیٰء بِهَالحَی اَی ء وَلَيّهَيَرَجِم الَْالی. یم اہلیت بی دونتط اختدال ہی ںکہچیچے دہ جانے وا لن ےکو ال ےک رملنا ے اور آ کے بڑھچانے وا نوا سک طرف پاٹ /آ:ے۔ ١۱پ‏ ماک کےاوصاف اقم ار الله سُبْحَاَة ال مَنْ لأیْصَايِع وَلأيُصَارِعٌ وَلأيَِم المَطایع. عم خداکانفاز ود یک رسک ہے جو محابلہمیں ری نہ برتے ‏ چجزکردر یکا انمارنہ نے اویل وع کے یچ زگ جاے۔ ا ا پل این یف وَقَدتوفی سھل بن حنیف الانصاری بالکوفة بعد مرجعہ معه من صفینء وکان احب الناس اليه:لَوّْاَحَی جب أعكَاقتَ. کل این یف انصاریی حر تکوسب لوکوں یل زیاددک زی تے بج بآپ کے جھرابصفین سے پل ٹک رکوفہ نے اتال فرماگئے جس برحضرت نے فر ہمہ بے دوست رک گا ند شی ریزو ربز ہ بدجا ۓگا۔ سیدرتی ف مات ہی ںکہ چوک ا سک1 ز مل لکڑی اورخت ہوثی ےاس لے سکیس اس کی رف لی کک بی ہیں اورا یآ زمائن اٹ کی ہوٹی سے جوپ ہی زگ رمکدکارت دبرکزیدہ ہبوت ہیں اورایبا یآ پکادوراارغًادے۔-

۱۱۳ ی4ک بت اہلمیت

جو اھ ال بیت سح تکرے اے جا مفق رپنت کے لیے مادورہناجاہبیے۔

شمابیراس ردایت کے دوس ے عق می ول" اک چوئئیں دوست رکتا سے اسے داظھی کے لیے تک ددد شک رن جابےےخواہ ال کے تج میں اس ےنقردافلاں سے دو ار ہونا بے بقاعت اخقارکرتے ہو ئے دناشٹھی سے الگ بنا جا ہے-

۳اا پنر یرەاوصاف

لأَمَالَ نود من الَقِْء وَلوَخْذَة اَرْحَشُ من الْمُجُبءوَاَعَقلَ كَالتبِیْرء وَلاكَرَمَ کا لتفُوَئاء َلاَفَرِیْنَ کُحُسْن الْعَليٍء وَلاَییرات کَال٘5ب, وَلاَفَائدِ کالّْفِقٍء وَلأحَارَة کالعَملِ الشالیج وَلاَرِئع كالقوَابِ وَلأوَرََ کالْوقُرف عِْذ الشيْقَة وَلأَزْمْد کالژمْد فی الرام, وَلاَعِلْمَ کالفگرء وَلأِبَاَة كأَاءِ الْفَرَِضِ, وَلأفْمَان گالْعََاء وَالطًبرٍ وَلاحَسَبَ کالوَاضْعء وَلأَشَر3 کَالیلم وَلاعِزکَالْحلمء وَامَطَامَرَة اتی مِن الّمُشَاوَرَة

عخل ے بڈہ ےک رکوگی مال سودمنداورخود نی سے بر ےک رکوگی تهپاکی وشتا کی اور ترے بل ےکرکو گی عف لک با تنئی اورکوئی جز رگ یتتزی جئ کی و علق سے مت رکوئی اتی اور ارب کے ماضنرکوئی میررا ٹنیس اور قش کے مان رکوئی بش رداوراخمال خیمرسے وک رکوئی حجار ت نیل اورٹو ا بکا ای اکوگی نٹ یس او رکوگی بجی ارک جہات یں تذقف ے بے کریں اورترا مکی طرف بے بش سے بڑ ےک رکوئی زہراونھکراورشیٹی

نی سے بڈہہکرکوئ یمیس اورادانۓ فراکس کے ماضنرکوئی عبات اور حا وضرسے بڑ ھک کوئی ایما نیس اور فریقی سے بڈہ یک رکوئی سرفرازینییں اورعلم کے ماخ دکوئی بزدکی وشرافن تی پعلم کے مننرکوکی عزت اوریخورہ سےمضبو ماکوکی یشت بنا یں 900192 ِ٥ًا‏ اَمْعَوٌلَیٰ الصَّلاَحُ عَلَیٰ الزمَانِ ََعلہِء تم أسَاءَ رَجْلالُنٌ برُجل لَمْ تَظْهَرْمِنه حَربَة قد هلم! اذا اَسترلَیٰالَسَاذ علیٰ الزمَانِ وَأمْلِهِفحْسَنَ رَجُل الطُنَ برَجْلِ قد عَرَرٍَ ۱ ۱ جب دااورائل دخیائیں م یکا چان ہواو ریخ کسی ایی سےک یجس سے رسوائ یک یکوئی بات نا نیس ہوگی سون رکذ اس نے اس نلم وزیادگی کا اور جب دیاواٹل دنا رشروفسادکافلبواور یلال 62 0" یس سے نین رر تاس نے خودتی اتپ ۓےکوشطرے میں ڈالا- ۱اپ ران پر یکاجةاب کیف نجدک یا امیر المومنین؟ فقالٌ :كٴیفَ یُگُونُ خَال مَنْيقنْیٰ امیر الین علیرالسلام سے دد اف تکیاگیاک ہآ پ علیہ السلا مک حا للکیسا ہے ؟ ت پطیالسلام نے فرما کہا سکاحا لکیاہوگا بے زنر مو تکی طرف لیے جادای ہھ ادہش سکیصحت بیاریکابپنش خی ہواور ای پناوگاہ ےگرفت میس لےلیاجاۓے-

4۱۷ اتل وآز رک کم مِنْ مُسْمَذرّج بِالإخْسَانِ اِلیهء وَمَغرُورِبِالسْر عَليْهِ وَمَفتَون بِحُسْن الْقوْلِ فلا وَمَا ابْعَلّیٰ الله أَحَدًا بوخ المَلاو لَه. سکتے ہی لوگ ابلے ہیں جنہی میں در ےکررفۃ رف عذا بکا تن نایا جا تاے اور سکتے ہی لوک اےے ہیں جوا شک پردہ پڑٹی سے دھوکاکھاۓ ہدئے ہیں اوراپنے بارے یس اجیگے الفاظطک نکرفرجب بس پٹ گے ہیں اورمہلت دینے سے زریادہ الیل دکی جاب سے کوئی بڑی] زمائشیئیرے۔ بپڑےا اچچ دوست وشن قَلک فِیٗ رَجُلان: مُجبٌ غَالِء وَمبْفْض قال: میرے بارے شی دوھم کے لوگ ماود بادہوے۔ ایک دہ جا والا جوعد ے 7ھ۶ییییٰ و0 ۸پ فرصت کےکھون ‏ کانض ِضاتمة اص3 غصة. موک تھے جانے د ینار دانددءکایا عث ہوتاے۔ ۹اپ د نکی ایک شال ِشْلُ اڈنا کمَعَلِ الحَیّةليْنْ مَمُهَاء وَالسُمُ النَاع فی جَوفهَاء يهُرٍی ھا َء وََمْترَُا کُر للُ اتال دنا کی ال سا پگاکا سے جو کھونے میں رم معلوم بہوتا گرا کے اندر نہر

لا لیچھ را ہوتا ہے ہفر یب خوددہ جال ال لک ططر ف متا ہے اور ہوشمندرودا ناس سے کر رقاے ۰اپ ق لی کی خصوصیات

وسشل'عن قریش فقال:أم بن مَحزُومقرَيَْانَةقرَیشِء لحبُ حَدیُک َِالھم, الگا فی نَسَايهِمٰ: وَآم َو عَبدِ فَمُس قَأَبْعَدمَا رَآيء وَمنعها لِمَا وَرَاءَ ظُهُورِقما: وَأمَا نَحْنْفَأبْذُلَ لِمَا فی ايدِیتاء وَاَسْمَخ عِنْد المَرّتِ بنقُوہناء وَھُمْ اکر وَمْگر وَالگرء وَنَحْنْ افص وَالَصَح وَاَصْيَخ.

خرت سے ریش کے بارے میں سوا لیک یامیا ھپ نے فرما اہ فی ہک روم قرلی کا مہکناہواپچول ہیں مان کے مردوں سےکنشکواورا نکی عورتقل سے شادی بین یرہ ے اور نشین دورانرلیش اور یٹھچ ےکی اویل چو ںکی ری روک تھا ممرنے والے ہیں کین ہم بی پاش منج ہمارے ہا یس ہوتا ہے اےصر فکر ڈالتے ہیں اور مو تآنے پرجاان دپنے ہیں۔ بڑے جوانمردھوتے ہیں اور یب یرش کی مس زیادہ حیلہ بازاور ببصورت ہوتے میں اوہ خوش لگفتا رخ رخواداو رخ بصسورت پوت ہیں-

لرپا٢(‎

وه وََقَیٰاَجرَة.

ان دنو ںئم کےیملوں می سکتقافرقی ہے ایک ول جم سکی لن تہ مٹ جائے کن ال کاو بالی دہ جا اورایک دوش سکیاش تم ہوجان ےکن ا کاجر داب باتی رے.

۲٢ (‏ اب مخا لمت جاز ٠‏ وتبع جنازۃ فسمع رجلایضک. فقال: كَأٌ الّمَوّتَ فِيْهَا عَلَیٰ عَيرِنَا تیيبَء وَكَأنَ الْحَی فیا لی غيْرِنَا وَجبَء وَكَأعالِّی نَوَى مِ المُوَاتِ مُحَلدُوْت بَمْد هُمٌ فمٌ فَد نِا گل وَاعظ وَوَاِطَوِہ وَرمبا بِکُل اوج وَجَائِعَوا رت ایک جناز و کے تیچ جار ہے تک ایک کے من کی1 دا کی جس پرآپ نے رما یا گویاال دخیاس موت ہارے علادددوسروں کے لپاگھ یکئی ہے اورک این موت دوسرول ای پرلازم ہے او رگو یا جن مرنے والو ںکوہم د یھت ہیں دو ماف میں جھ خنتریب ہماری طرف پیٹ 1 میں گے اوھ رہم نی قروں میس اتاد تے ہیں اویمرا کا تککھانے گت ہی ںگوباان کے بحعدہم پیش رے والے ہیں پچرم کہم نے چرپندو حم تکرنے وا أکودومردہو باعورت کھلادیا ہے اور ہرآ ف تکانشتانہ بن گئے ہإں- ۲۳ اپ چنرصفات وب ِمنْ ذلَ فی تقو وَطَابَ كُمبْةء وَصَلَحَث سَرِيْرنه وَحَسَْث عَِیقَ وَنْقَق اَل ِیْ مَالہہ وَاَمسَک الفَصْل مِنْ لِسَايہء وَعَزلَ عَنِ لاس شَرَهء وَوَيِعَنة اسنہ وَلمينمَب ال لتق خوشانعییب اس ک ےک جس نے اپنے مقام پرفروقی اتا رکی جن سک کماکی بک و پاکثزوضیت کیک اورتحصلت وعادت پپند یدرو ری جس نے انی ضرورت سے بیاہوابال

خداکی راہ ٹل صر فکیاب ےار باقوں سے اپ زبا نک روک لیامرد مآ زارگی ےکزارہ ٤‏ 0

سیدیشی کے ہیں :کہ بھلوگوں نے ا کا مکواوراس سے پ یہلا مکورسول اڈ سی علیہ ول ہل مکی رف فو بکیاے.

۲اپ غیرت

عَيَْةالمرْأة ُفروَعَيْرَةالَجلِ ما .

گور تکا خی تک اکفرہے اورمردکا یو رونا اان ہے .

مطلببہ ےک جب مردکوچارگو تج لت کک رن ےکا اجازت ہا حور تکاسو تگوارانگر اعلال خداے ناگوار یکا اظہاراورایک طرح سےعلا لکوترا مبکھنا ہے اور ہیکذ کے ہلل بی سے در چوک عورت کے لے تد دو ہرک رن جا ئمینٹیں ے , اس لیے مردکا اشت را ککوارا شک نا ال سکیا خر تکانقاضااورترام خداکوترام بکھنا ہے اور ریرایمان کے مترارف ے.

مرددظورت میں پیل اس لیے ہے اک لیددبقا ےل انسای می لکوگی روک پیدا نہ ہو کیوکہ بر مقصد ای صورت بی بدرجراتم حاصل ہوسکتا ہے جب مرد کے لے تخدداز واج کا احازت ہوکیونگ ایک مد سے ایک بی ز ماز ٹس متنعدداولا دیس ہق یں اورگدرت ال ے معذروروقاص رہ ےک دو صتحددمردوں کے عق یس7 نے سے متحدداولا دی یراکرس ےکی ون ز ماشہ تل میں دو ہار وت ل کا سوال ہی پیداٹٹیس ہوتا ءاس کے علادہ اس پہاےے عالا تگگا طارگق ہوتے رت می ںکہمروکواس سےکنار شی اتی رکرناپڑالی ہے ٢ناخ‏ تی اوررضاع ت کا زان ایا ہوتا ھی ےجس سےقولی رکا سلسلہرک جاتا سے اوراگر داز واج ہوگی نو سلس لی جار رو تا ےکیوکہتحدد و یوں یں ےکوگی شرکوئی یوک ا موارٹل ۲ نعطاکل

کر علوی ہے دک سے سیت گج

انان ی کی تر تی کا مقصد حاصل بہونار ےا کیونکمرد کے لے اہ موا پیدانیں ہو ےک چھ سمل کیرش روک ب نیس اس لے خداوظعام نے مردوں کے لی ےتحدداز وا خکوچائزقرار دا ےاورورقول کے لیے ریصور یں رگ کردہ پوت داحد ددم ردوں کےق می ش7 می . کیونک ہیک عور تکا کئی شوہ رکرن غیرت وشرافت کےکبھی منائی سے اوراس کے علادہ ای صورت میں نس بک یچھ یفن ہو ےگ یکو نع سکیا صلب سے ہے چناغچ امام رضاعلیرالسلام سے ایینٹن نے ددیاف تک یا کہکیاوجہ ہ ےکبمردایک وقت شس مار بد یا ں ککرستا ہے اور حور ت ایک وق میں ایک م رد سے زیادوشو کی نک تق ضعفریت ےق مایا:

کردجبشگرورآں ےا حر ےگا ڑ او دہبرصورت ا یکا طر ف سوب موا اوراگرثورت کے دویادو سے زیادوشوہرہوں گےتذ معلوم نہ ہو ےگا کیکو نک کا اولاداورں شوہرسے ےام: امیصورت منسبشقہوکررہجاےگااور با پکامن ہو سے اور اراس مولود کے مفاد ک ےکی خلاف ہوگا کیو کوٹ ی بھی بھیذیت باپ کے ا کات بی تک طرف متوجرنہہوگا کس سے وداخلائی وآ داب سے بے ببہرہ واد لیم ور بیت ےگھرہ وم ہوکردہ جات گا.

۵اپ تل اسلام

َنْسْبَنْ الاسْلامَ رَْمَةُلَم تنب اَعة قبلی: الاِسَامٌ مَُاللَسْلِيْم َالسْسِیْمْ مُوَالیَِینْء وَلیَِیْ مُوَالْصْدِبقء وَالَسِْیی مُوَألاكرَاز زَالا قَاهُوَالذَاءُء وَالَدَاءُ مَوَالعَمَل.

یں اسلا مکی الچ تتربف بیا نکر نا ہوں ج جھ سے پیا نے بیا ناش لک ۔اعلام لیخ مکنا ہے اور یلیم وکا نین ہے او ین تد بی ہے او رد نی احتراف بت لک بجاآ وری ےاورفن شک بجاآ و ریکل ے.

(۴۹پاتج زی

عَجيه لِلبَحِیْلِ يَسْتعْج الَْقرَالَِّی مِنههَرَبَ وَبفُوتَة اقب الِّی اه طلَبَء فََعیٔش فی اڈنا یش الفقرَاوء وَیْحَاسَبْ فی الخِرَۃ حِسَابَ الَغيبَاء: وََجیٔٹ اِمُمكمر ای کان باللائس نُطُققہ ویو عَدا جیْقَة: وَعَجبٔث لِمَنْ شک فی اللوہ وَمُوَیَرَیٰ عَلق اللہ: وَعَجيْث ِمَنْ نی الْمَوْٹء وَهُوَيَرَیٰ الْمَوْتَیٰ(من یموت وَعَجِبٔے لِمَنْ انگ اللَشْأَ الخْرَعاء رَهوَيَری الما الولیٰء رَعَجث لَِایرٍ داز الکَاءوََاِک داز الْقَاءَ

جھ ےجب ہوا ہے کل کر دہج نقرونا دای سے بھاگن چاہتا ہے ا سک طرف کی سے بڑہتا ہے او رش شرودت وخول عال یکا طالب ہوتا ہے دای اس کے پاتھ سے گل جائی ہے دود نام فقیرد لکی ہی ز نکی اس رکرت ہے اور شرت می دوات منرو لکاسا ال سے محاسبہہوگا اور ماب ہوتا سے منکبرومض رورپ ہک جوگل یک نطفہ تھا اورک لکومردار ہوگا اور شےدجب ہے اس پر جوال کی پیداکی ہہوئ یکا نا تکود بنا ے اورپ راس کے وجود ین ککرتا ہے اورشجب ہے اس پر جومرنے والو ںکود بنا سے اور بچھرمو تکو مو نے ہہوئۓے ہے اوڑتجب سےااسں پک جک 2 سے اور پگ ردوپارہ اٹھاے جانے سےانگارکرتا ہے اونب ہے اس پر جوسراے فاٹ یکو بادکرتا ہے اورمضنزل چاودال یکیچھوڑ

دیاے۔

تر علوی 0شت

پڑےاپےکزتا نی لکانضہ من فَصَر فی العملِ ا تل بالهَمء وَلاحَاجَةَلله فِيمَْ لیس للهِ فی مَاله

ہیل میں تاب یرتا سے ودورر دائددہ مل بتلا رہتا سے اوس کے مال دجان ٹل رکاپ تص نہہوانکوا یک کوک ی ضرور تل - ۱۸پ بہاروتحزال مک اطیاط تَوَقُو ار فی اََلِه وَتقُرَه فی آرِوفَإنَهيَقْلَ فی ابْدانِ لہ فی لّمْجَارِارلهُْحِق وَآجِريُوِڈ.

ش وع سردگی ٹیس سردگی سے اعقیاطگرداو رآ خی ا س کاخ رمقد مک کوک سرد جسموں میں وب یکرکی ے جو وہ رتوںضآرل ےکہابتقداء یش درخ نکونلس دی ہےادرایچا یش سریٹ وشادا بک ری ہے.

ہے سر ارک ینلم تکاا صا تہاری ننظروں می ل کا نیا تکوتق رو یس تکردے. ۱۰پ مرنے دالوں سے خطاب قد رجع من صفینء فاشرف علی القبور بظاھر الکوفة:ي اَمْلَ الڈيَارِ لْشوحمَة وَالْمَعا الْمقيِرَة ء وَالقُورِ المطِْمَة:يَ اَل الْرَہي ال

الْعْرْتَہ یا اَمْلَ الْرَحْدَ یا ال الوَخْمَةِ اَم لتا فرط سَابقء وَنحْنْ لكُمْ تع لاجق. آما الدُور فقَد سُکِنّثء وَما اَزوَاغ فَقّذ نُکَحث, وَأم الّمُوَالُ فَقَد فُسِمَتٌ. هذَا خَيَر مَا عِنَْنَا فُمَا خَبَرُمَا عِنْدكُمْ؟ئم التفت الی اصحابہ فقال: اما لو اذن لھم فی الکلام لا خبر وکم ان خیر الزاد التقوی۔

ملین سے پلیتے ہو ےکوفڈے باب رقرستان پف ری می ذف مایا:

اے وحشت ا فزاگھروںء ابجڑے مکافوں اور اندعیرکی قبروں کے رۓے والوءاے خاکنٹینواے عالفریت کے سا اکنوں اےتھائی اوران یں بس رکرنے والوم یز 7 ہوج ہم ےآ کے بڑھ گے ہواو ہار ےش قم پر لکرقم سے طاجاتے ہیں اب صورت مہ ےکگعروں ٹیل دوسرے ڈنل گے ہیں ء یں سے اوروں نے کا حکر لیے یں اورتہاراال داسبا بی ہو چا ہے یل ہمارے مہا لکاخمرہے ابتہارے یہاں ارچ

رجضرت اپنے اصحا بکی طرف متوجہ ہو اور فرمابلاگر آیں با تدکرن ےکا اجازت دی جائے فو یں با میں گےک ہابت بن زادرا وك کی ہے.

(۱٣اپیرنا‏ کی اتی

وقد سمع رجلایذم الدنیا:

یھ اللامْ لڈنیہ المُعْمَربِمرُوبِقَاء الْمَحْد وع بأَاطِيِيهَا اغتَرّبِالڈن نم تَمَیٰ غَرَنْکَ؟ ہمصاع آباِک من اللیٰ' ام بمَضاجع أنهَايِک تَحُت

الرّئا؟ کم عَلَلْتَ بِكَفِیْک وَكم مَرَضْتٗ بِيَدَیْک!تَبَتغی فی لَهُمالشْفَاءَ وو وس سم می وَاَبُ يُجُدِی عَلَيْهمْ

ماک لم يْقَعغ اُحَتَهُم اَفْففُک وَلَع تْسْعَف فَيه بطِلِْک, وَلَم تَذْفم غَُُ عَنْه بقویک! وَقَه مَقْلّث لک بو اڈنا نَقْمَک, َبمَضْرَعِهِ مَصْرََک 7 انی داز مدق لِمَنْ صنثَهَاء وَذاز عَافِيةلِمَنْ فهھم عَنهَاءوَداز غَيیَ لِمَنْ تَرَودينْھَا ء وَدارمَرْعِظةِلِمن اتّعظبِھاء سج أجبًاء اللٰيہ وَمُصَلَیٰ مَاهِک الله َو وَحْي لله: وَمَتَجَر اَوَاياء اللہ ِء اَكَتَسببُوا فِيْهَا الرَحْمَة وَرَبخُوا فِيْھَ الْجَِنَة ء فَمَنْ ذَا يَلمُهَا وَفد آ دنت بِبْهَاءوَنَاث بِفراقهَاء وَنعَتْ نَفسَهَا وَامْلَھَا: فمَعْلّث لَهُم ببَاّھا َء وَشوَقمهْم بِسُرُورِما لی السُرُور؟ رَاحَت بِعَافِیة وَابََگرٹ بِفَجِیْعَة (نجعق تَرِْيًا وَتزْمِيباء رَتَخِْيْفَا وَتَخْدِیْراَفْلمَها ِجَال غَدَاة الندَامَة وَحَمِدهَا آِرٴون یَوُمَ الْقَيَامَةِ ذَكرَنهُم ڈیا قعَلگرُواء

یک کون کی مال کرت نے سا تفر ابا نے دنا نکی مرائ یکر ئے وا ےئن کےفرجب میں بنا ہونے وا نے !اورغملطاسلط با ول کے دجو کے می ںآ نے وا لے !تم اس پگ روید ہی ہوتے ہداو ربچ را ںکی غرم تبھ یکرت وک یاتم دن اکو ریہ رن کان رت ہو؟ یاد یں ہج رب رائۓ قح ہجانب ہے ؟ نان کب تہارے وش وجواس ساب کن اورکس بات تفر یب دیا کیا لاکت لن ساتہارے باپ داداکے بے جان ہوک رر نے سے پامٹی کے یچارک ما لکاخوابکگاہوں ہے ؟ہکن یم نے پیاروں

گیا د یھ بھا لک او تن ی دف ود جارداری اکا ا کوک جب ددا ارگ ہوئی نظ یی اور یئ ھاراروناوجوناان کے لیے پھومفیرتھاتم ان کے لیے شفا کے تواہش نر تے اورمیبوں سے دوادارو پوت کرت اع ین گی ایک کے کش ی تا افش فا زمر خابت نہپہو کا اوقہاراائسل مقصہد حاصل نہ ہوا اوراپٹی جار دسا زکی تم مو تکواس پبار

سے نہ ٹا سد نیانے و ال کے پردے میں و _ہاراانحام اراس کے بلاک ہہونے سے خودتہاری با تکاقش شی دکھایا دی بلاشیردنا پٹ کے لے جو باورکرےسچائیکا گھ ہے اور جوا لکی ان پان لکوھے اس کے لے اکن دعافی تک منزلی ہے اوراس ے زادراہ حائ لکمر نے , اس کے لیے دونند یک منزگی ہے اورجوااس سےنشیحت حاص لکر ےاس کے لے دعظا یح تکاکل ہے .دہ دوستان خدا کے لے عباد تکی مک ار کے فرشوں کے لیےنماز پڑ ےکا مقام دی ال یک مضزل اوراولیا اب کی تار تگاہ ےانہوں نے ا مرن درم تکا سوداکیااوراس بل رج بہوۓ جن تکوفا دہ میس حاص لکیان ا بگون ہے جودناکی با یکرے ج بکہاال نے اپے جدا ہو ےک اطلاردے دی ہے چنا نال نے ای اتلاے الا ءکا پددیاےاوراپی مسرنوں ےآ خر تک مسرنو لکا شوق دلایا ہے دہ رقبت دلا نے اورڈ ران خوفزدوکمرنے او رف بکرنے کے لی شا ممکواصن دعافیتکااور کودردداخدد ہکا پنامم نےکرآ کی اذ جن لوکوں نے شرمسار ہوک کیا دہ

ان سکی برا یکرنے گے اور دوس رے لوگ قیامت کے دن ا لک یتت ری فک میں گ ےک دتیا ۱ نے اا نکو1 خر تک یاددلا کی تو انہوں نے یادرکھا اود ال نے انیس نر دی تو انہوں نے تل کی اوراس نے انی پندوش جح تک نو انہوں ن نیسحت حاص لکی-

تر موی ے ے جح نت سب شی ت ‏ تہ

گتکارئا.......۔۔ا....ت[.:ت....حییییدۃ ےت ۳۶ا پ‌فر نکی ظا لو مَلگايادِی فی کُليَوْم: ِڈوا لِلمَوْتِ ء وَآَجْمَعُوا لِلْفَاء وَابتُوا لِلْحَرَاب. الیکا ایک فرش پرروزییند متا ےک ہموت کے لیے اولا دپیراگرو پر بادہونے کے لیے عکرواورتاہ ہونے کے ل یما تی ںکٹییکرو۔ ۱۳۳ب نکی دا اڈنا فَارْتَمَ از مَفَوُء وَالَاسُ یه رَجُلان: رَجْلبَاع يهَا نف قَاؤبَقَھَاء رَرَجْلابْمَاع َفَْ فَأعَْقَھَا. دناصل منزل قرار کے لیے ایگ رگاہ سے .اس میں دڑحم کے لوگ ہیں :ایک دو جنہوں نے ای مین1 نٹ سکو چک بلا ککردیااورایک دو جنہوں نے ا شف سکوقر یوک رآ زااآ/دیا. ظ ۳۳ پچ ددکی کے شر 1 ليَکُون الصَدِیٔی صَیِبْفًا عَمَیٰ يَحْفَظ أُعَاه فی لَلَثٍ: فی نیہ وَعَيْيهِء وَوَقَايهِ. دوست ال وف تک دوس ت نیل مھا جاسکنا جب ک کک دہ اپنے بھائی کی خن سوتتوں پگ ہداشت شکرے :مصیبت کے ون پرە ای کے بی بپیشت اود اس کے مرنے 0

۳۵ا چاری یں

نی گے کا و ہر لے ا سوا بے راو کے َ‫ 370920 تب ۸ 4 مَنْ اغطِیٗ اَرَعَالَمْ يُحْرَمْ اَریَهَا: مَنْاَغُطِی الُعَاءَ لم يُحْرُم الَجَابقہ وَمَنْ

7 ے لا یع ٤‏ یوے یوے ققو خ بر و ہے کے ہو لم ہے کاو کو وی کی کے وی وی اق اغطِیٗ العوٰبَة لمْ یرم الْقبُولء وَمَنْ اغطی الاسُیغفار لم يُحْرُم المَغفِرَۃِ وَمَنْ

نول المُكرَلميُخرم الزَاقَة ....وَتَصْدِیق ذلِک کَِابُ الله قالَ اللَهفی الدتماء: اُڈٹموی اَسْمَجب لكُمْ وَقَلَ فی الاستغفار: روَمَىْ َغمَل سُوء اؤ يظمنَفسَۂ کم تعفر الّه ید الله ققُوراَرَحِْمام َال فی الشکر:(كنْ فکرْتم لا رِيدنكُمم وَانَ فی العربة:ر نما لب عَلیٰ اللهِلَكِييََعمَلونَ الشوۃ بجهَال موق مِن قرِیب فَأُويکَ یوب الله عَلَيهمْ وکا الله

ین سک پا ریز یی عطاہ وی ہیں دہ جار چززوں ےجرد سکنل ر جتاجودعاکرے ووقھ لیت مھدم نیس ہوتاء ےو کی تی ہودومتبولیت ے ناامی نہیں ہوتا صے استغفا رحب ہووہ مففرت مھدم نیس ہوتااو شک رکرے وہ اضافہ ےجرد میس ہوتااورال کی تصد یق رن یرے ہولی سے ناخ دا تلق ارشادالہی ہے :تم جھ سے ہاو میس تہاری دع قول کرو ںگااوراستتخفار کےےتحلق ارشاوف با یاے. جو سکوئی برا لکرمے یااپنٹٹس بن مکرے چھرایڈرے مخفر کی دعا ما کے فو دہ ل٣ل‏ کو ڑا نے والا اور رت مککرنے والا پا ےگا اورشم کر کے ارےمںف مایا سےاگرتم ش رکرو گا می تم پت مس اضاقرکروںگااور تب کے لیےفر مایا ہے ران بی لوگو ںکی تو رتو لکرتا ہے جو جہاا تک بنا کو گی برکی مرک ت شکرشیٹھی پگ رجل ری ے تق رک رس نو خداا لیے لوگو ںکی نے تو لکرتا ہے اورخداجانۓ والا اورگست والا ے ۔

۱۳۷ یھن عباد تک تقر

الصٌایَه فُربَان کل تَقیٗء وَالْحَجٌ جھَاڈ کُلَ صَِيْفِ. وَلِگُل شی رِکاةء

وَکا ادن الصَامٌوَجهَاذ المَرْاة عُسنْ البَكُل. خماذ ہرپر بی گار کے لیے باح قرب سے اور ہرحیف ونا فا ںکا چہادہ. ہرہز گی زگ ہوٹی سے اور بر نکی زکونۃروز دے اورگورتکا چہادشو ہر سےتسن محاشرت ہے . طل؟ صرد اَسْتووا اق بِالصتَقَے. صدتہ کے ذربیروزیطلبرو. ۸ اب جو رونا مَْاَيْقن بِالّحَلَّفِ جَاد بالعَطيّة. ےکیٹ کے بل ےکالیقین مہودوعطیہدہین یس در یاد لی دکھا تا ہے . ج(۳۹ اپ رز وروزی ول المَمُونَةُعَلیٰ قَذر المَوُوََةِ تنا خر ہواتی ہی امداڑلقی ے. ۳اپ ےکنا تشعاری ماخحالی من الفحصدہ. جومیاضدددی افقیارکرتاے دجتا عکیں متا. ۳اپ راحت وآ سودگی قِلَة لِيَاِ اذ الیْسَارَیْن تلق نکیکی ددقموں میں سےای کب مکی 1 سور ے ۲ اکنل طافات

لوڈ شف الفل. میلعت پداکر تت لکاضف صرے.

ربعبا٤٤‎

حَبط عَمَله راجرم

معحیبت کے اندازہ پر ال رکی رفص رکی جمت عحاصل ہوتی سے جوٹنں مصیبیت کے وت ران پر ہا مارے ا کال اکحارت ہو جاجاے.

۵ ایل بر

کم منْ ضائم لیس له می عِیّام ال الجُو غوَالطمَاء وَكُم مِنْ قائم لیْسَ من قِيَامه ال السُهّر وَاَْءُء حَبَذَا نوْمْاَكَياسِ وَافْطَارْهُمْ

بہت سے روز و داراییے ہیں یں روزو کاٹ ر ہچوک پیائل کے علادہ یس متا اور بہت سے عابرشب زندرہ دار ا یےے ہیں جتتجہیں عبادرت کے تی یش جاگے اورزمت اٹانے کے سوا پیج حاص لی ہہوتا زمیک ددانا لوگو کیا سونا اورروز و شہرکھنا گی ال

رئش ہوتاے.

٢اپ‏ صرد وزیات

سُوسُوا ِيْمَانَكُمْ بالصَتقَقہ ء وَحَصُنُوا أُمُوَالكُمْ بالرّکاء وَأَذَِعُوا َمُوَاج بَا بِالأُعَاء۔

صدقہ سے اپنے ایما نکیگہداش تکرواوردعا سے مصیبت وابلا کی اہرو لکودور و

۴ا پفضیا تم

ومن کلام لکمیل بن زیاد النخعی:قال کمیل بن زیاد: اخذ بیدی امیر المومنین علی بن ابی طالب': فاخرجنی الی الجبانء فلما اصحر تنفس الصعداءء ٹم قال :یا تُمِیْل بن ريد اِنٌ هو الْْلُِبَ أَزْعِيَةء فُحَيرُمَا اَرْعَامَاء فَاحْقَظٌ عَتّی مَا اَقولُ لک:المَاسُ قَلاکةً:فعَاِلُم رَتَانِیٌء وَمُتَعلُمْ عَلَیٰ سیل نَجَاۃءوَعَمَج رِعَاع ابع کل اي (صائح يَميْوَ مَعَ كُل ربچ گَْ يَسْمَضِيُوا بنُور الْعلمء وَلَمْفََجَوُو اِلَیٰ رن وَثق.

ا کُمیْلْء الم عَيْرمِن المَالِء الم یَحَرّمْکَ وَآَنْتَ تَحْرّسُ المَال. وَالْمَالُ تَنْفصُ الْقَقَه وَالْلم کو علیٰ الإلقَاقِء رَصَيٌ المَال یَزُولَ برٌوالِه یا ُمَیْل بن راو سی الم دی يدَانْ بیہ بهِيَكَیبُ اِنسَان الطََاعَةً فی جِیَاتِیِ رَجَمِيْل اُخُذوقَہِ بَْد وَفَايه. َاللمْ عَاَم, وَالْمَالُ تتلیزدال

بَا ُمَیْلْء َلَک ُوّائ الْمُوَالِ وَھُمْ اَخْيَاءء وَالْعلمَاءُبَاقُونَ مَا بی الّھُوٴ: اَغيَانْهُمْ مفْقُوَةٌء وَامَالْهُمْ فی الْقُلُبِ مَوُجْودَة. تا اِن مَاہَُا ما

جم روَأفَار بِيَدہ لی صَذرِی لو أَصْبت له عَمَلَهً لی امَبْت لقن عَيْرَمًَ مُون عَلَیْوہ مُسْمَعْملاًالَة ال لِلڈیاء وَمسْتَظْھراً پیغم الله عَلَیٰ دو بج عغلیٰأُوْليائه: آؤ مُْقَادألِحَمَلَةالْعَقٌء لأَبَصِيرَة لە فی اَخنائهِ (احیائ یَنْقدِم امک فی قَلْبِهِاُوَلِ غارِض من شُبْقَةٍ الَلاَذَا وَلاَ ذَاک ا اَو مَنْهومَا باللَةةسَلِس الْفِیَاد لِلمُهُوَةَ از مُعْرَمَ بِالْجُمُع وَالافَحَارِء سا مِن رُعَدو الین فی شَیْء ارب شَی شَبَهَاء بِهمَا اْنْعامْ السَِمةًا کُللِکَ یَمُوث الم بِمَوُتِ خَابلیه۔ لم بَنیٰ! لاتَخُلو رض من قائم لہ بِحُجة ا طَاجِراَمَشُھُوراًء َإنًا حَائِفًا(حافیا مَفْموراً لِنَلَََيطُلَ خُجَٔج الله َیَاَه. َكُم دا وین اُزلیک:' اُزلیک. وَالل. ااقَلُونَ غَدداٌء وَالَغْکْمُونَ عِنْد الله قڈراً۔ یخَفَغ الله هِم عُجَجَه ََِّاوہہ عَتّٰیُوهِ وا نَطرَاءَهُمْ وَبَزرَخُوما فی لوب اَمْبَامِھِم مَجَم بهخ الم َلیٰ عَقیقة لیر وَياشْرُوا رُوخَ الیْقِيْنِء وَاسْقّلائُوا مَا اسْمَوْعَوَة الْمُمَرَقونَء وَأیسُوا بِمَا اسُتَوّحَش مِنْهُ الجَامِلوؤ, وَصجبُوا انا انان اَرَاخخھ مُعلقةبالْمَحلَالغلیٰ, رلک ملْفَاء الله فی اَرضِهء وَالڈعَاۂإلَیٰ ِئیءآہ آو شف اَی رُزَھِمْا َنْصَرٍِف یا كُمَيْلاِذَا حِنتَ. کیل این ز پاش کت ہی ںکہ :ام ال نکی این الی الب علیہ السلام نے میرا ات پکاادرقبرستا نکی طرف نے ےجب بادکی سے اہ لیک یآ وکا ءچھر

ا ےہ

فرایا:

57 میردل اسرار وم کے ظروف ہیں ان ٹل سب سے مہتردہ ہے جوزیادہ گمہداش تکرنے وال ہو .لہ ان می ای تال اسے یادرکھنا۔

دیھد ا تنم کے لوگ ہوتے ہیں ایک عالم رای دوس امصمل کہ جوفجا تک راہ پر پرتر اد ہے اورتیس راعوام الا سککادہ لیس تگردہ ہ ےک ج ہر پکارنے دانے کے کے ہو لیتا ہے اود ہرہواکے در پر جانا ہے .نرانہوں نے نوعلم سےکسب شیالکیا سی مضہوط سہار ےگا پناد لی

رو درکھ یلم مال ےہر ےکیونگ یمک ہار یگگہداش تک۸ا ہےاودما لکی تھہیں ال تکرن لی ہے اود مال خر جکرنے ‏ ےگھٹنا ےل عم صر فکرنے سے پڑہتا ہے اور مال ددوات کے تار واثرات مال کےفنا ہونے سے نا ہو جات ہیں

ےیل ھک اسائی ایک دبین ےک جن کا اق کی جائی ہےاسی سے انسان ای ندگی ٹل دسرول سے اپتی اطاعت موا تا ہے اورمرنے کے بعد کیک نا می حا لکرج ہے یادرک یلم ھا ہوتا ہاور مال یلوم

اع ل مال اکٹھاکمرنے دانے زندہ ہوتے کے باوجودمردہ ہوتۓے یںاورضم عاص لکرنے والے رہق دنا تک باقی رج ہیں بے شک ان کے اجمامنظروں ے اویل ہوجاتے ہی ںگران کی صورییش ولوں میس موجودرہقی ہیں اس کے بح رحضرت نے اپ بیدائاں کی رف اشار ہکیااورفر با دیکھوایہا ع٦‏ مکا ایک بدا ذ تر موجودے اش اس کے اٹھانے والے جال اتے :ہاں طاءکوگی تی لیا جھذ ین ےگ رن تال

اظھینان ہے اور جود اک لیے دی نکوآ ہکا بنانے ولا ہے اودا کی ا تو کی وج ے ال کے بندول پراورال لک یجن لکی وجہ سے اس کے دوستوں پرتفوق و برت یی جنلانے والا ہے .یا جار باب تق ودائ کامٹیع ند ےگر اس کے ول کےکوشوں میں بصیر تکی رش کین ےکن اع دسا یہ جات ود زاین کے ول میں گول وٹہا تک چنگاریاںگھڑ نکی سذ معلوم ہو نایا ہپ ےکمہنہ مال تقائل ہے اورنددہ اس قائل ے پاالیہا تس اتا ےک جولذتوں پرھناہواہے اور ہا سای خوابش فمای یداو جائ ےا ہے باا یا جو آ ودک وذ رو اندوزگا پر جان دپے ہدے ہے بردوفو لچگیا دین کے مکی ام رکیادعایتد پاسداریکرنے وا لجا میں ان دونول سے انچائی تی شباہت چھنے دانے جچھ پاۓ رت ہیں ءای طر نوعلم کےغبدداروں کے مرنے سے تم بھ جاتاے

پا گرز شن ای یےفردے خا ینوی رہق کہ جو خد ای جح تکو برقراررکتا ہے چا وہ اہر دیشبور ہوایا خائکف و پنہاں کہ ال کی یٹیل اورنشتان نے نہ پانتیں اور دہ میں ہی کت او رکہاں پ ہیں خر کیا دو کت میس بہتیھوڑے ہوتے ہیں اورال کےزد ثررومطزلت کے ففاظط سے بہت بن خداوند عا لم ان کے ذدلجہ سے این یتجنول اورنشائوں گیا تقاط تکرنا ہے یہا ںک کفکردہا نکواپنے ایسوں کے سپ ردکرد یں اور اپنے الوں کے دوں میں آئیس بودیعلم نے یں ایک دم یقت ولصیرت کے اکشافا ت کک بیٹپادیا ۱ ہے دولقبین واختادکی روح ےگل گے ہیں اوران چیزو ںکوچن ہی ںآ رام پیندلوگوں نے دشوارقراردے رکھا تھا اپنے ل یکہل وآ سا نمچھدلیا ہے او رین چیزوں سے جائل

ینک اشتے ہیں ان سے ہرگ لاۓ ٹیش ہیں .دہ ای ےتسمدں کےسا جح دخیائییش رتے حتے ہی ںک ررش نکی ریس ما ءاعی سے وابست ہیں بی لوزن میس ال کے اب اور ال کے دی نکی طرف دقوت دیے دالے ہیں ائے ال نکی دی کے لیے مرےشو کی فراونی بیترت ےلمیلی ےڈ الیل :ھچ ینا کہ کا ا جن وقت ما ہووائیل چا۔

مہثوسھ+ وم کظہبھدابولن کے خوائس ا حاب میں ے تیعم پل میں بلندرمرتبراورز پرودرم می انیاز ضا کے عائل تھ بحضر تکیطرف سے پھزکرصکک ہیت کے عال ر ہے 8 3مجج رم مٹس 90 بر کی عرشس تاج این ایس فی کے ہاتھےجشویدہوے اوریبرو نکوڈ ران ہوے۔

۱۸ تام رجش فی باشر

الم مَشبوء تحت لسافے. انساان ایا باان کے یئ چا ہواے.

مطلب یہ ےکہانسا نک در تج تکاانداز دا ںککنفنگڑے ہو جا تا سے ؛کیونکہ بت کا موا سککی ڈینی واخلاقی حا تک ممینردارہودثی ےن سے اس کےخیاللات دج بات کاب ڑگ آ سای سےاندازولگایا جاسکنا سے .ہز اج بکک دہ خا مل ہے ا کا عیب دہش رپ شید ہے اور جب انسا نیز با نمی اذا یکا جو ہرمایال ہوجاتاے.

(:4ئ۸راغای ملک اَمْرُوْ لَميَمرف قَذرَۂ. وس ای رد زا توکس پچ متادہ لاک ہوجا تا ے

اپٗا‌پنروموعظت

لرجل سالہ ان یعظہ: لاکن مِمّنْ يرجُو الاخِرَة عو العمَلِء وَبرَجُی السََْة بشُولِ اَل یَقُولُ فی ال ِقَوِْ الزَامِئنَء ََمْمَلْفِيْهَ بِعَمَلِ الوّافبیْنْء ِؿ أُغُطِی بِنْه لم شیع وا می مه لمع یَقجز عَْ شُگُر َا اَی وََيَفی الریَافَة فِيْمَا فی : ََهَىٰ وھ وََامربِمَا لایًنی: شب الصَالِحیَ وَلَاَمْمَل عَملُمْ وس الْمذيیرَمرَأعَثهمْ بکُرۂ الْمَوْت لِکَْرَة فُوِہہ وَبْقِیْمْ علی ماك المَوّت مِنْ اجُله إِ مَقمَ گل تاوما وَاِنْ صَح این لامِیًا: یُْجب تقو ِ٥ا‏ عُوْفِیَء وَبقْط اذا لی اِنْ اَصَابَۂ بَلَاهُ دَعَا مُضطرأء وَاِنْ تَلَه رَحَاء اَغْرَض مُغحَرًا: تغْلبة َفْمَة عَلَیٰ مَا فو بِاکُفَرَمِيْ عَمَلہ: ا اق بَطرَوَكَْء ون اََقرَ قبط رَرَمَنَ: بقَصرإِذًا عمل, وَیَاِع ِذّا سَأل: اِنْ عَرَصّث لَه فَهُوَة اَسْلَف الْمَعْصِيَة وَسَوت الَوَة وَاِنْ عَرَنَهيِخنةَاقرَج عَنْ شَرائط الم یِف الئَة وَلاَ َغترْ َبَاِغ فی الَْمکة رَلايتظُ: قهر بقل مل وَبنْالعمَلِ ُقِلٌ, يَخُفَیٰالمَزْثء وَلائَاوز الّفَزْت: يَْتَظِمْيِنْ مَفصیَة غَْرِهَِ یل تر ِنه من َء وَیَستكِرِنْ طایه ا َحْقِرّةُمِنْ طَاعَةعَيْرِو قهوَعَلیٰ الَاسِ طَاعِنْء وََِقْيِه مُدَامِ: اللھُوا (اللغوا) مََ الّخييَاء اب ال مِنَ

عَيرَه موی تَفْسَة هو یع می وََسوفی وَلاتَوّفی وَيَحْمَیٰ علق

نک ئن نے آپ سے پنروموعظ تگا راس تکی تو ف مایا مکوان لوگوں کن سے نہہونا جا ےک جوشل کے بخی رن اضجا مکی امید کھت ہیں اورامید ہیی بڑھاکرفذ کو جا یش ڈال ذینے نہیں جودخیاکے بارے میس اہو کیاہی باقی کرت می ںگ زان کے اعمال دنیاللبوں کے سے ہوتے ہیں . اگردنانئیں لو وہ سکیس ہوتے او راگ رنہ لے راع تی ںکرۓ ج ٹیس ملا ہے اس شر سے اصصرر جج ہیں اور جب ر ال کے اضا ذ کےخواہشمندر جج ہیں دوسرو لح اکر تے ہیں اورتدباز لآ تے اوردوسرو ںوھ دتے ہیں ای با و ںکا جن میں خود ب نہیں لات کیو ںکودوست رھت ہی گان کے سے اعمال نی ںکرتے اورگنگاروں سےنفرت وعناد رت ہیں حالانکہ ود خوداٹچی میس داخحل میں اپنے گنا ہو ںک یکثزت کے باععث مو تکو برا یت ہی گر نگمناہو لںکی وج ےمو تلونا نر کرت ہیں انی پہقائم ہیں .اکر بیار پڑت ہیں لان ہوتے ہیں .جب پناک ے چھذگاراپاتے ہیں قوذ ات انے مگلت ہیں . اور ملا ہو تے میں تذان پہ مالای بچھاعالٰی ہے .جب میتی واقلا بش پٹ تے ہیں ولا ارد یٹس ہوکردھائکیں مانکتے ہیں اور جب فراخ دی نیب ہوئی ےتذفر یب می نل ہوکرم پھر لیت ہیں. ا نکلٹس خیالی باتوں برای ل ابو مم نے1 ٢‏ ہے اود دو نی باقوں برا ےنیس دہا لت . دوسروں کے ل گناہ ے ژیادہ خطر شس ںکرتے ہیں اوراپنے لیے اپنے اعمال سے (یادہ بزا کے متوحح رجے ہیں .اگر

مالدار ہوجاتے ہیں تو اترانے سگت ہیں اوراگ رق رہوسجاتے ہیں نے ناامیرہوجاتے ہیں اور نت نے گکتے ژین:ج بأ یکر تے جو تاس می مت کے میں اور جب ان پآ تے ہیں تو اصراریٹش عدسے بڑھ جات ہیں .اگران پرٹوابشل فغمانی کا خلب ہوتا ےت گناو لد سے جلدکرتے ہیں , اورتذ کلت بی بی ڈا لے ر جج ہیں , اگمرکوگی مصعیبت لات ہولی ہن جماعت اسلائی کے خص وی اقیازات سے الک ہوجاتے ہیں . عبرت کے واتحعات بیا نکر تے یگ رخودبرت حاص لی سکرتے ادردعناضشیحعت بی زور باند حت ہی گر خو دا نسح تکا ای لیے چنا چردہ با تکرنے مس تذاو جج رہ ہیں گیل کم میک رہے ہیں. فانیجزدوں م نم یتم یکرت میں اود اق رٹ ے دالی چو مش کیل اڈگاری ےکام لیت ہیں دوٹنعکولتصان اورنتصا نکونخ خی لکرتے ہیں . موت سے ڈرتے ہیں. مگ رفرصتکا موق بل جانے سے پل اعمال مٹ جلینئی کرت . دوصرے کے ای ےکنا ہکو بہت بڑا یکن ہیں ٘س سے بڑ ےکنا وکوخوداپنے لی ےتچھوٹا خی لک تے ہیں دادور اپتی مکی اطاع تکوزیادہ یت ہیں ھے دوسرے س ےکم پک ہیں .ہز دولوگوں پر مت ہہدتے ہیں اور اپنے نٹ سک چگنی چک باقوں ےتحری فکرتے ہیں . داشنریں کے ساتوطرب ونثاط بیس مشخول رہن ایل خر یوں کےسات تغل ذکر میں شرکت سے زیادہپند سے اپانی ٹم دوسرے کے یں اپے خلا فعملگاتے ہیک نبھی ری کرت ےک دوسرے کےق میس اپنے خلا فعم لگا میں .اورو ںکو ہرابی کرت ہیں اور ۱ اپ ےکوگراہ کی راہ پر لگاتے میں دہ اطاعت لیے ہیں اورخود نا فر مال یکر تے ہیں اوریقن راودا یصو لکر لیے ہی ںگرخو یی سکرتے ‏ دداپنے پروردگا روط راندازکر کےلوقی ےتوھ فکھاتے ہیں اورتوقات کے بارے می اپنے پروددگا ر ےی ڈرتے .

ب۵ا انام گل اَی عَاقيَة عُلوٰةاَؤمْرَةِ. عیوسمسی زین (۱۵۳ش- :ماگ ِكُلَ مُقْبلِ ار وَمَا ایر کان لم یگ ۳ نے دالے کے لے نا سے اورجب کات ی ای ھائ یں ۵۳ اضر کیاکی لأَعدَمْ الطُبُور الطُقَرَوَانْ طالَ بِه الؤمَان. صب رکرنے والا ضر کاھرالٰی سے مرو موی ہوتاء چا سے اس ٹیس طو بی زمانہ لگ جاے ۵۳ا پل اوراس پِرضامندگ الرٌاضی بِفِغْلِ قُوْم تالداخِلِ فِیْهِمَعَهُمْ. وَعَلَیٰ کل ذاخجلِ فی بَاطِلٍ ِنمانِ : تم العَمَلِ اہ وَآتُمْ الرّضیٰ بو۔ کی براعت کنل بررضا مندہونے والا لیا ہے تھے اس کےکام یں ش یک ہو۔ اورفا کام یش ریک ہونے والے پردوگنا ہیں ۔ ایک اپ لکن ےکا او ریگ ان پہ

رض امن ہو ےکا-

۶4۱۵۵ ہر دوان َعْتَصِمُوا باللمَم فی أَونَاهِهَا. عہد پان کیا ذممدار و لکوالنع ے وابتکروچجویجخوں کے ا لے مضبوط ہوں_

٣ )۱۵۷(‏ فتاام

تم را طاعتگھی لا زم ہے ا نکی جن سے نا وا یف رہ ےکیچھی ہیں معا نی نہیں -

خداو عالم نے اپنے عدل ورہمت سے جس ط رح دی نکیا طرف درہہرکی ورہنمائ یک نے کے لیے انا کا سلملہ جار یکیااسی رح سلسلہ وت کے ہونے کے بعدردی نکوضبد بی ریف سے فو رکنے کے لیے امام تک نغفا ذکیا کہ ہرامام علیرالسلام اپنے اپ دور یں تھلیمات البی کو خواہشل بی یاندے یا اکراسلام کچ اکا مکی رفا تار ےاو جن رح شریجت کے کل گی محرفت داجب ای طرش رلعت کے محاف طکیپھی مم فت ضردرکی ہے اور جا لکواس مل مجزور نیس قراردیا جاسکنا ےکی نہ منصب امامت برصد) ابے دانل وشواہرموجود ہیں می سے کا پلبصیرت کے ینکش ای ہوکتی چنا راک ح لی علیہ دآل ہی مکاارشاد ےک جھ شف اپنے دورحیات کے ام مکونہبپپانے اوردنیا سے اٹھجائۓ ءا لک مو تکفروضلال تک موت ج

اہن لی الد ید نے بھی اس ذات س ےکس سے ناداققیت د جبہالت عذرور ڑل نکی حر تکی ذا تکومرادلیا ہے اور ا نکی اطاع تکا اعتراف او گر امامت کے خی نا .گی ہو ےکا اقرارکرتے ہو ےت یکا ےک : جو حضرتتیلیعلی السلا کی امامت سے چائل اور کیاححت د لز ما مگ ہودہجمارے اصحاب کے نز دک ہمیشہ کے لیے ای ہے . ضداے نمازفائدود ےک

ہے نددوز ہ کیو محرفت امامت الع جنیادٹی اصولوں می شر ہوی ہے جو وین کے لص ارکان ہیں۔الہ تہ مآ پک امامت ک مگ رکوکافر کے نام ےکی پکار تے بکسہاسے فاستی اہی اور بے رین ویر کے ناموں 4759 /,,, ھ8“ یں ء اور بی ہمارے اصحاب اوران میں فرقی ے ترصرفففی فرقی ےکوئی وانتی اورستنوی فر قکڑیں سے . )شر ابن ال الد ید جلد (1319 پڑے۵ اپ بن روشحت

قڈ بُصَر تما اَصَرْتُمٍْ وذ میم اِ اعدم وََسمِعم ِك امم

گرم دیکھوہ. یں دکھایا جا کا ے او راگ رم پدایت حاصم لکروق ت ہیں ہرای تکا جاچی سےاوراگرسفناجا ہو یل سنایاجاچکاے-

۵۸ اپ برا یکابر لال

غاب اَحَاکٔ بِالَاحْسَان اِلَيِْہ وَاَرذُذ شَرَه بالاْغام عَلَيْهِ

اپنے پھائ یکویشرمندہاحسان بناکری رزن کرواو رطف وکگرم کے ذر لج سے اس کے شک دورگرو_۔

اکر برائ یکا جواب براکی سے اودرگال یکا جوا بگالی سے دباجاۓ وذ ال ےش یکاورواڑہ کل جا جا ے.اوداگمربرائی ےچ 1 نے دا نے کےساتھنریی د لاحم تکا رو مرا ختیا رکیاجاۓ قد ہبی اپناردیہ بد لے پرجبورہوجاتۓگا۔ ناخ ایک دفعرامام تن علیرالسلام بازار ہر ی ٹل ےگ رھ ےہایک شاک نے ا پکیا جاز ےا رتفعنیت سے ما2 وک زاون ے ددیافتکیاککہبیکون ہیں؟اے بتا اگ یاکہ ین انی علیالسلام ہیں یک نک رائس ک ےکن بد سآ گ کٹ ککگأا اورپ کےیقر جب ؟ کرائنل برا لکنا رد حکیاسکگ رآ پ زا موی سے سنت

رسے جب دہ چپ ہوا نآ پ علیرالسلام نے فرما یاککمعلوم ہوتا ےکنغم یہاں ند واردہو؟ ال ن ےہ انکہ ہاں ایما تی ہے۔ف ماک ہبچرتم میرے ساتھھ لو می ر ےگ می بد ءاگرشمجہی ںکوئی ۷٣٭)٭٣۷ئْ۷ًْ۷۷۹۷۹۸‏ 0 جب الک نے ایت کت ددرشت بانول کے جواب میں بیز روی دقن اخا 1 دشھی :شر سے پل ای ہوگیااود اپ گنا ہکااخترا فکرتے ہو ۓےمفوکا طالب ہوا ءاور ج بآ پ سے رخصت ہوا ددئے ز من پان سےزیاد کک ف دو ضزات ا سک کاو جگی- (۵۹ا موا ح ہت جو بدنا کی جہوں پاپ ےکانے جاے تو چراسے برانہ کے جوال سے بن ہو۔ ٢١‏ اپ جاتبداری من ملک اسْعاقَ. جواقتہارحاص لک لیے جانبدار لکرنے یگتاے_ ج۱۱ درا ی َيٍ اسْتَبَةبِرَايهِ هَلَک, وَمَنْ شَاوَرَالَّجَالَ شَارَ ھا فی عُقُوِفَا. جوخودرائی ےکام لگا دہناود بربادہوگا اورجودوسروں سےمشورہ لگا دوا نکی خقلوں ہیں ریبک ہو جا ۓگا_ اپ٭رازداری مَنْ كَتم سِرَةُ کانَث الْحَيْرَةبيَلِهِ

جھاپنے رازگ چیا رگا اسے برا قا ور ےگا

۹۳ا نتر وناراری الْفْفرالیموزٹ ا بی فتق,رکی سب سے بڑکی ض وت ے۔ ۳ اتی دای جوالیےکائی اد اکر ےک جوا کات اداشہکرتاہودہال کی رت شکرتاہے۔ ۵٦ا‏ اطاع ری لا طَاعَة لِمَخُلُقِ فی مَعْصِیَة الْحَالِقي زا قکی محصیت می ںب یلو قکی اطاع تن ے- )٦(‏ تی ے ‏ نبرداری يَْابُ الّمَرْهُبِعَاخِیرِ حَقَهء نما اب مَنْ أَحَذ مَلَیْس لَهُ. کوک یٹس اپ ےن میں دس کر ےق اس ریب نیس لگا جاسکنا۔ بجی بکا بات ید ےکانسالن ددسرے ک ےق بپبچھایا,ارے۔ ٦ا4‏ رپنری الا غجَابْ يَمع لازوفا خدبندی تل ےال ەل ے. جس جوا ۓےکمال ہوتا سے اود تا ےک ایا دوکمای سے عا ریا ہے اس سے منزل کمال ب فا ئن ہون ک وت کی جادکتی سے لین جوف اس خی یس ہلا ہدک دو تام دکال اتی کے مدارج ےکر کا سے دو تو لکمالل کے لیے سی وطل بک ض رور تس و لی ںکرے گا ۔کیونک دہ :یگ خودکا لکی تام من لی نٹ مک چنا ہے اب ا ےکوگی من ل نظ رد یی سآ یراس

کے لے نگ ددوکرے چنا ہی قود ند برخودغلطانسان بی مال حدم کی ر ےگا اور ہے خود دی اس کے یت قیکی راہیں درک رد ےگیا- اتب موت مز قَِيْب وَالََضْطِحَابُ قَإيْل خر تکام علق ریب اوردٹیای با بی رنا نت رت ے۔- (4 کااچالہ

قداضاء الصبح لذدی عینین۔ آکھددانے کے لیے ریشن ہہوچھی ہے۔

ےا چون میں مشکلات تک الذنْبٍ َهوَنْ مِنْ طَلِ التَوَة تر کگمنا ہی مضنزل بعد یں مددماگے ےآ سان ے- اول ری ٹ شلگنا ے باز ر ہنا اتا مک ل نیس ہوتاء جقنا گناہ ے مانوس اور ا کی لذت ےآ شن ہونے کے بح دکیونکہانساان ینس چت کا خوگ ہو جات ہے الس کے بالا نے یل طبیعت پہ پا سو نی سکرتا لین اسےکچوڑنے میس لو ہ ےکک جاتے ہیں اورجول جول عادت پقتھ ہل جائی تی کی1 وازکنردر پڑ اتی ہے اورت میس دشواریاں حائل ہو جالی ہیں لہا ہکہکرد لک ڈاریں دتنے رہن ابو رت برک رلیس گےءاکشر بے تی ایت ہوتا ہے ۔کیوکگہ جب ابتقرا می گناہ سے زعردارہونے یس دشوار یچوس ہو ری ہے گنا ہکی حر تکو بڑھا لے جانے کے بعد ہہ

وتوارز ہوچا نگی۔

اع اپ یس یح

بساادقات ایک دف ہک کھانا بہت دفعہ کےکھانول ے ال ہوچاتا ے_

ایک شل ہے جوا یےموقتوں پراتعال ہولی ہے جہا ںکو یٹ ایک فاکدہ کے تچ اس مر کھوجان ےکہاے دوسرے فاکدول سے پاتھداٹھالنا ےج سط رح دہف سک جون مواقی شی باضرورت سے زیادوکھا لے اے بہت سےکھاوں روم ہونا ڑا ہے۔

ے اپ مل دنا دالی

لاس َغدَاءُ مَاجَھِلُو . لواچ ےشن وو تک پان ما تھے

اسان جم لم ون سے واقف ہوتا ہے اسے بی ابعیت دیتا ہے اور جس علم سے عارل ہوا ہے اسے تی راپ قراردےگرا سک ینف دیذم تکرتا ہے۔وجہی ‏ ےکمدہ ید بنا ےکہ ج رافل میں ا سمل ونن پرکننگوہوتی ہے اے ناتقائل انا وک رظ راندازکردیاجانا سے جس سے دہ ایکع رع کی بیس و ںکرتا ہے اود ریہ اس کے لے اذ ی تکاباعث +ولّ ےاوداضمان شس بیز بھی اذ بی تنسو لک ےگا ال سے طبعا نفر کر ےگا اورااس سےفشخ رھ ےگا۔ چناخرافلاطون ے ود یاف تکیاگیا اکرکیاوجہ ےکن جانۓ دالا جات وانے ےش رکتتا ے گھرجانے والا نہ جانۓ وانے سے وعنا کیل رکا ؟ این ےکہاہکہ وہ شہ جا نے والا اپے اندرای خی سو ںکرتا ہے اود با نکرتا ہ ےک چان والا ا کی جہال تکی بابرا ےتقیرو یی ہت ہوگا ٹس سے متا ہوکردہ اس سےپشن رکتتا ہے اور چان ولا ال سکی جات کے ے بری ہوتا ہےاس لیے دو یسوی کرت اہ نرجانۓ دالا اس ےتقی رتا ہوگا۔ اس لیے 0 ا

بل ےا مشورہ مَيِ اسُتقبَلَ وُجُوۃ الارَاءِ عَرَف مَواقع الْعطَاء جن ناف راو ںکاسا من ارتا ہے وہ خطاولخزنل کے مقاما تک بیچان لھا ے- "ا4نی تکاروزہ

مَيْ اَحَد بِنَام الَضَب لِلٰه قرِیَ عَلیٰلَعِْ افِڈاء البَاطِلِ.

وس ال دکی نا طرستا ن غحض ب تیڑ رتا ہے وو ال کےسودماں کےاگل پرتوانا ہو جاتا ے۔

جیأن ہحض ایل کی اط ٹل سےکرانے کے لے اش ھکھٹا ہوتا ہے اسے خداوندعال مکی طرف ےت تید ونصرت حاصمل ہولی سے اورکتر درک و بے سردسامالی کے باوجود ال قو یس اس کےعزم میں تلئزل اورخات قم مم پٹ دای ںک یں او راگ راس کے اق ام می ذائی تل ش یک ہو اسے بڑگیآ سای سے اس کے ارادہ ہے باز رکھا جاسکتا ہے۔ چنا تج رسذلقت جن ان ری علیرال رم نے زجراال ۲ تر وکیا ےک ایکٹ نے پھلوگو ںکوایک درخ تکیا پت کر تے وھ تَا نے جذ بردٹی سے متاثر ہوکراس درخ تکوکاٹ کا ارادہکیا اور جب تیشہ لن ےک رآ کے بڑ سان خیطاان نے ال ںککاراست ددکاادر بی اک کیاارادہ ہے؟ اس ن ےکہاک ریش اس درخ تکوکاغاچاہتا ہو ل :کہ لک شرکا زط لی عبادت سے باذر ہیں ۔شحیطائن ت کہا یں اس س ےکا مطلب د٭جا نی اورا نکاکام مگرداپنے ارادہ یہ جمار اجب شحیطان نے دی اک بل اکر دیز ر ےگا :قذ ال ت ےکہا کہاگر دایں ےجا ق م۲ "ہیل چپاردرام پرروزداکروںگا۔ ج ہیں بستر کے بے سے جیا کر گے ین نکرائ ناخ ت ڈانواں ڈول ہد ےگٴاو را اکرکیااییا ہیکت ہے؟ ا کہا کہ تج کر کے دیلو ہاگ ایا ہوا درشت کے کان کا موقع پھرچھی ہیں سکنا ہے۔ ناخ دہ لاب

آک یی ٹآیااوردوسرے دن دوددہم اسے بست کے نے ےل گے گگردوارروز کے بعر ے سلسل تم ہوگیا۔اب دہ پچلرٹیٹش می ںآ یا۔اود تیشرنےکردرش تک ططرف بڑ اکر شیطان نے1 گے بڑ دک کہ اکر اب تہارے اس بی نمی ںکیتم اس ےکا ٹ سو ہکوہ کی دم صرف اورک رضامندگی عاص لک نے کے لیے کے خے اور اب چند یو ںکی زار کے ہو۔لہذاتم نے باتجھداٹھایا قش تہارک یگرد نت ڑدوںگا۔ چنا دہ ےنیل مرام بل ٹآیا- ۵ے ای-۶ فااعلات

ِهًا جِبٔت اما لَقَع ِء فَإِنَ شِهة یه َظُمْمِما تَعَاث مِنة.

جب کا امرے وہشم تس ںکروو اس می پھاند پڈدہ اس ل ےک ہکھڑکا لگا رہنا ا ضر ےک جک ںکاخوف ےءزیاد لیف :دەپچڑے-

ا ے اپ سردارکی علامت آلَة الرّيَاسَة سَعَةُ السُٹرِ۔ رما وردہ ہو کازربیب دی مت ے- پلا سے اچچ برکی سے روک ےکا طربقہ

الْمازْجرُ سِیء بنا المخیسن۔ ارہز ش کا ںکابرارےلرار-

متصمدیہ ‏ ےکا سو ںکوا نکیا نکارکردگ یکا پودالوداصلردیناادران کےکارنا مو لک بنا یہ ا نکی قد را زا یمکرنابرو ںکوی ا بچھائ یی راہ پ لگا تا ہے اور ہی زا خلا تی مواعفا او یی و رزنٹی سےزیادہ مو خابت ہو لی ےکیونکہانسان طباان یو کی طرف راخب ہوتا ےہجن کےاتیہ یس اسے فو انکدحاصل ہو ادرال کاو یل بر وش نین کے تر ا ےکوگیں_

ے اپ د لی سنال

اَخْصُدِ الشُرَّمِنْ صَدرِ غَيْرِکَ بِفَلْيه مِنْ صَئرِک.

دو ے کے سید ےکی ویش رکی جنڑ ا سط ر کاو دکخوداپنے سید سے ا ےئا پر

ا جملہ کے دذمی ہو کت ہیں۔ ایک ہیک اکر مس یکیطرف سے دل می لکیرکھو گودہ بھی تمہاری طرف کین رگا ۔لہذا اپنے دل لک یکدورت ںکوم اک راس کے دی ےی کرورتلومٹادو وگول د لکا1مّزہ+وجاے۔ جبتہارےآ تینردل م لکدور تکازنگ ای ددےگا ئن کے دل ےك ددرت جال ر ےآ اورای لیے انسان دوسرے کے دی کی مفائیکااداذ و اپنے د لک مفائی سے سان یک لیا ہے۔ چنا خی یہ٥‏ نے اپنے ایک دوست سے پو ایت ےکنا ات ہو؟ اک نے جواب مل کہائمسل لیک اپ دل ے دوش بتنا تم بے دوست رکھت ہوا تما ہی شی میں دوست رما ہوں۔

دوس ےۓعما مہم ںک راگ بی چاتے ہوک دوس ےل برائی سے روت یی خوداس برائی سے باز 1اط رع تہار یش جحت دوس ے پراشراندانزہ تی سے ورنہ بےاٹ ہوک ررہ جائے گیا۔

۹ےا ضراورہٹ ری اللَجَةُتَسْلٌ الرَأیَ. ٦۷2ھ‏ ھٰ۷‌ ھ0

7 ۰

الطُمَعٌ رڈ مُوَبَد لا بمیشکی خلائی ے۔

۱ ۱۸پ دورا نر

تَمرَة اْقِيْطِ النَامَة وَتَمَرَّة الْعَزم السَامَةُ کوتا یکا نیش مدکی اورا قاط ددوراند کان ای سے .

۱۸۳ نخاموتی کو یا ی کال لأَخَیَْ فی الصُمْتِ عَِ الْحُکُم: کُمَااَنه لآَخَیْرَ فی الْقَوْلِ بالْجَهُل۔ گگیمانہبات سے نا موٹی ایارک رنے میس پھلا گنج سط رح جال تکی بات یں

کو اپچھائی یں ۱۸۳ب دنا کور

7 اَختلَقتُفَغُوْتان ِلّ کَانَت إِخذا هُمَا صَلاَلَة

جب د شف وو ہو کی ان مس سے ایک شرددگ ران یک وت ہوگی- ۱۸۳ لین مَافْكَکُت فی الْکَق مُذ أرِيه جب سے ھتان ھا گیا ہے میں نے اس می بھی شی سکیا۔ ۱۸۵ صرت مال مَاكَذَبْث وَلاَتُأَبْتء وَلآَضَلُ وَلأَصُل بی. دش نے گیمو ٹکہا ہے نہ بج ےبپھوٹی رد یکئی ہے نی خودگراہ ہوانہ ش ےگرا کیا کت

۱۸ نلکاغام 092 البَادِی عَدا بِكفَهِ عَصَة. س۲لسم'"٭"0"“*" من

(۸۸)اتق 9

من آبْدیٰ صَفححتة لِلحق ہھلک. لقن سے مت وڑتاے اہ ہجاتاے۔

رو جےصرر ہالی یل لات اسے بے اید بٹقرارگ ہلا ککرد تی ہے- (۹۰ا4ؤمیارلات وَاعَجَبَا٤ا‏ اگوی الحلالة بِالصَحَابَة وَالْقرَابة؟! اج بکیاخلاف تک معیارشںعحایت اورقرابت تی ے- سیررش کے ہی کہا مضمون کے اشعارگھی حضرت سے مردکی ہیں ج می ہیں ۔اگخم شودکی کے ذر لت اوگوں کےساہدسفید کے ما لک ہو گے ہوقو ےکی ج بک یمشورودہیے کےتتزار افراوغیرحاضرتھ اوراگرقر ای تک وج ےکم اپنے قریف پرطال بآ ے ہو بہار علادہ دوسران یکازیادہتقتراراوران سےذیادوق رج ے۔

۹۱ا :نکی حاات ِنُمَا الْمَرْه فی الڈنَا عَرَص تَنمَضِلِفِیّے العَنَیاء وَنهْبَ تبَاِرُۂ یِعْمَةٌإل بِفََاقِ اَحْرَئٰء وَلمسمَقِلْيَوّمَا ِْ غمرو اك بِفرَاق آحَرَينْ لہ حاون الَمٰوِء وَالسُنَ نُضْبالختُوفِ: فَهْ ان تَرُجو البَقَاءَ وھذًا اللل وَالهَارُ لم رما مِنْ شَیٗ شَرَفَ ال أَسُرَاعا الگوَة فی مَذم مَابیَاء وق جناہ دنا یش انمان ممو تکی تب راندازکی کا رف اور مصییبت و انتا کی ار تگر یکا جو لائگاہ ہے جہاں ہرگھونٹ کے ساتاسچھواور ہرأت می ںوگر پھندا ہے اور چہال نہ ایک نخت اس وق تک کیل پا تاج بتک دوس یقت جدانہہوجاۓ اورال لک اع رکا ایک دنآ انیس ج بت ککرایک دن ال لکیع رکالم ضہہوجاۓ ۴ھ موت کے مددگا ہیں اور رکا جا نی بلاا تک ذزد پر ہیں تق اس صورت می ہ مکہاں سے بقا کی امیدرکر کت ہیں ج بکیشب درد زی مار تکو ہار لکر ت گر پک لآ در ہوک ج نایا ےا ےگراتے اور جو گا اکیاےا سےععھیر تھے وت یں اہ دوسرو کا٠‏ َبْنَ آمَ مَا كسَبْتَ قوٴق فُوِک فَأنت فِیه خَازِ لِمَيْرک. اےفرزن ددم علبالسلام :نے نے اپٹی نذا سے جوذیاددکھایا ہے اس مل دوسر ےکا ۶یپ

۱۹۳ نویل دی وبردل ا ِلَْقّبِ شَهوَة َال َاِدبَاراء فَاُوھا ِ قبلِ شَھَرَيهَا رَاِقبِهَء لن الْقلْبَ اِذًا اَكرِة عَمِيٗ. ۱ دلاں کے لیے رقبت ومیلا نک گے بڑھنا اور چیہ بنا ہوتا ہے۔لہذرا ان سے ال وت کا ما وجب ان می خوائش ومیلان ہوءکیوک د لکوجبورکر کےسیکام پرلگااجائےتذ اسے پکھرھائ یل دیتا۔

( ۱۹۳ فصراوراخقام مَمَیٰ اَشْفِی عَيظِی إِڈا غَضٍبٔث؟ اَحِیْ اَعُجز عَنِ الام فبقَالُ لی: از صَبَرُت؟ اَم جِيْنَاَقیر عَليهِفبْقَالَ لی: لو عَفَرْتَ جب غصہ ےآ ےل کب اپنے خقصکواتارو کیا ال وق تکہ جب اقم ضہ لے سکوں اود کہا جا کیب رکیئے۔ یاال وق تک جب انقام پرفدرت ہواورکہاجا ۓکہ ۱ ۹۵ اپچکندک یکو د کر وَقَد مر بقذر علی مزیلة: ھذّا مَا بل بو الا جِلونَ: وروی فی خبر آخر انه قال: هللا مَا كنُمْ تَافَسُون فِيه بالامُس! آ پکاگزر ہوا ای ککھوڑ ےکی طرف سے جس پر ملا تی یں ف مایا: دہ ےجس کے س اتب لکرنے واللوں نے گن کیا تھ. ایک اورردایت یس ہےکہاس سو پہآپ نے فرمایا: دہ ہے جس پمقم لو کک ایک دوس نے بش کر ہے تھے

۹ا4عبر تک قررو مت آم بلَعَبْ بن الک مَاوَعَكَک. تہارادہ مال اکار تن لگمیا جوضہارے لےعہرت بح تکاباعحت بنا جائۓے- جس مال ودول موک تم ریت حاص٥‏ لکرے اس ضیاع ما لکیالکرتکرنا چا ے اور مال کے مقابلہی تر گرا ںبچھنا جا بے ۔کیوئل مال نو یو ںبھی ضائع ہوجا ا ےگ رآ تحدہ کے ی۷ .7 گیا کیتہاراما کیا ہوا؟ این ےکہاک ری نے اس تج بات خر بد لیے ہیں جومیرے لیے ما سے زیادوفائحدہمندغابت ہو ہیں ۔اہذ اسب پپئوکمود ہے کے بھریھی می شفقصان یل ٹل رپاہوں- پڑے۹ا برای ںی ھی لو الب تَمَلُ کم تَمل ا بدانء فَبْتَقُوا لها طرَائف الْجَكُمَة. بد لبھی اسی طس تجھکتے ہیں جن طط رع بد ن شھکتے ہیں ۔لہذ اجب ایماہ و ان کے ےا طیفع ما نہ جتل جا شکرو 4۸ول وارت لما سمع قول الخوارج: (لا حکم الا لله) کلمة حق یراد بھا باطل. جب توارج کاقول انم الا ا مع ال وی سے سنانف ر بایان مق گرھ ال ےمرادلیاجا ا ے وہغلط ے۔ (۹۹ ا ام

فی صفة الغوضاء: ھم الذین إِدّا اَْتَمَعُوا عَلَبُواء وَإِذَا تَفَرّقوالَمْ

مرَقوا.وَفیْل:بل قال: هُم الین فا امْمَمَمُوا صَرُواء وَإِذا تقو موا فقیل: قد عرفنا مضرة اجتماعھمء فما منفعة افتراقھم؟ فقال: یَرْجِمُاَصحَابُ الِهَنِ لی ِشْنهمء یتفم النَاسْ ِھغ: کرُجوع الما اِلیٰ لوہ وناج ال تنْسَجیہ وَالْحبَازِإِلیٰ مََْرِہِ

انا آ دید لگا پٹ ھا کے بارے ہیل ف بایان یدولوگ ہوتے ہی سک ہوں تھا جاتے ہیں۔ جج ب شش ہو لت بپیان ےکی جات ۔ ایک ول مہ ہ ےکآ پ نے فرایا اک جب اکٹھا ہو تے ہیں نو باعت ضررہوے کی اود جب مخشش رہوجاتے میں نے فا کرو مترخابت ہوتۓے ہیں لوگیں ن ےکہاک ای ان کےٗفع ہون کا نتصان نے معلوم ےگمران کےینتشرہون ےکا فائد ہکی"اہے؟ آپ نے فا یاکہ بیج وراپنے اپ نےککادو بارکی رف پیٹ جاتے ہیں نذ لوگ ان کےذد یج فاحدواٹھاتے ہیں ییے مجماراپی زی مار تک طرف جو لا ہا اپ ےکار بارک جک رف اود ائی اپ نے تو رک طرف.

۰٢‏ پےقاخالی

واتی بجان ومعه غوغاءء فقال لامر حبا بوجوہ لا تری الاعند کل سواۃ.

آپ کے سان ایک چم لا یاگیا شس کے سساتھ تما شا نیو ں کا بجوم تھا ت1 پ نے فر ما ان چچردں یہ پہنکا رک جھ پررسوائی کے مو تن پر نظ رت ہیں۔

۰۱پ ممافنفرشت ِمَعَ کُل نان ملکین حْفَظانهء فَإذَا جاءَ اق عَلَيا بَيْته وَبَيَْةء وَإِٗ جرانسان کےساتحددوف رش ہوتے ہیں جوا لک فا ظ تکرتے ہیں اور جب مو تکا

کے علوی رر ور ا ےج سوا

وفتآ تا نو دہ اس کے اورموت کے درمیان ےہٹ جاتے ہیں اور بے شک انان کی مقر وھراس کے لیے ایک مضبوط کپ رہ . ۱۰۴ پچ موا ب روز یر وقد قال له طلحة والزبیر: نبایھک علی انا ش رکاوک فی ھذا الامر: لَ وَلْكِتکُمَ شَرِبْگانِ فی القوةِ وَالَاسْتَعَانَة وَعَوَْنِ عَلی الَْجُز وَالاؤدِ۔ لی وزبیرنے حضرت ہس ےکہا کہم اس شرطا پ ہآ پک یس تک تے خی نک ہلل ات ینہپ نے ات ش رک زی گے آپ نے فزیایا یس بت یرت پانے اود اھ بٹانے میں ش ریک اورھا بج کی ار کے مو پمددگار ہو گے . ۰۳پ مو تکیگروت ُا النَاسُء نوا الله لی إِئ فَُُمْ سَمعَء وَِن اَضْمَرُتُم لم وَبادرُوا لُمَوث الدِی ان مَرَنتُم مِنهُاَْرَكَگُمء وَإِْ امم أُعَلَكُمْء وَإِن نَیتمُوۂ اےلوگوال سے ڈرو گرم وذ ووسختا سے اوردل یس پچ اکر دیون دہ جان لیا ہےاس مو تک طرف پٹ ھح ےکا سردساما نکر وکرفنس سے ھا گ ےو یں پل ےگ اور اگیہر ےنذ و ہی کر نت میں نے ل ےکی اوراگرم ا ےو لبھی جا نذو ہیں بادرے گی۔

۲٢۳۳ 2‏ ہنارت گکاندردا ی

مِنْ لايَسْتَمیم فی مِنء وَقذ تَذرِکُ مِنْ شُکَرِالشُاکر اَكُمْرَمم اَضَامٌَ الْكافْرُء روَاللّه یب الْمحْییی۔

نت ۷ھ سن سلوک شک رکز ارضہو نہیں می او رکال ے پرول شہیتا دے اس لے کیہ بسا اوقا ت تہ رگا اس چھلال یکا دہف رک رےگاء یٹس نے اس سے پل فا ھی نی اٹھابااوراس ناشکر نے نے جقناتہاراق ضائ کیا ہےہ ال ےکی زیادہ تم ایک فردا نکی تر ردان سے حاص لکرلو گے اور خدا تی ککا مکرنے والو ںکوووست رکھتاے۔

(۰۵پرفم

کل وا یق ما جُول یه الَوََاء الم فَإلَه مم ہو

ہرف اس سےکہ جوا میں دکھا جا تک ہوتا جا ما ے پیل مکا رف دع ہوتا جاتاڑے۔

۱۰۰۷ پچعکم دبداری

و عِوَضِ الْعَلیْم مِنْ لم ان الَاس اَنصَارُةعَلیٰ الْجَامِلِ:

بد جارکو اپنیا بد بای کا پہلا ئن ىہ لا ہے ۔کرلوگ ججہالت دکھانے وانے کے خلاف اس کےطرفدارہوجاتے ہیں-

رو

لم تَكُنْ عَِيْم فمََلُم: فَإلَه قَلَ مَْ تَعَّة ِقَوْم ال اَوْھَک أَن يَگُونَ

اق بردپارٹی ہوتة ظا برد ہار ےک کش کرو کیااک وتا ےکرک و لاخ کی جاعت سے شبا+ت انیارکرے اوران ٹل سے نہوجاۓ-

مطلب یہ ےک اگر انان طبھا یم د برد بارضہ ہوٹو سے برد اد بن ےکیکوشت لکن جاہیے۔ اس طر مک اپنی افرادوطیعت کے خلا یلم د بردباریی کا مظاہرہکرے اگر بیع تک را موڑنے بیس چو زم تیجویں ہوگ .گرا کا نیہ ہاگآ ہ ت1 عبت ی فصلت ھوررت ایارک لگا اورپ تل فکی حاجت نر ےک یکیوگعادت رف رف طھصت ناخي۔ن جا ال

س_ے۔ 0

۸+ پاب

مَيْحَاسَبّ نَفْمَه رَيحء وَمَنْ غَقَلَ عَنْهَا عَسِرَء وَمَنْ خاف أمِنَء وَمَنٍ اغْتبَرَاَيْصَرء وَمَنْ اَبْصَر فَهمء وَمَنْ فَهِمَ لم

مت ہے دہ فامکدہ اٹھا جا ے اور جوتفل تتکرتا ے وو نتصان ںار تا سے جوڈرتاے دوعزاب سےتفوظا ہو جا جا ے اور جوعہرت عائ ‏ لکرتا ے وہ بیتا ہوجاتا ہے اورجھ بنا ہوجاتا سے دہ ہام ہوجاا سے اورجہاٹہم ہونا سے ا یلم حاصل ہوتا

ے۔ ٤‏

۰۹پ آخری دور لمَخْطفَی لی عَلَيَا بد حِمَاِھَا عطق الصرُوسِ عَلَی وَلَيقاء وَقَلاَ عیب ذلک: نیڈ ا نمی َلیٰ الین اسُْطِْقوافی الارضِ وَنجْعَلهُمْ َيمَةٌ َنجْعلَهْم الوَرِیَِ بیدا مضہ زور دکھانے کے بعد بجر جماربی طرف بل ےکی جن طط رح کان والی اوشنی اپے چےکیعرفچنتی ہے۔ اس کے بعدحرت نے ا لآ بی تک حلادت فرائی۔ ہم جاتے ہی ںکہ جولوگ زین می لکزرو رک ردہے گے ہیںء ان پراضسا نک میں اورا نکونوا ا یں اود ٹھیاکو اس ز ‏ ناما لیک بناگیں۔ یرارشادامامفتظ رک ےعلق ہے جوسلسلہاماممت کے خر فرد ہیں ان ک نوز کے پور رام میں :وت سنہ انی کی اور فی ۃ لی الین سادا تا ون سے سا ئےجا ےگا ٢۲آ‏ ز ت نَفُوا الله تم شَمرتَجريد وَجَة تَمْمِيرأ كت فی مََل ء وَبَافَر عَنْ وَجَلِء وَنظرَفی كوة المَرلِ وَكَاقيةالمَترء وَمَقَبّة المَرُجع. الشرسے ڈردا نل کور نے کے اخ شی تے ریا کی والننگیو ںلاچجوٹگ ردان . گردانلیاادددا نگردا نیک رکش می سک کگمیاادراہچھائیوں کے لاس وتذرحیات ٹش زگ نی کےساتھ چلا اورخروں کے یش نظ راس نے تو ںکی طرف مم بڑھایا ورای قرارگادادراپنے اعمالل کے نتر اوداضجا مکارک مضنزل نظ ری

ری ٹڈ الْجُودُحَارِس اأَعْرَاضٍء وَالْحلم فِدامٌاسُفِيْء وَالَقو رک الطْقَرِء وَالشُذو عِوَسْکَ مِمَیْ عَذَرَء وَالَاسْيمارَةعَْْ لاف وڈ عَاطرَمَن وََضْرَف الْعَبِیْتَرَکُ الْمَیٰ. وَكم من عَقلِ ایر نَحُت فو امْرِا ومن ایق جفظ السَجْرِبَة وَالمََهَةقرَابَة مُستفَا٥َةٌء‏ وَلَتَامَمَن مَلُولاً سخاوت عز تآ بر وکیا یا سان سے برد جار اق کے مت کاشحہ ےہ وکا کامیال کی زگ ے ج خداریکرے اسےبھول جانا ا کا بدل ہے۔مشورہ لیا خو وق را یا جانا سے جو راے پراختاک کے بے ماز ہو اتا ہے وہ ا ےکوخطرہ می ڈاتا ہے۔عبرمصداب وحواد ثٹکا مقا بل ہکرتا ہے۔ لی دہیترارکی زمانہ کے مددگاروں مل سے ہے۔ ‏ پت رین دوتقندب یآ رزوں سے پاتھاٹھا لین ہے۔ ببہ تی خلا مقلبیں امیروں کی ہواد ہیں کے بارے میں د لی ہوئی ہی ںتجر رآ ز اک یئل ہداشت نس ن تی انتج ہے دق وحبت اکسا قرایت ہے جوم سے رنیددددل تک ہواس پر انان داعادنہ 0 (٢٢)پنورپنری‏ انا نکی خودبپندی ا کیبل کےت لیفوں میں سے ہے۔ مطلب یہ ےک رج رح عاسسودک یی خو لی یس نکوئس د کا ءاسی رح خودپینری

ل کے جھہ رکا رنااوراس کے خ ال کیانمایاں ہونٗ اگویارائی نک رتی۔ ینس سےمشرورتورین انسان ان عادات وخصائل تیردمر جتاے؛ جوشل کے نز دیک پپندیدہ ہوتے ہیں-

٦‏ ۲۷۳ : و" اَغْضِ عَلّیٰ الْقَدیٰ وَالاٰلم تَرْص ابَداً. تکلیف ےچ پٹ یکردہ ور نی خوش نہیں رو سکتا۔ ہن سکوئی نکی خای ضرورہولی ہے۔اگمر انان دومروں ای مامیول اورگزدروں رے متاثر وکران سح ایا رکرتا جا ذ رف رف وہ اپنے دوستو لککھور ےگا اورد نیا ل تھا اور بے بارومددگاہوکردہ جا ۓےگاءشں سے ا کا زنر راودا ٹھنیں بت جانکی ںگی۔اہیے موق بہ انما نکو یی چنا چا ےکہ ال متا شرہ یش اےف رخ ےنیل کی رشن سےا ےھ یکوئی شکایت پیدانہہواسے انی لوگوں می ر ہنا سہنا اوران یلوگوں بیس زندگیگمزارنا ہے لہا چہا ںکک ہو سے ا نک یکزردر یو ںکوذظراندازکرےاودرا نکی ا ارساشول س ےئپ یکرتارے- ات مَنْ لان غُوذۂ كَشْفَ أاَعَضَائَةُ شں ررقت کیاکی خزم ہوا کی شا کی ہوئی ہیں۔ جٹ شاو داع ہود ہیی اپنے ماحو لکوخوش ںگوار ہیانے یس کامیا ب ہیں ہوکنا۔ لاس کے ثےنے وا ل بھی اس کے پاتھوں نالای اوراس سے بترارر ہیں گے اورجوخوش تلق اور شی یذ با +ہولوگ انس یقرب کےیشھاان اودال کی دقی کے خوائّعرہول گے اوروتت پڑانے پرااس کے معاون دمددگارثابت ہو گے جس سے دو انی زن دک یکوکامیاب بنانے جاستا

ہسے۔ ن0

۵ پچ خالفت ےجا الاک یَهمُ الزاقَ. حخالفت جح رائۓلو بر باوکرد تی ے۔ ا٣‏ پپگردن شی مَنْ َال استطال. ‏ جب اتا ےدست داز ےلت ے- بڑڑے اپ چنیب وفراز فی تقَلٍَ الأحُوَالِء عِلَمْ جَوَامِرِ الرَّجَالِ. حعالات ک ےپ بی می ھردوں کے جو کل ہں ۔ تر دوس تکادکر ناد کی خائی ے- پیم وت اکٹرعقلو ںاھو رک کرک نع وت کی بھلیاں گن برہوتا ے۔ جب انا نک دقن می پٹ چاتا ہے زشوتہ چو ری ء خیاعت ‏ سودخوری اود ا کل 2 دوسرےالاقی حتحیوب اس شس پیدراوجاتے یں اورشتفل ان اع ل خواہشو کی جا نٹ سے ان مر خیرہ ہوجائی ہےکہاے ال نت افمال کےگوا قب وتتارکغ نطب یہی ںآ ے لے وذارتردگے ٹ کے اوراس خوا ب فلت سےُھوڑے الہتہ جب دنا سے رختسفر با لد ھن بہار ہوتاے اور

د یکنا ےک جو ریا تھادو یں کے ل ےتا ساتڈنیں نے چاسکتابقذاس وق ت مھ مک ہیں ۔

۰٢پ‏ برای بیاتصاف ئل ہےکیصیرفیلن دگمان براعتادکرتے ہو فیص کیا جا ۓ- ٢یکم‏ وتعری بِتُس الاڈ اِلیٰ المَعَاِء الْعْذانُ عَلَیٰ العبَادِ۔ آخرت کے کے بہت براتشہ ہے بندگان خدا ینلم ود یکرنا- می نت بلنرانان کے مہتر بین افعال شیل سے ىہ ہےکمدہ ان چچزوں سے ٹم پٹ یمکمرے نہیں دوجاتاے۔ سیں کت مَْ کسَاۂ الْحََاهلَوَْةءلَميََالَسُ عَيةٌ جس پھیانے اپنا لاس پہنادیا ہے ال کےعیب لوگو ںکی نظروں کے سا ٹیش 2221 ونس جیا کے جو ہر ےآ راست ہوتا ہے اس کے لیے ای امو کے ارہاب سے ان ہولی ہے جوستیوب بے جاتے ہیں۔اس لیے ال عیب ہوا یی ںکہ دوسرے دشھی اور ا ری ام فی کا اس سے ارکاب ولگ جا جا ےن حیا کی وجرے لایع من بل ہوتاکلوگوں ینا ہیں اس کےعیب پریڑگیں۔

ظ 4۲٢۳‏ چنراوصاف بِکفرَةِ السُمتِ تگون الهَيْبَة َبَاّعَفَةََكُترالَمُوَاصِلُونَء وَبلَإفضَالِ تَعُظمْ الاَفْدَارُء وَبالَرَ اضْع تَيم الْعْمَة َباحْیِمَالِ الَمُوّنْ يَجبُ السُْقَذ وَبالسَیرَۃ العَادلَة يقهر المَاِیٰء وَبالجلم عَن السَّفيْهِتَكُكْر لَنصَارعَلَيْهو. زیادہ ما می رعب دب تکاباعث ہل ےاوراتصاف سے ووستول مل اضاذہہوتا ے لطف درم سے رر ومنزلت بانر ہوئی سے جج کک لے سےات تام ہوئی سے دوسرو کا و چھ ان سے لا زماصرداری عاصلہولی ہے اورخٹل رقاری ےکینوررشن مغلوب ہوا ہے اور کر ےآ دگی کے متقا ہشیش برد با رک عککرنے سے اس کے متقا یم ٹیش

اپنےططرفدارزیادہہوجاتے ہیں-

۲۲۵ب ماسر اجب لِقَفْلَه الْسّادِ عَْ سَلامة ا جُسَاوا تب ےک رحاس دمانی تدرق بر صدکرنے سےکیوں خائل ہو گے . عاسد دوسردل کے مال وجاہ بر صدکتا سے گرا نک صمحت وراالی بر صدنی ںکتا عالاکہ یقت تمامنتوںل سے ز یادوگرانقذر ہے۔وجہ یہ ےلہدوات دوثروت کے ارات ظا ہرگ رای اور رام د1 سانش کے اسباب سے گا ہو کے سان ہوتے میں او یسحت ای کگموئی زقرار پاکر ناقری یکاہشکارہوجاکی ہے اوراے اتتابے فد ربچھاجا نا ےکرعاسدچھی ا ےد کے قائل یس کھت ۔ چنا ایک دولت مندکود کھتنا ہے اس کے مال ودوات پر ا ےر ہوتا ہے اورایک مردورکود یھ اک جو رپ بو چھاٹھاۓے د نکی رچلتا رتا ہے ود ال سکینظروں یش

قائلی نی ہوتا۔گ باسحت وق نائی اس کے نز یک سد کے لاکن یں ےکہاس بیصد کرےالبتہ جب قود پیا پڑنا لوا حم تک قددد قب تکااندازہ ہوتا ہے اوراس مو بر اسےمعلوم ہو ےک سب سےزیاد و قائل حدم یبحت سے جوا بتک ا لک نظروں می ںکوئی العیت نی ای متصریرے ےرجح تکوای کگرانقررنقت کناچا ہے اورائ سک فاظت مگ ہراش تکیطرف ضجدماچاے یئ الطَاِمٌ فی وِنَاق الال ش کرنے والا ذل تک زی روں می سک فماررجتاے۔ ٣٣ب‏ ایما نک تحرف وسٹل عن الابیمان فقال:لَيِمَان مَغرَفَةبالْقَلبِ, وَإفْراز باللَسَانِء آپ سے ایمان کےیتحلقی و چھا گیا تق فرما اکا یمان دل سے پپچانناء زبان سے اقرارکرنااوراعضا ےچ لکرناے. (۲۸ )مد ي مَیْ اَصْيَح عَلَیٰ الڈنيا ِا ققَد اصع لِقََاءِ الله سَاجِطًاء رَمَن اَسْیَع يَشْکُو مُصِیّةنَرَلَت به قد اَصْمَع یُشُگو ربا وَمَنْ آتی عَني فتَوَاصَعلَه لِعَتَاه فَعَبَ ثُلْعَا دِییهء وَمَنْ قُرا القُرْآنَ فُمَاتَ فَدَخَل النَارَ فْهُوَمِمَنْ کان

مَخَذُ آیاتِ الله هُروَاء وَمَنْ لج قَلبة بب الڈنیا الحاط قَليْة نا بقلابِ: یه وَجزص لیَْرکكُلہ وَآمَلِ لأمْذ رک

جودنا کے لے اندوہناک ہودوقضا وق رای سے نارائل سے اور اس مصییبت پہ کربنس میں بتلا ےشگوءکرےذ وہ اپنے پروردگا رکا ش کیا ہے اور ج وی دوات من ر کے ا کٹ أکرا کی ند یک وعہ سے جک نذا کا ددتمائی دن جا تار تا سے اور جن تق رآ نکی حلاو تکرے پھر کردوزغ میس داٹل ہو ابی لوگوں بی سے ہہوگاء جوالڈر گی آ مو ںکا اق اڑاتے تے اورجس سک ول دنا کی محبت میس وارفت: ہوجاۓ و اس کے ول بیس دن اکی یجن زی بوست بوجائی ہیں۔اییاغ مک جوا سے جداننٹل ہوتا اور ای تی لک جوا سکاپچچانئی پچ وڑتی ورای امی رک جھ نی شآی۔

۲۳۹ بقاعت

فی بَا عةمُلگاء وَبِحُسُن التُلُق نیما وسٹل“: عن قولہ تعالی:

(فلْحْييْنة حَيَاة طييَق فَقَالَ : می الْقَاعَةٌُ

قاعت ے و وک رکوئی سلطنت اورخو ل فی سے بڑ ہک رکوئی یش وآ را میں ہے۔ حفرت سےا سآ یت کےٹتحلقی در یف تکیامگیاکہ۴م ا لک پاک دپالیٹزہ نی دبکی کے آپنے ٹ,رایاک:دەقاعت ے۔

صس نخل قکواشت ےگ رک رن نکی وجہ یہ ےکن ط رح نقت باعثلذت ہو لْ ے اکا مر انان خوش اخلائی دز سے دوسروں کے دلو ںکوا تی شھی میں نےکر ان ماجو لکوخنل گوار ناسنا ہاو راپ لےلزت وراح تکاساما نکرنے یی شکاصیاب ہوکتا 2

ایرد جاگی راس لیےقراردیا ےکرجنس ط رح لک و جامیراقیا کوٹ خکرد بی ہے ای طرح جب انسان ققاعت اختیارک لیقاےاوراپنے رزق پرخشر جا تو و ہق سے تی اوراعقیاخ سےدورہوتاے_ ۳۰پ کت

ضا تُوا الدِی قَۂ اَل عَليْه از ء فإنَه اَخلَقلِلَِٰء وَآَجدَر بالَالِ

شض کی طرف فرار رو زی گ٤‏ ہوۓ و اس کے ساتوش رکم کرد مکی وہ انس یل دوات عاص٥‏ لکرت ےکازیادداءکان اورخ ش چٹ یکازیادوتر پڑے۔

٣‏ ۳٢پ‏ عدر لواصان

وقوله تعالی:رانً اللَّه ا مُربالَڈلِ وَالاخْسَان العَدلْ: اإنْصَاث وَالِإخْسَان: الفَسل ۱

خداوط عالم کے ارشاد کے مطاب کہ ال نہیں عدل واحما ن کاعحم دیتا ہے۔فرمایا: عدل انصاف ےاوراتسان طف وگرم_

پک اس ہاتھددے اس اھ نے

زط بد از بط الد رد

ھا جمزدقاص پاتھد ےد با سے اسے با اف اد اتد سےا ے۔-

یریت کے ہی ںکاس جم کا مطلب ہہ ےک انسان اپ مال ٹس سے پچ تی رد کا راہ خر کرتا اگ چ ہک ہومگرخداوندعا لم ا لکااج بہت زیادوقرارد یت ہے اورال مقام پردو

ہاتھوں سے مرادہ دی ہیں اورامیہ ان علیہ السلام نے بنلد ہکنمت اور پروردگا رک نقت ٹل فی ایا ےک دوقو جزونصورکی حائل ہےاوردہ با اق ار ہے ۔کیونک انرک عطاکردٹختی لو قکی دی ہوئ تقو سے بی بدر چہامڑھی چڑھی ہولی ہیں ۔اس ل ےک ایشددیک انت تام ٹق ںکامر چم ہیں لباقت انی تو ںکیطرف جن ےاورا تی ےہ عدہالٰے۔ :سد دکوت مقابلہ

لاہن الحسن* لاتَدعُوم لی مبَارَزَةہ ون ڈعیت الَيْهَاَجبٔء فِي الداعیٔ بَاغ َالباغغی مَضرُوع.

اپن فرزنداما م سن علی الام سےفر ایا یکومقابل کے لیے خودنرللکاردہ ہاں اگر دوس الک ر ےو فو راجواب دد ءال ل کہ جن کک خودے دگوت دی والا زیاد یکھرنے دالا ےاورزیاد کے والاچاہہوتاے-

مقصمد یہ ےک ہگ ریش نآ مادہ پیکاہوادد جنگ میں می لکر ےو ال موق پر ال کا روک نام کے لے قماٹھانا جا ہے اورازخو دصلہتدکرنا چا ہے ۔کروکمہ برا نلم وقمدبی ہے اور جیلم ونتر یکا رکب ہوگادہ ا کی پاداش یس خاک مات پر پجھاڑ دیاجا ۓگا۔ چناخی رام رال ومن علیرالسلام پیش وشن کے لککارنے برمیران ش٣‏ ںآ تے اورخود سے ذگوت مقابلہ رد بے جے۔ چنانچرائکنالد بدگرکیکرت ہیں۔

ہمارے سن می لی ںآ اک حخرت ن ےھ یس یکومقابلہ کے لے اککارا ہو اگ ج بتبنل ود پآ پکوذگوت مق ہمہ دئی جا یھی یا عموئی طور رشن للکارتا تھا اس کے مق بلہ میس پکلتے تاور ےگ لکردیے تھے ۔(شرح این ال الی رید ہجلدبف 344)

۳۳٣۴‏ ہوکورت ومرد کےصفات

ِتَار ِضَالِ النْسَاء شِرَار عصَالِ الَّجَال: رر وَلْيْْء وَالبْعُل: فَذًا کان الْمَرْأَه مَزْهوَةلَمْتُمَكُنْ مِنْ نَفِْهًاء َإِذًا انث بَجِیْلَة حَفِظٌت مَالھَا وَمَال بَعْلِيَءوَِذَا كانَث جَبَانةفرقَٹ مِنْ کل شَيَْرُض لھا

عودتق ںکی پت رن لیس دہ ہیں جومردو لک بت شی ہیں ۔نھرودہزدلی اور کی اس لی ےکرعورت جب مفرورہوکی جلذ وہس یکو ہے ٹس پرقایوندد ےکی اورکچیں ہوگی و اپنے اورشو ہر کے ٦‏ 1 ڈز ےکی چ یآ ےگی۔ ۲۳۵ پچ عاقل وجائل

وقیل لہ:صف لنا العاقلء فقالٌ: هُوَالَُدِی يَصَ الشٌی مَوَاسِعَمہ فقیل: فصف لنا الجاھلء فقال: قد فَعَلتٌ,

آ پعلہالسلام ےون کیامگ یکن کے اوصاف بیان یت فر با یف منددہ ہے جھ ہر کو اس کے موںع ول پردھے۔ پل رآ پ سس ےکہامگمیاکہ جائلکاوصف بنا بے فرایا میاا نگ یگا-

سید سشی ف مات ہی ںکمتحمدیہ ےک جابل دہ ہے جک چتزکواس کے مو ول برند ےکا جنر تکااسے نہ بی نکر نا دی ہا نکر نا ےکیوہ اس کے اوصاف عفن کے اوصاف کے بن ہیں

٣۳٣‏ )4د نیاکی بےنرری وَاللِٰ لد تم دو امو فی یی مِنْ عِرَاقِ عِرِیر فی يَدِمَعْلُوْم خد ایم تہارکی ردنا مر نزدیک سورکی انتڑیوں ےبھی زیادہؤ یل ہے ج وی کوڑھی کے ہاتھ میں ہوں_ (ك٢٣‏ پاعبادت کے اقمام ام وم عبذوا ال رَفَةُلکَ عَِاكۂ جا رِوَاِمقَوما َبڈو الله رَفَة لک عِبَادَه الْعَِیدِوَاِن قَوما عَبَڈوا الله شُکرا یلک جَبَادَۂ الأَحْرَار ایک جماعت نے الل کی عبادت نذا بکی رقبت دخواپشل کے تی نظ کی سودا کرنے والو ںکی عبادت ہے اورایک جماعت نے تو فکا وجہ سے ا کا عباد تکا ہے فلامو لک عبادت ہے اورایک جماعت نے ازدو ۓےشکروسپائ ںگمز اد ا لک عباد تکی ىآ زادو لک عارت ے- ۲۳۸)ُاکور تکی مت مرا شر كُلّهھاءوَشَرمَافِيْهَإنهُلأبننھا: شارت مرا پابرائی ہے اورسب سے بڑگی برائی ال ش یہ ہےک راس کے لی ارول ۲۳۹ سابل وکیب جھ 1 مَنْ اع لوان ضیٔع الْقُوق وَمَنْ اطع الوَاهِیَ صَیْم الصَیِٔق. جس ات دکا یکرت اہ دہ اپنے تقو قکوضا لی دی با کرد یا سے اور ول خورکی

بات پراختارکرتا ہے دو دوس تکواپے پاتجھ سےکھود ینا ے .

۳۸پ قصب الْحَجَر الْعْصِیْبْ فی الدارِ رَهُنٌ عَلَیٰ خَرَابِها۔ گ میں ای یی رکا گا کی نات ہ ےکم ددجاودیبدہدکررہگا۔ سید شی فرماتے می ںکرایک ددایت میس ى یکلام رساللت مآ ب مکی الڈرعلیہ لہ لم سے قول ہوا ہے اوران می تب ب یکیا ہج ےکرددفوں کےکام ایک دوسرے ک ےل ہو ںکیرکلہ دوفو کا رتشن ایک بی ے :

نال دظلرم َو المظُلُوم عَلّیٰ الطّالِم اَشَةُ مِن یَم الظُالِم غَلیٰ المظُلُوم. مظلوم کے ما لم پقا بد پان کادن اس دن سےیں زیادہ ہوگا جس میس نطالہمظلوم کے قلاف اتی طاقت دکھاتاے۔ دنا لے لینا 1 سان ےگ رآ خرت بی ال سکیس زا متا 1 سا نہیں ےکا عرصہزندگ یکل رکیوں نہہ وپ رچھی محددد ہے او مکی پادا شیپ نم سے جم اسب سے زیادہ بولناک پپپاذ ےکروہاں زنک نتم ضہہوگ یک ہموت دوزرغ کے عذاب سے بچالے جا نام ایک ال اکر یکو کرد بنا وخفی نے سا تم مکی حدی ینم ہو جا ےگ اوراب ا سک کنل ہوگ یکہاس پ ہزین مکیا جا سکےگراا سک سزایہ سےکراسے بمیش کے لیے دوز خ ٹیس ڈالا جات کہ چہاں دہاپنے ک ےکی سزاپھکتارہے۔

۲۳۳ کت کی 7 ا سے مو ہی و وھ خی ا ری ہے کا سے ات الله بَعُض التقیٰ وَاِنْ قلء وَاَجْعَل بیُک وَبَيْنَ الله سِترا وَاِن رَق. الڑے ه2 ڈروچاے وہگم بی ہہوادر اپ اوراللہ کے درمان پوت بردہ رکوہ ہے دہ با یک جیا ساہو-

۲۳۳ب جوابا تک یکقزت

ِذَا اَزْدَحَم الْجَوَابُ حَفِی الصٌوَابُٔ,

جب ایک سوال کے لیے جوابا تکا بجتات ہوجاے فک بات چپ جا اکرل ے۔

ای وا کے جواب میس پرکویش سن ےآنوازیی بلید ہو ےلکن فو ہ رواب سے موا کا تقاضا نکر پٹ وجد ل کا ددواز حول د ےگا اور جول جوں جوابا تک یکثزت ہوگءاصل حتقیق تک یھو اور جوا بک سرارغ رسائیمشکل ہو جا ۓگ ہکوہ پٹ اپنے جوا بکوت صلی مکرانے کے لیے ادھ رادھرسے دلائل فراہ مرن ےک یکوش کر ےگا یس سے سار محا لہ لھا پڑجاےگااور یخوا بکشر تیر ےخواب پر نان ہوکردہ جا ۓگا_

۲۷۶۴ پیر وسپالں

ذو فی کل نمْمَوَعَقَء فَمَْ أ٤‏ اه ينھا رَمنْ تسرُعہ عَار ِزَوَالِ نِكمَوه.

بے شک ال تی کے لیے ہزلعت می اف ےو جوا اق نکواداکرتا ہے ء اراس کے ا تکوادر ڑھا تا ہے اورجوکوتا بیکرت ہے دو مو جود جم تکوچھی خطرہ میں ڈ الا ے_

۲۳۵ خواہضا تک گی ِا کرت المَقَيرَةقلتِ الفَھُوَةٌ جب مقدرتذیادہہوجائی ار خوائ لک ہوجالی ے۔ ۲۴۷ پکفرا ننقت َخْذَرُوا يفار العمء قَمَا کل شَارِوِيِمَرڈُووٍ تن کے زائل ہونے سے ورتے رز کیک رن تابز کنل جائنے ویج بنا یسرب ۲۴ جذبہ لیم الْكرَم اَغْطفُ مِنّ الوٌّجم. ج کم را اق رایت ے زیادواطف ظہربا یکا سب بوتاے۔ ۱۸پ رگن جوقم ےس نن ر تھے اس کےکما نک چا اب تکرو- (۲۳۹)ہ فلا عال َفسَلُ اَعمَالِ مَا اَكُرَهْت تَفْمَک عَليْه مت رین دد ےجس کے بجالانے میں انان سکوجیو رک رن پڑے۔

(4۲۵۰خراغای ٹس نے ال ھا شہکو پپیاناارادوں کے ٹوٹ جانے ‏ نیتل کے بدل چانے اورپھتوں کے لیست ہو جانے سے۔ ارادوں کےٹوۓ اوربمتوں کے بیست ہونے سے خداوندعا مگ یہ ست برا طرں استدلال کیا جاسکنا ےک ہلا ای ککام کےکرنےکاارادہ ہوتا ہے روہ اراد ول سے چئکنار ہونے سے پیل ھی بل جا تا ہے اورا کی مچکوگی اورارادہ دا ہو جات ہے برارادو کا دنا بدلنااوران می خی ردانقلا بکا روما ہونا ال لک دیل ‏ ےکہ ہمارے اداددل پ ریگ پالا دص ت تو تکارثریا ہے جو یں عدام سے وجوداوروجود سے عدم یس لان ےک وت دطاقت رلصتی سے اور بیامرانسان کے اعاط اختیاارے پاہر ہے ۔لہذ ا اسے اپے سے مافوقی ایک طاق تک لی مک رن ہوگا کہ جھ ارادوں می ردوبد لکل رای ے- (۱۵۱) کی خر 121 مَرَارَة اڈنا حَلاوَۃ الأرَةء وَحَلاوَة انی مَرَارَةالأخرة. دا 0 خر تک خوشگواری ےاوردیا اک خشگواری؟1 خر تک کی ہۓے۔ ۲۵۳ )وف کنل سکم صا فرص الله لَاْمَاو تَطهِيْزَا ین الفُرک, وَالصُلاةتَرِْهَا عْ ار وَالوٌکاة سيا لِلرّْقٍء وَالصُیَامابعَلَكدَلخْلص الْعَلَيء وَالْحَح تَفَةً لین وَالجھَاد یز للاسلامء وَامر بالْمَغْرُوفِ مَضْلْعَةلِعوَام وَاللھَیَ

عَن المُنگُر رَذُغا لِلْسُفَهَاء وَصِلَة الرٌّجم مِنْمَاةلِلعَددِء وَاليَضَاصَ حَقْنَا لِلتمَاءء وَإقَامَة الَخْدُودِاَعْطَامً لِلمََارِمء وَترک شَرْب الْحَمْرِ تَحْصِيًّا وَتَرک اللوَاط کيا لِلنْسْلِء وَالشهَاداتِ اسُِظھَارا عَلَیٰ الْمُجَاعَدَاتِء وُتَرک الْکَذِب تَشْرِقا لِلصدقِء وَالسّلامَ أَمَانَا مَِ الْمَحَارِفِء وَالَامَانة ِطَام تو وَالطَاعَة تعَطیَْ لِمَاَق

خداوندعا لم نے ایما نکافریض عائحدکیاشٹر کک یآ لودگیوں سے پا کک نے کے لیے اورخمازکوڈن کیا ریونت سے بچانے کے لے اورزکوکور زی کے اضاف کا سبب بنانے کے لیے اورروز وکونلوقی کے اخلائ کو زمانے کے لیے اور کودری نکوتو یت بانے کے لے اور چہا وکواسلا مکوسفرازی پنشے کے لے اورام لمع رو فکواصلارع خلا کے لیے او نہ ین امک رکوس پفرو کی روک تام کے لے او رق ققرایت کے اد کرت ےکویارد نیا نکی کٹ بڑھائے کے لے اور فا کوخون بن کی کے انسداد کے لیے اورعدودشرعیہ کے اج راکپ ما تکی اہمیت ان مکر نے کے لے اوریش راب خوری کے تر ک کون لکی تفاظت کے لیے اور چو دگی سے پچ ہیازکو اک با زی یکاباعث ہونے کے لے اورزنا سے تچ ےکونسب کےکتقوظا رک کے لے اوراقلام کان کیل بڑھازنے کے لے اود کوا یرطق

کے ما لہ ٹیش ھوت مہ اکر نے کے لیے او رچھوٹ سے مکی دک یکوسائی کا شرف آخھارا ۱ کرنے کے لے اورقام ای نکوخطروں فا کے لیے اوراما تو کی تفاظ تکوام تکا نام درست رکھنے کے لے اوراطا ع تکوامام تک یظمت خلا ہرکر نے کے لیے۔

۵۳پ رٹم

اَخْلِفُوا الّالِمإِذًا أَرَذتُمْيَمِيَة بائَه بّریة مِنْ عَوْلِ الله وَقرَِہ: فَإنَهُإِذَا حَلّت ھا اؤِبا غ وج الْعُقویَةء وَاِذَا حَلّف بالله ای لأَاله إ0 هُوَلْمْ یَُاجَ للَنَه وَحَد الله تَعَالَیٰ.

اگ ری نام ےم لیہو اس سے اس طط رح علف اٹ و اک دہ ا کی قوت وق انی سے برکی ہے؟ کیونگہ جب دہ ال ط رب بھوئ یم مکھا گان جلدا کی مزا یا ےگا اور جب لوس مکھا ۓک حم اس ایلدکی جس کے علادءکوکی معبو یذ جلدا سک یگرفت نہ گ یکیوکہای نے الکو وعدت دمامائی کےساتھ یاوکیاے-

۳ ۲۵ )امو رج کی یت

ئن ام شُنْ وَصِیٗ فک فی مَالِکَ وَأَعمَل فِيْهِمَأنوثر ا یَعْمَلَ

اےفرزن رآ دم اپنے مال بی ابنایی خودجن اور جو چا ہنا ہےکہتیرے بعدتیرےبال شس س ےنت رتجرا کیا جا دوخ داضیام دے دے۔

۵ ۲۵ )سیل وفضب

الُْحدَةُ ضَرْبّ مِنْ الُْجُمُونِءلن صَاجِبَھَا یم فَإن لم ینم لجْنونهُ فصرای کم مک دایاگی ےکبونک فص ور بعد میں تما ن ضرورہوتا ہے او راگ پان نیس ہوت تا کی دای پنع ہے۔

(۲۵۷)اصر صِحة الْحِسَدِین قِلَوالْعَسَدِ۔ تسد یکیابد نک تر کاب ے۔ پڑے۲۵ پچ حاجتردالی وقال“: لکمیل بن زیاد النخعی :یَاُمَیْلء مُز الک اَنْ يَرُوخُوا فٰی گب الْمَگارِم وَبْدُلِجُوا فی حَاجَة مَنْ مُوَنَام: قَوَالَدِی وَسِع مَنْعُةُ الَضوَاثء تَا مِن اد اَدَع قَلبٔ سَرُرا ال وَعَلَق الله لَهمِنْ ڈلک الشَرُورِلطَفًاء فَوذًا نت بهنَاَةً جَرَئ اِليهَا کالِمَاء فی اَنْجدارہہ عَتّیٰ َطُردَمَا عَنَةُ کا تطَرَد عَرِيیَةُالابلِ. ۱ کیل این زیاشی سےف ایا ےیل :اپے زی واقار بکو دای تےکر کرد دای سس نے تس لے ون ےتکن رات ات از و لاحات روائ یکو لکھڑے وں۔اس ذا تل اب ین سکی قو تی نوا تا م1 وازوں پٍعاواے سی نےجھ کی کےد لکوخ کیا تاداس کے لیے اس سردر ےیک لطلفِ خائس خلقفر مان ۓاہ ج بکھی اس پرکوئی مصیبت نازل ہوقدونشیب یس ین دانے پا یکا رح تج زیی سے بڑ ھے اورا٘ٹیی اوننڈ کو ہکان ےکی طر اس مصییب تکوہکاکر دو رک دوے۔ (۸ئمئعرۃ ِا اَمْلقتمْفََاجرُوا الله بالصُتَقة

ج بگرست ہو چاو صرۃ کےذر لیے الڈدسے جو پارکرو-

((۲۵۹)رناوفراری الّوفَاءُلَهْلِ العَذرِ عَذرٌ عِنْاللهِ وَالْفَرُ باَعلِ الْعْدُرٍ وَفَاء عِنْد الله داروں سے وڈ اکر نا ال کے نز دسیک دارگی سے اور ارول کے سات تجدار یک را الم کے نزد یکم وا ے_ (4۳ اظاءوز ہل اوں سرت أإخْسَانِالَيْوَمَقرُورٍ بالسَتَر عَلَيْهِ وَمَفونْ بُِسْن الْقَوْلِ فِيْه. وَمَا اَبعلَیْ الله مُبْحَانَةُاَ اَحَداً بِمعْلِ الاملاو لَه. کت ہی لوگ اریے ہیں جنہی ایس در ےکررفۃ رف عذا بکا تن بنایا جا تاے اور کت بی لوگ ایلے ہی ںکہ جوانڈ کی پردہ نی سے دعوکاکھاۓ ہد ئے ہیں اوراپے بارے ٹیس اھ الفا ظک نک رفریب ٹیل پٹ گے اورمہلت دیے سے زیادہ الدکی جانب ےکوگی یآ زمائن یں ے۔ ۲٢‏ چو ےو دا سای لما بلغه اغارۃاصحاب معاویة علی الانبارء فخرج بنفسہ ماشیاء حتی اتی النخیلة فاد رکه الناسء وقالوا: یا امیر المومنین نحن نکفیکھمء فقال: مَا تكفُونیی اَْقْسکُمْ کی تَکُفُونیی عَيْرَكمْ؟ ِْ کَانتِ الرَعَاي قبلی لَتگُو عَیْقَ رُعَاتھَاءوآئیی الوم لا کو َیْف رَعِیّتی گائیی المَفوہ وَھُمْ الْقََفُہ و المَوْزُوَعٌ وَهُمْ الْرَعَةٍُ جب امی راک اشن علیہ السلا کو ہیاطلاغ لک رمحاد بی کے سراتھیوں نے شراتپار پروھادا

کیا آ پٹنکٹٹیس پیاداچ لکھڑے ہوے یہا ںہ ککنخی کم رات میں یآ پ کے ہا کل اورک گے ا یش عی لامش سے نیٹ گ ےآ پ کےتشریف لے جان کاضردرت یں ۔آپ نے فرما یتم اپنے سے میبراپاکرکیل سے دوسروں سےکیاپ کرد گے جھ سے پیل رعایا این اکھوں ےنلم د جدکی شفای تکیاکرث یش یگرییش ہج اپی رعی تکا زیادتو کا گل رکرتا ہوں ہگو اکرش ریت ہول اوردہ اکم اورٹی علتق وش ہو اور و وقرما وا

سیدیش سے ہی ںکہ جب ام رال جن علیہ السلام نے ایک وی کلام کے ذ یگل می سک جم کا تبحص ہم خطبات مم در نکر ہے ہیں بیکمات ارشادفر ما ذ1 پ کے اصححاب میں سے دوش اش ھکھٹڑے ہو اوران سے ایک ن کہ اکہ با می امن علیہالسلام جج اپ ذات اود اپنے بھائی کے علاد ہیا پر خیش سآ پ یی عم دی ہم اسے بجالانمیں گے جس بر رت نےفرا نکیل جو چابتاہوں دوقم دددمیوں سےکہاں سراضام پاسکنا ہے۔

۲٢٢‏ عارث اہن ۶ط

وقیل:ان الحارث بن حوط اتاہ فقال: اترانی اظن اصحاب الجمل کانواعلی ضلالۃ؟فقال': يَا حَارِثء الک نَطَرْت تَحُیک وَلَم تَنظُرْ وک فُجزث ا !نک لَمْ شرف الَْی قرف مَنْ آتاۂء وَلَمْ تَغرفِ الباطلِ َتعرْفَ مَنْ اَتَا.فقال الحارث: فانی اعتزل مع سعد بن مالک وعبد الله بن عمر ققال* ام سید وَعَبْة الله تی ممَرَلَم شر العَى َلمْيَعْذلا

بیا نکیاگیا ےکہعارت ارکن جو طا ضر تکی خدمت ٹل عاض ر+وااو رگ اک گیا آپ کےخیال می ا سکائما بھی وکنا ےک اصوا بج لکراہ تے؟

ححخرت نے فا اکراے عارث !تم نے ین ےکی طرف دیکھا اد کی طرف نگ کیل ڈالی :ینس کےنت میقم تبران دسرگردان ہو گے ہو تن بیکوکیس جا کین دلو ںکو جافواور ٹل بیکونیس پپیان ےک باش لک راہ پ نے والو ںکو یپا _

عازیث ےلاڈ سابع مل کاورکبرائٹرازنط ےم رلِ تہ :چان گا۔حضرت نے ف ما کہ :سعد اور بدا یراب نعھرن مکی مددکی اورنہ پا لکی نصرت ے پاتجھاتھایا-

سعداجن ما کلک سعدرائن ای دقائص اورمبدایداب نعجمران لوگوں میں سے تھے جو ام را جن علیہالسلا مکی رفات دنو کی سے نہموڑے ہوئے تھے چنا خر سعدابن لی ودقائ نو حضرت عثان نکی کے بعد ایک سحح ا کی طرف تل ہو گۓ اور ونیں زگ یگمزار دی ءاورحخر تک - 7/0‏ 0۷ب نے اکر چہ جع تکر لی مھرگوں میں حضر تکا ساتھ دیے سے الگا رکردیا تھا اود اپنا عد مین یکیا تھاکہ ٹل عبادت کے ل ےکوشہ دبٹی اخقیار کم نک ہوں اب قرب دپپکار ےکوئی سردکا ناس چاہتا-

٢۲٢٢‏ پمصاحبسلطان

صَاجبٔ السُلطُان راکپ السَد: قبط بمَوقعه وَهُو اعم بِمَرْضہ.

بادشما ہکا نرییدمصاحب الا ہے تی ے شی مپرسوار ہونے والاکراس کے مرحبہ برک کیاجا نا دواپنے “ولف سح وب واتف ے-

مقصد یہ ےکہ جے بارگاہ سلطا لی مج قرب عاصل ہوتا ہے لوگ اس کے جاہ ومنصب اور

عمزت داتبا لکورخ کک ٹگاہوں سے دنت ہی ںکگرخوداے پروقت یدع ڑکا گا رتا ہےکککیں بادشا ہک نظرل ا سن نأ رض جات او ول وروالی با مدت وجا ہی 00 جاڑے یی شی سوا رک یلوگ اس سے مرجوب ہوتے ہیں اوردہ ا خطرہ یگ ھراہوتا ےککہیں شیراے پھاڑ ضکھاے بای بل ککڑ ھھ می نہ اگ راے. ۷۳ب سن سلوا 20 َحيُو فی عَقِبِ عَیْركُم تحْفطوا فی عَِبکُمْ دروں کے ما ن گان سے با اکروتا اک ہارے مان رگا ن بی ظرففقت پڈے- ۵ ۳۷ یلا مماء اي كَاامَ الحکُمَاء اذا كانٌ صَوَبًا کان دَوَاءَء وَإِذَا كَانَ خَطا کان دا٤‏ ج بک ما کا کلام ہولوووووا ہے اورخلط ہ2س راس مل ہے . علا ۓ “حر نک طیقہاصلاح کابھی ذمہدار ہوتاے اورفماوکاچھ یکیونکینوام ان کے ز راڈ ہدتے ہیں اوران تل وگ لکوچ ذمعیاری گے ہد ے اس سے استتفادءکرتے اور پنگل پیراہوتے ہیں ۔ اس صورت میں اگرا نکیایم اصلا یا حائل ہو نواس کےتیجرم ہزاروں الرارعلائٗورشرےآ راستہہوچاتیل کےاوراگمراس می نخرالی ہو ناس کت ٹس ہراروں افرادگراہی د بے راہردیی یں ملا ہوجاہیں گے .ای لی ےکہاجاتا ےک جب عالم یں فادردنما ہوتا ہے اس فسادکااٹر ایگ دنیابر پڑجاے۔ ایگ سال ک جواب ٹل

وساله رجل ان یعرفه الا یمان فقال: إِذا کَانَ الد ابی حَتیٰ اہک

َلَیٰ اَسْمّاع النَاسِء فَإِنْ نسِيَ مَقَالبی حَفِكَه عَلَيْک غَيْرُکههَإُ الکلام کَالشَارَِةِء َُفّهَا لا رَيْحْطِتَا هد

ححرت سے اٹ نے سوا لکیاکائیا نکاتتری فکیاہے؟ نے فربااکیکل مور پا لآ نا تکرش یں اس موق تا ںکرددسرے لو کبھ یس نی ںک اکر ول جا قدوسرے یادرنں۔ اس ےہا مب کے ہو تے شکا کے مہوت ےک گر ایک کیگکرفت یآ جانا ہے اوردوسرے کے پاتھ انل جانا ے۔

سیدریشی کے ہی ںکتحفرت نے اس کے بحدجواب دیاد ہآ پکابرارشادتھاکرالا یما نگ ار شب ایما نکی چا یں ہیں

ے۷٢‏ پگ رز 7

ئن آكملانَحْملُ مم ویک الدِی لَمَايَک عَلیٰ يوُیک الِّی قذ اک فَإنَّهِْٛ يک من عمرِک بَاتِ الله فنه برژک.

اےفرز نآ دم علیہ السلام :اس د نکیاگ رکا با جھاچگ یآ ای ہن کے اپنے دن برنہ ڈا لک جا چچکا ہے اس لیک اگ رایک د نبھی ترکیعرکاباتی ہوگا ذ لت رارزقی تجوسک یا گا۔

۲٢۸‏ دق نی می اض اط ِب حَبيَک مَوْنا مَاءعَسّیٰ ان َكونَ بَفِيْضَک یَومَا مَاء َاَئْفضْ فيْضَکٌ مَون ما عَسّٰ ا ون عََِک یَوّمَا ھا. اپنے دوست سے ایک عدفکمحب تکر دیون شای وی دن دوہ رائشن ہوجاۓ

یرش نکی نیس ایک حدکک ریھوہوسکنا ےک سی دن دوتہارادوست +وجاۓ- ٦٢۹‏ پل دا لآخرت

اَلسَاسُ فی الڈنیا غَابلان: غَاملُ عَمِلَ فی اڈنا لِلنیَاء قد فَعَلَنةذَُيَاهُ

مھ 5

فی مَنْفَعَة عَیْرِہ: وَعَايلُ عَملَ فی انا ِمَا بَعْمَاء فَجَاءٴ الَذِی لَُمِنَ انا بِغَیْرٍ عَمَلِءفََحْرَر الّحَظیْيٍ مَعَاء وَمَلک الڈاریْنِ جَویغَاء قَاصْیَعَ وَجیْهَا عِنْد الله ليَسال الله عَاجَة من دای کا مکرنے وانے د وحم کے ہیں ایک دوجو دنا کے لیے سرک مل رجتاہے اور اسےدنیان ےآ غرت سے روک دکھا ہے۔ دو اپنے لینماندگان کے ین رو فا ق ہکا خوف کرتا ےگر اپنی شگدقی سے معسشن ہے دہ دوسروں کے فائدہ بی ٹیس ادگ عم ربصر کرد تتاہےاورایک دہ ہے جودنیائیش د ہک راس کے لی لکرتا اذا ےتک ودو س٤‏ بخیر دنیابھی حاصل ہد جائی ہے اورالطر وو دوفو ں تو ںکویسیٹ لیا ہے اور دوفو ںگمرولں کاما نک بن جا تا ہے دہ الال کے نزدریک باوقارہوتاے اورالڈدےکوکی حاج تی انتا جھ الل ری تدگرے۔ ے٤‏ پک نان کیہ کے ز اور وروی ان ذکر عند عمر بن الخطاب فی ایامه حلی الکعبة ‏ وکثرتہء فقال قوم: لو اخذنه فجھزت بە جیوش المسلمین کان اعظم للاجرء وما تصنع الکعبة بالحلی؟ فھم عمر بلک : وسال عنہ امیر المومنینٔء فقال

ِن نَا الُقَرْآم أُنْرِلَ عَلیٰ البٍَیٗ صَلَی اللهُعَلَيْهِ رَآلہ وَسَلَمٍْ وَالاُمُوَالُ ََعَة: مُوَال المسلِمیْنَفَقْسمَهَ بین الورَكة فی الْفرَاِضِ وَالْقَیٰفَقْسْمَةُ غَلیٰ مُنْمَحِقَيهہ وَالْحَمْیُ فَرَضَمَة اللَهُعَيْث وَصَعَء وَالصٌدقّاث فَجَعَله اه عَيّث جعَلھا. ای عَلیٰ الكفَةفَْهَ َء َمَكه الله علیٰ ایوہ وَلَ َشرُكهيسینء وَلمْيَعْت علیہ مکانء قَارۂ عیْث آقوَۂ الله وَرَمُوله َقَال عمر: لولاک لا فتضحناء وترک الحلی بحاله.

بیالنکیالگیا ےکیمرائن خطاب کے سا تے نان کعبہ کے ایورات اورا نک کت تکا کر ہوا جولوکوں نے ان ےہاہک ہاگ رآ پ الن ذز ودرا تکو لے لی اورانیں سارانوں کلک پرصر فک کے ا نکی رواگ یکا ساما نک یذ زیادہ باعث اج ہوگاء خانہکعبکوان زاودا ٹگیکیا ضرورت ہے۔ چنا خ رعمرنے ا لکا اداد ہک رلیا اد رامی راگ لن علیرالسلام سے اس کے پارے می مستلہ لیے پچھا۔آ پ نے ف رما اکہ:

جب ق رن محید بی اک صلی الشعلیہ لہ ویلم پرنازل ہوانة ال وت چاڑتم کے اسوال تھء ایک مسلمانو ںا ذائی مال تھا ا ےآ پ نے الن کے واردوں بی ان کےحص کے مطا تی مرن ےکاعم دیادوسراما لیت تھا اے اس کے سخحقین تق مکیا تس را الس تھاءاس مال کے الڈتھالی نے نا مصارف مق ررکرد بے۔ جو تھے زکوۃوصرقات تھے۔ یں الد نے وہاں صر فکرنے اعم دیا جو ان کیامصرف ےب غا کی کے زیورات ا ز مان گی موجود ےمان ایر نے ا نکوالن کے عالل پرد بے دیااواییا بھو لے ےنیس ہواءاورتہا نکاوجو دا ے اوشید دتھا_لہذا پکھی انیس وٹیں‌رۓے

ا

تچ جہاں اداوراس کے رسول نے انیل رکھاہے۔ میک نک رعھرت ےکہ الک ہاگ ہآ پ شہ ہوتے نے ہم رسواہوجاتے اورز برا تکوا نکی حالت پر تن دیا- (د4۲ یت الا لک چرں وروی انهٗ رفع الیه رجلان سرقا من مال الله احدھما عبد من مال اللهہ والاخر من عرض الناس.فقال عليه السلام: اما هذا قَهُوَمِنْ َال الله وَلاعَد عَلَيْیہ مَالُ اللَو اَل بَغَصّے بَفضّا: رَآم الَْحَرْلَعليْہِ الع الشْدِيْدُ فقطع یدہ. ت00 ےک حضرت کے سان د وآ دمیو ںکو یی ںکیاگیا جنہوں نے ببیت الال یش چر یک ایک ان مس فلام اورخود بیت الما لکی لیت تھااوردوالوگوں یش ےکس یکی لیت ٹں تھا ںآ پ نے فا الک بیظام جو یت الما یکا ہے اس بعد ۱ جاک ایس ہق کیک ا رکا ماگل ال کے مال تین ےکھایا ےکن دوسرے پرعد جار ہوگاءچنانج اس کاپ تل کردا 4اا یتلم لوقَدِ اسَُوَثْ قَذمَایَ مِنْ هلِہ الْمَدَاحض لَعَیْرَتُ اَشیَاءَ, گرا نپھسلنوں ےپ کرمیرے یریم گے ٹس بہتکی جزوں مٹں تبد پگ کردوں گا۔ اس سے اکا زی سکیا چاسک یبن اسلام کے بعددین می تقیرات رونم ہونا شور ہوگئے اور بجوافراد نے قاس درائے ےکام نےکر اکا ش بجعت میں تم شوخ کی جنیادڈال دگی۔

عالائکیشرتی میں تبد بی کا یکوق نیس پپچتا کرد وق رہن وسنت کے دا اخکا مک راکراپے ای اتا مک نغاذکرے۔ چنا رق رآ نکریم می طلا کا بدا صورت مین :ول ےک الطلاق مرتانہ طلاتی رجت یک جس میں بل کےرجو موق ہے دومرحیہ یگ رح گر نےبنض مصاغ کے بی نظ ایک بی نشست میں تین طلاقوں کے وا ہون اعم دے دیا۔ ای طرح میراٹ می کو لکا طریقہرا جک یاگیاادنماز جنازہ مس چارگییرو ںکورداع دیا لوہ خر تعنان نے ماز بیس ایک اذان بڑادئی او رق کے م وع پر ہیی نما کے پٹ کامم دیااورخمازعید یں خطبکوزماز پرمقد مک دیااددای طر کے بے شمارا ام کر لیے یئ نس سے اکا م تھی خاٰدا کم کےسا تن ط ہوک بیےاخنا بین گے

امہ ران علیرالسلام ہویش ربعت کے سب سےزیاددداق فکار تھ دو الن اجکام کے غلاف اتا کرت او را یہ کےخلاف اپنی رائۓ رک تھے چنا غچرائن ال الیم ید نےکر کیا ےکہ:

قارے ۓیے اس میں شی ککیکناکئ نمی ک۔امی الین علیہ السلا شر احکام تضایاٹش صحابہ کےخلاف رائۓ رھت تھے .جب نحضرت ما ہرکی خلافت بسن ہو ئۓ اب یپ کے قرم پور رح سے ئن مہ پائے جھےکہ چادوں طرف سے مت اٹ ھکھیزے ہوے اوران او ےآ خر وقت کک چھککاراحاصل نکر کے سک وج سےتبد بل شدداجکام می پور طر تر میم ضہہ وی ءاورمرکز سے دورعلاقول یل بہت خلزسلط احکام روا ج پا گے لت دوطیق جھآپ سے دایست تھاءد ہپ سے ا کا مرش راع تکودریاف تکرتا تھا اوران ںتفوظا رکتا جج سکی بر ےج ہام نابودادرفاد سال ہ گی رنہو گے-

٢٢۲ر‏ یور َغْلَمُوا عنم ین او ال لم َعَْلْلِلب. وَإِن عَقُمَ جَیَلة

وَلُمْيَحُلریجعل) بَين اب فی ضَعُفہوَِلَّهِ یه وََينَ اي َا سی لە قی اکر الْحَییٔم. َالْعَارِف لِہّذا العَايلُ بی اَعظُمْ لاس رَاحَة فی مَنْقعَة + وَالسَارِک لۂ الشَکٗ فَی اعم الا فُغلاَفی مَضَرَق وَرَب مم عَلَيِْ مُْعَذرَجبِاللكََیء وَرُبَ مبَلی ضوع ه لیا قرذ ھا لسم فی

پپرے لقن کے سات اس امرکو جانے رہ کہ اسنہ ن ےصی بنرے کے لیے چاہے ال لگا بی رس بہت ز بردست ا لک تشد یداودا کی ت رکال طاقت ورہوں اس سے زائح درز ق قرادنئیسں دیا جق تق لی می اس کے لے مقرہ کا سے اودی بندے کے لے اہ ںکردری د بے چا رگ کی وج سےلو ںمفوظا میں اس کےمررورز تک کے بش رکاو ٹیل ہولی ۔اا تق تک ویک والا اوراس پش لکرنے والاسودومنفعت کی راصقوں بیس سب لوگوں سے بڑھ ڑا ھکر ہے اوراسےنظ رانا زکرنے اوراال مل شک وشبرکرنے والا سب لوگوں سے ذیادہزیا ںککارکی یل بتلا سے بہت سے ووجتتجھیں تی ںلی ہیں :تو ںکی بدوا تمکم عذاب کے نز دیک کے جار ہے یں ءاور بہت سوں کے سا تونق رفا قہ کے پردہ ہیں اورک طف وکرم شال حالی ہےلہذا سے سن وا گر زیاددادرجلدباز یگ مکرادرجوترکی روز یکا عد ےا پشرارہ

٢چیم‏ ولقین

لاتَجْعَلُواجِنْمَکُ جَھُلہَ وَیقينکُمْ هُگا: ِذًا عَِمیمْ فَاغَمَلُوا وَإِذًا

اہےعلمکواورابے لق نکوکیک تر بناجب جان لیا لکرواور جب لقن پیراہھگیا ےبوص

لم وق ن کا تقاضا ہی ےک ۔اس کے مطا قم لکیاائۓ اوراگ راس کے مطا لق لنکپور یش ے زا ےلم وین یو سکیا چاسکا چناخ اگ رکو ٹس یی کہم لقن ےک فلال راست میں خطرات ہیں اوروہ نے خط راس ےکویچھو کرای برخطرراست ٹل راہ پيالّ ار ۓل کو نکہ تا ےک د٥ا‏ اس راہ کے فطرات برق ن رکتا ہے یلاس نیقی نکا نیہ ہہونا اب ےکدہ اس راستہ بر جلنے سے اتا ارکرء ای طرح یی حر نش راو رعفراب وذ اب بر لقن رگتا ہووہ دا ۲ھ “ٗ7 خر تکونظ ران انی سکرسکنا اور خر اب دعحقاب کے توف ے تل می سکوتا یکا م رکب ہ تا ے۔

ڑ۵ یلع وتیں

السُمَم مُورِۃ غَيْرْ مُصْیرِء وَصَاِنْ عَيْر وَفِی. وَربَمَا شرق شَارِبُ لماع قبل رَه: وَكُلمَا عَظُمَ قَڈر الشَی المتتَافْسِ فِبْه عَظمَتِ الرَرِبلَِقيهِ

ٹن کھاٹ پہاتارتی گی راب ک٤‏ خی لاد چا ہے۔ ذمداری کاو چا ٹھالی ہے گراسے پودانھی سکرکی او راکش ایا ہوتا ہےکہ پالی نے وا ل کو پٹے سے پیل تی اسچھو ہوجاتا ےاورجأٹ کسی موب وبیندیدہچیزکی قد روضزات زیادہ ہولی ہے اتقای اے کھودی ےکا رم زیادہ ہوتا ےآ رز وی دیدہ واصیر تکواندھاکرد پت ہیں اور جوتحیب یں ہوتا ےی ےک یکول سے بقی یل جانا ہے۔

ظا ہر 2 اشن لهُم بی اوه یک مِنْ ا تُحَسُن فی لایقة ون عالیتی, رع سمَا نیلک سَرِمرتی مُعاطا عَلیٰ نہ الس می تَقِی بِجَمیٔع ما َئْتَ مُطَعٌ عَلَيْه مِنىءفَأَبییَ لاس حُسْیّ ظاجِری وَأَقضِی الیک بِسُوءِ عَمَلِی تَقرّبَا ال عِبّاِک وَتَبَاغدامِنْ مَرّضَایک. اےاللہ ای تھ سے پنہ ماما ہوں اس ےک می را اہ رلوگو کی چشم اہ ٹین میں تر ہواور جھ اپے باعن بس چھپاۓ ہو ہوںہ دہ تی نکروں بل برا درآل حاپ ٹیں لووں کے دکھادے کے لے اننس ےالن بتزولں ےگہداش تگرولں جن سب سے آ گا ہے۔ ال ط رع لوگوں کے ساتے فو اہ رکے ابچھا ہون کی خرائنش کمروں اورترے مات ے اتی بداعھا لیو ںکون کرت رہوں ینس کےنتے ہی تیرے بندوں قرب عاصس لکر اورت کی خوشنود یں سے دو ری ہو چلا جال - ھ4۴ ام لاَوَالّدِی اَمْسَیْنَ مه فی غُبْر الو فَهمَاءء تَکُضِرُعَنْ َو اوه مَا کان کذَا وَكَذا. میا وت پڑشھمکھاتے بد ارشاوف مایا :اس ذا تک اش جس سک رولت چ نے ال خب تار کے بائی مان حصکویسرکردیاٹس کے تی روز درختا لاہ رہوگ ایمااوراییا نا

(۸+ء:پمنینل وڈ ال جھپارندکی سے بھالایاجاتا ہے زیادوفاتد مند ہے ا لںکلی سےک تل سے ول اکماجاۓے۔

٢2۹‏ پوف رخ لک اممیت ِذًا اَضَرتِ التَوَافْل بالْفرَائضِ فَازفُصُومَا. جب سا تذل میں س راہ ہوں تام ںپچوڑدو

ط۲۸۰ ہغمت

وسفر رکی ددر یکوٹی ںظررکتتاے وہ بعر تاے۔

(۸۱ یت لی رہبری لمت الرٌوِبّةُ کالْمُعَايةمَع الصَار: قَقَد تَكُذِبُ الْعْیون أَهْلهھَاء وَلاَ آگھو ںاو یکنا عقیقت مس د یکن کیو آ می بھی اپنے اشفا سے فلط مال

یکر چائی ہی ںیل ا ٹف کوجوائس ےکحت چا ےچ افری نی دب

۲۸۳ ففلت ََْكُموََينَ المَوْعطَة حِجَابّ من از تہارےاور ین ڑشحت کے درمانقفل تکاایگ ابر دوعال ے- ۲۸۳ پے عالدجاال جَامِلکُمْ مُزذَاڈء رَعَالِنکُمْ مُسَرّت. تمھارے جال دوات زیادہ باجاتے ہیں اورعا مآ تندرہ کے نے قیات یں متا رکے

جاے ہیں۔ ۸۴ ,ےم عزر صھمکاحاصل ہوجا نا کہا ےکرنے والوں کے عذ رو مکردیتاے۔ ۵ب طا لب ہلت ر0 9 ٤‏ بر 009 سو و لاو ہیں کل مُعَاجَلٍ يَسُال إلانظارء وکل مُوَجْلٍ يَتعَلل بالتسُوِیٔفي. جسےجلدکی سے موتآ جالی ہے دہم ہل تکاخوااں ہوتا ہے اور بے “ہلت زندگی دی گئی ہے ددٹال مطو لکرتار چتاے۔ (۵۸ءاان ا ال لاس لَِٰ١طُوتٰ‏ لئ لوڈ خَبَاهُ لدمرَوْمَ مرو لو گی پرداہ دای کر ےمم کہ مانہاکی کے لے ایک برادن چھپائۓ ہے

ہس_ے۔

3

با ے۲۸ )تضاوٹرر وسی لٴعن القدر فقال:طَرِق مم فَلَتَسْلكره وَبَحْر میق تَلجُوهء وَبِر الله فَلَتتَکلَثوۂ آپ سے قفا وقرر کےاتحلق او چھا گیا آ پ علیہ السلام نے فرمایا :ایک تا رک راستہ ہےاس می رم نداٹھاءای کگبراسندرر ہے اس می شرات دا کا ایک راز سے اے جال ا زعمت ناٹھا. (۱۸۸ لم سبردی ِ٥ا‏ أَرْذْلَ الله عَبْداعَظْرَعَليه الیلم. انس بند ےکوی لکرن چا ہتا ےا ےلم ودالش ےجرد مکرد تا ہے۔ وک بی بھائی کان لِی فِیْمَا مَضیٰ ا اخ فی الله َكَانَ یم يُُظِمُةُ فی عَیْبَی صِکَر الڈُنیَا فی عَيسة 0) وَجَد. وکا اَكنْرَفَمْرِہ صضایتٌّ فان قالَ بَذَ الْقَاللینَء وََقَم عَلبْلٍ الین وَكانَ ضویف مُسْتَطْعَفاء فَإنْ جَاءَالُجذ قَهُو لی غَاب, وَصِلَ اہ لأئُڈلِی بحُمُوَعَتّی يَایَ قَاصیّاء وَكاؤ لئَلوم ادا عَلیٰ مَایَجڈ الْعْذُر فی مثْلهء عَتَیٰ يَسْمَم اَغیڈارٰۂ: وَكَانَ لأيَشُکو وَجًَ ال عِنْد بُرُیهِ: وکا یَقُولُ مَا یق وَلايقُولَ مَالاَقعلُ: کان اذا غُلبَ عَلَیٰ الگلاملَمْ بُعْلَبْ عَلیٰ الشُگوتِء وگان لی مَا يَسْمَم َخْرَص مِنه عَلَی ان یکلم

وَگا اِذَابَتَعَۂأُمرانِنظرَيهُمَ ارب لی الهَوَیٰ الف كَعَليْكُمْ بھلِا الْحَلاُقِ رالاخلاق) فَاْرمُوما وَتَفَسُوافِيھَاء فا نَم تسْمَطيْمْومَ فاعلَمُوا الیل عَيْريِنْ ترک الگر

عبد بای مل می راایک دی بھاگی تھا اوردہ می ری نظروں بی اس وج ے باعز تتھا دنا لک ینظروں مل بیست وق ہنی ۔اس پر پیٹ کے تھا مسلطان تھے ۔لہذاج چز امیس زی ا لک خوائنش شکرت تھا اور جھ یمیس تی اےضردرت سے (یاددصرف یس نہ لات تھا۔ دہ اکشراوقات نا می رتا تھا او رگم بولتا تھا و لے والو ںکوج پگرایتا تھا اورسوا لکرنے والو لک پیاس بھادیتا تھا۔ لو ں ٹذ وہ عا جو رد رتھا مر چہادکا موتحع آ جا ذو شی رجہ ادرداد یکا دھاتھا۔دہ جودیل بر پان شی لکرت تھادہ فیصلین ہولی تی ددان چیزوں یس کرجن می عذرکیگنائ ہو یتیب یکوسرزنش شک اتاج بتک کان کمززضزوت لان نمور نل فکاز/ ےرت اءگر ا راق جب ال سے پچھلگا رپا ہتاتھاء دہ جوکرت تماد یکہتاتھااور لئ سکرت تھادد ا ےکہنانی تھا

اکر لے می اس پریھی خلب پا بھی لیا جا و ا موی یس اس ب رخ حاص٥‏ لی نکیا جاسکتا تھا وہ بو لے ے زیادہ سن ےکا خواہہشمندر جتا تھا اور جب اچ تک اس کے سان تیآ جال کر لتا ظ7 ان ملس ےبراےڈ كنارذبلرن . ادا لک مخالض تکر تھا لہ نہیں ان عادات وخ لکوحاصس لکنا چا بے اوران پل پیرااورا نکا خواہشمندر جن چا ہےاگر ان تھا مک حاصص لکرنا تہارک ققدرت سے باہر ہون اس با تکوچانے رہ کیٹتھوڑ یی بحاص لکنا پورے کےکھوڑ دیئے سے بت رہے۔

تخرت نے ال کلام سج پش سکو ھا لی کے لفظ سے یا وکرتے ہو ئے الس کے عادات د شا ل کا تج کر وکیا سے ا ںپنض نے حضرت ابو ذرخفاربی مین نے عثان ان مظحو ن او رت نے مقدراداہن اسو رکم راولیا ےگمر بجی سک اس س ےکوی فردخائ مرا دض ہ کی نکر بکابیعام طلر یکلام ےکدہ اپ نےکلام یش اپ بھائی با سا یکا ذکرکرجاتے تھے ءاورکوی ینس ان کے یی ںانک یں ہوم تھا۔

۲۹۰ رک محصیت

َو كم مود الله لی مَعْيّه لگا جب ا ُْصَیٰ شُكرألِعَهو۔

اکر خداوند عالم نے اپنی محصیت کے عذاب سے نہ ڈدایا جوتاء ج بگھی ا سکیا نتوں شک رکا تقاضا اک را لک محصیت نکی جاۓ۔

۲۹۱ اریت

وقد عزی الا شعث بن قیس عن ابن لە:ی اُفْعَثُ اِنْ تَحْزنْ عَلَیٰ أیک قد اسْتَحَفّث ینک ذلک ارجم وا تَصْبر قھی الله من کل می خَلَف. يَا اَشُْعَُء اِن صَبَرْتَ جرّیٰ عَلَیْکَ الْفَدَر وَآنتَ مَاجُورء وَاِنْ جَرٍغت جَرَیٰ عَلَیْکَ الْقَدر وَآنتَ َو رٌ. یا اَفعَ ايک سَرک وَهْرَ لا وَفِتَةء رَحَرَنک وَهُوَقَوَابِ وَرَحْمَةٍ

اشحعت ای نی سکوائل کے بی ےکا پیسا د نے ہو ئے خر بای اے اشدف !اگرتم اپنے ٹے پر در وطا لکرونذ یخو نکارشت ال ںکاممزاوار ہے :اود اگرصبرکر وق الیل کے نز یک ہر مب تکاعیش ہے۔ اےاشعت !اگرم نے ص کیا تق مرالچی ناف وگ اس حال ئی کہ

ماج اب کےے ارہ کے اوراگر ہے چلاۓ ‏ ج بآم یمم اکا جار ہوگررےگا- گرا عال ملکتم پرکنا کا بج ہوگا.تارے لیے بڑامسرر کا سبب ہوا حا اکلہ دہ ایک زعت وآ ز ماک تھا او تھارے لے رر وائدد ہما سبب ہوا عالاکہ وہ مرتے رے تہارے نے اجرورشتکاباعث ہواے_

رءلوسرت4)۹٢(‎

علی قبر رسول الله ساعة دفنہ ا الصَيْر لَجِمِيل ال عَنکَ ون نر لَقِْخ ال عَلَيْکَ وَام الُشَصابَ بک لَجَِیْلْء َئۂ قبلک وَبَعَدَک لَجَلل.

رسول الیل علی رد لہ یلم کے بن کے وقتت قب ر پمیالفاظط کی عبرو ای چیزرے سائےآ پ کےکم کے اور تال ی د تار مو برا ہے سوائےآ پک دفات کے اود بلاشیہآ پکا مو تکاصد مٹیم ہے اورآپ سے چیہ او آپ کے بح دآ نے وا ی مصیبت کک ے۔

۲۹۳ پچ تو کی مصاعہت

بے وو فکی کین افیار یکر کید وتہارے سائے اپنے امو ںکوس کرٹ کمرےگاادری چا اخ ای کے ا لے ہوجا.

بے قوف انسان اپنےع ری کارکوں بے ہوئے اپنے دوست گی می چابتا ےکددہ ال کا سا طورلر بیقہاختیارکرےءاورجیمادہخود ہے دیما ہی دہ ہوجاۓ ؛ااس کے یعفیئیں ہیں

کرد ہابتنا ےکا لک دوس تچ اس جیما بے وقوف ہوجاے ۔کیونکہدہ ای ےکو بے قوف ت یک ببکتاہے جو چا ہے اوراگ رتا ہوت نذ بے وقوف ب یکیوں ہوا۔ پ اب ےڑعکمنداور اپ ط ربق کا رک بے ہدے دداینے دوس تککھی اہین بی ای امن ینا ا ہنا ہے ۔اس لیے دہ انی را ۓےکو کرس کےسا می کرتا ہے اورائس پیل پیا ہو ن کا اس سے وا مندر ہوتا ہے اور ہوسکنا ‏ ےکا کا دوست ال کی باقوں سے متاشر ہوک ر ال سکی راہ پیل پڑے ال لیے اس سے کتھلکرہنای مفیدغابت ہکا 7-2 ۲۹۳ب مغرب دشر قکاناصلہ

وقد سٹل عن مسافة مابین المشرق والمغرب, فقال: مَسِيْرَغَومللصُمُسٍ.

آپ سے ددیاف تکیامگیا کشر ومخرب کے ورمیا نکتنا فا صلہ ے؟آ پ نے فرمایاسور کا ایک د نکارامت

(۲۹۵ ۰"7-ب-

أَصْيِفَاوُک تَلانَه, وَأَعْدَازُک لَاَئَة: فَأفَيفَازُک: صَیِیفُک, َصیبٔیٰ صَدِبْقِک وَعَثزعَثُرْک. وَأَعْنازُک: عَدوک وَعَئرُ صَدیقک, وَصَدِیْقْ عَدڈُوک.

رج سر سس ہااعتوسہی نضرت ت٠ہارۓووس‏ تکا ٤‏ و[ اوزشنؤں تھہارا ارے ووس تکا 7 وا ےش کا دوستے-

(4 از ارسالی لرجل رآہ یسعی علی عدولە ہما فیه اضراربنفسہ: انم انت کَالطَاعِنِ تَفْسَۂ لِیقْْل رِفقة ہے نر ا رن کی ا بچانے کے در پے ہے مس می خودا سکویھی نتصاان ینگ ءذ آ پ نے فرما اخ اس شف کی ما مہو ج اہ کے کے دانے-ا روک یکرنے کے لے اپنے سبنرٹس نیز قباتےےت

چا ے ۲۹ با عبرت احیرت َا أَكمْرَاليرَوَأقَلَ الغَارا یت تی زیادہ می اوران ےاڈلیاً اتا مے۔ اگرزماضہ کے حوادث دانقلابات پ نظ کی جاے اورگزشتزلوگوں کے احوال وواردا کو ریما اورا نکی مرگ زشتو لکوسناجاۓ فے ہرکوشہ سےعبر تکا ایک الیکا داحتا نکی جائتی ے چوروح کوخوا بتغفلت ےکجچٹھوڑ نے ند وششیح تکرنے اورعہرت واصیرت دلاتن ےکا لپورامردسامان عتی ہے۔ چناخدنیالٹش ہرچ کا نا اورگڑنا ار یلو ں اکنا اورم یھنا مز ےکا اہلپانا اور اما ہدناادد چرذدہکا تق روتبد لکیآ ماجگاہ نا اییادرںعبرت ہے جسبراب زندگی ے چام بتا کے اص لکرنے کے تو ات حکرد ینا ہے۔ بشر یلہد بن وا لآ میں اور نے وا لن ےکان ان عبرت افزایتززول ے بنرتہول-

۲۸پ فی مس خوف خد اکا فاظ

َیْ بَائَعغ فی الحْصُومَةأيم وَمَْ قصُرَفِيّْهَا طُلم وَلاَسمَطیع ان تی

اللّهمَنْ حَاضَم, جولڑائی جھگز ے میں عد سے بڑھ جا دہگنہگار ہوا سے اور جوا ینک رۓ ال پیم ڈھاۓ جاتے ہیں اور جولڑت جنکڑتا ہے اس کے لے مضنکل ہوتا ‏ ےک و وٹوف خداقائم رھھے_ ۲۹۹ا َا ابی دنب ہل بَغدۂ عَتّیٰ أصَلی رَکعتیِْ وَأمَال الله لعاف ددکناہ یھ اندد نکی لک رتا ینس کے بحد ےم ہلتال جا ےکی دورکعت نراز پڑھول اورالٹ ےا کن دعافٰی ت٤ا‏ سوا لگرول _ ط۰ پچ ساب وک تاب وُسٹل"ٗ کیف یحاسب الله الخلق علی کٹرتھم؟ فقالٌ: کُمَا َررلّهُمْ عَلیٰ كْرهِمْ, ققیل:کیف یحاسبھم ولا یرونه؟ فقا لكَمَا يَرزُقّهُمْوَلَايََرنَة. امیرا یجن علیہ السلام سے ددیاف تکیاعگیا کہ خداوند عالم ا سکش رالتعد دلو قکا صا بکیلکر لےگا؟ فر مایا جم ع رح ا لک یکرت کے باوجودروزی نیس پیا تا ے_ و اد کوک رصاب لےگاج بکیقلوق اسے د چ ےکی نیس ؟ ف مایا نم سطرخ یں روزی دا اورودا سے د یں _

۰۱پ قاصر تمہارا قاصددتہار تق ل کات جمان ہے اورتہاری طرف سےکامیاب تر ین 2 جال کرنے والتہاراخیا ے-

۰٣‏ پشتا ح دعا مَا الْممَلَیٰ الذِی قڈ امم ِه للا بأَخْوَج اِلَیٰ الا مِن المعَاقیٰ الّذٍی لأَيَمَنُ الَلهَ! ای جو دصمیبت یں ملا و بقت ا جع دا ے؛اس ےک دو تی ردعافیت ے ےگرفرث کرت جا ےکپ محووب تا نے- ۳۰۳ بے انا دنا لاس اَبَْاء لیا وَلأ با الرَجْل عَلیٰ ححب اک لگ ای دنا کی اولا یں اوس ین سکوا تی ما لک عبت بات ملا تٹ نیو کی جاسق- ۰۴پ دا کا فرتادد المِسشکِیْنَ رَسْولُ اللہ فَمَنْ مَنَعَة قد مع الله َمَْأَغطَاۂ قد اُغطیٰ الله خریب وین اولدکا فرستادہ ہوتا ےو شمس نے اس سے اینا اتد وکا ال نے خرا سے اتد وکا اوج نے اسے بد یاال نے داگودیا-

و4۳۰۵ نرتنر َازَنَیٰ غَيورقَط. غیرت مندرھی ز نی ںکرتا۔ ۰اپ پاسبان زندگی یبال خحاِضا۔ ‏ متحاتگہبانی کے لان ے۔ 9س0 ںکڑگیں, ووارٹ کے طوفائن اھ بی ء زین بیں نے تین ادا لین می کک ان گنگ بائی ا کوئی عاد-گز نیس پیا سک اورن صصرضو تن زنک یکو بھا تی کیوگل مو تکا ایک وقت مقر ہے اورائس مقررہ وق تک لکول چززسلسلرحا تک نو سک رسکی ال فا ط سے بلاشہموت ود نگ یک حافظ بگببان ے- ے۳۰۴ ہچ مال سے گا 1 وا د کے مرنے پآ دی یکونین دا جائی ےگ مالی کن جانے پراسے نینڈیی شی سیدریشی فرماتے مہی سکیا کا مطلب یہ ہےکرانسان اولاد کے مرنے پرضبرکرلیتا ےگ مال کے جانے پیھرکی لکھتا۔ ۰ ددتی دفرایت َوَصٌة الاَاء قرَابَةَْْ َء وَالْقْرَه لی الموَكة أَعْوَخ من المَرَذۂ لی الْقَرَابة. ال لی ا مامصبت اولاد کے درمیان ایک قرابت ہواکر لی ہے اورحب تکوق راب تک اتی ضرورت ہیس پلئی تاب تکب تکی_

۰۹ یشنم 7 ال یمان کےگمان سے ڈرتے رہوءکیونکہخداوند الم ن ےت نکوا نکی ذ باقوں پبقرار

دیڑے.

0

.۳۱۰ب کل

می بنرےکا یمان ال وقت کک سان ہوتا جبکک اپ پا تھی موجودہونے

والے مال سے اس پرزیادہاشھینان ہوجو قدرت کے اتیل ے۔ ۳۱پ انس ابنما لک

لآنس بن مالک, وقد کان بعٹە الی طلحة والزہیر لما جاء الی البصرۃ یذکر ھما شیئا مما سمعہ من رسول الله فی معناھماء فلوی عن ذلکء فرجع الیەء فقال: انی انسیت ذلک الامرء فقال: اِنْ كَنْتٌَ کَاِبًا فَضَرَیَک الله بِهَ َيْسَاءَلأمَِةلتُوَارِبهَا الْمَامَةُ

جب حفرت لصرہ میس واردہو ونس بن ماک ککشلوز یر کے پا کیچ تھاکہ الن دوفو لکو ید ہاقوال یاددلانشیں ج1 پعلیالسلام کے بارے می انہوں نے خو تر اکر سی اورعلیہدآل ہویم سے سے ہیں مگرانہوں نے اس سے پپہل ٹج یک اور جب پیٹ کرآ ےن دکہاکردہ بات مھ اکس ری اس پیفحضرت نے فر ما گرم وٹ بول ر سے ہو ا لکی پا داش یس خداوند عالم ای چدارداغ م۲ میں بت اکم ےکہ جے دستاری

سید شی ف مات ہی ںکفید دا سے مراد شش ہے چنا اس متس میں ہنلا ہو گن جس سکی وجرے پمیشنقاب پٹ دکھائی دتے تھے . ۳۱ بداو ںکی حاات لِنْشُلوب اَل وَإذَاراً: فإكَ اََلّث فَاخمِئومَا عَلَیٰ اللوَافلِء وَِذَا َذَرَث فَاقْتصِرُوا بِهّا غَلیٰ الْمَرَائِض. دل بھی مال ہدتے ہیں اودیی اٹ ہوجاتے یں ولب اجب مال ہو اس وت ایس با کی با آ درگا بر مادوکرواور جب اچاٹ ہو لآذداجبات پراکتتاگرو- ۳٣۳٣(‏ دق رآ نکی جامعیت فی انت مَاَبلّكُمْوَعَبرُمَا بَدكُم رَحُکُم مََيتَكم ق رن می تم سے پل ہکی خ مم تممارے بعد کے واقعات اورتمہارے درمالیٰ عالات کے لے اعکام ہیں- ۳٣۴‏ پہہ رکا جو اب پھر رُڈُوا الْحَجِرَمِنْ حَیْثٌ جَاءَء فا الشَرَّ لا يَدَمُة ال الشر جدھمرسے پچھ رآ ے اسے ایھرجی پلیادوکیون تی کادفی نی ھی ے ہوسکتا ے۔ ۳۱۵ پچ نکی دیرەزی لکاتبە عبید الله بن ابی رافع: دَوَاَکَ وَاَطِلُ جلْفَة فیک وَفَرّج السطور وَقَرمِط بین الحْرُوفِ: فَإى ڈلک اَجُربِسَبَاحة الخط..

اپنے شی عبی راد این ال ران سے فرماا ذدوات میں صوف ڈا لک واودٹ مکی ذہان لا می دکھا اگرومطرولں کے درمیان ناصەزیادہ جیھوڑ اکرواورت رو گوس تم اک رک اک روک برای دیر+ڑ یک لے مرامب ے۔

۷٣۳ب‏ سوب اون

ُا َْسُوبُ الْمؤْمِييْنَء وَالْمَال بَعْسُوبْ اجار

ائل اما نکاسوب ہہول اود برکردارو کا سوب مال ہے۔

سیدریٹی فرماتے ہی کہا کا مطلب مہ ہےکہایمان دالے میرک رو کرت ہیں اور برک ردار مال ددوا تکا ابی ط رع اتا کر تے ہیں جس طط رح شر یکھیاں قسو بک اق اک رت ہیں اور قسوب ا اھ کوک یں جوا نک سردارہولی ہے-

ے ۳۱ب ایک بہوری

وقال لە بعض الیھود: ما دفنتم نبیکم حتی اختلفتم فیه! فقال“ لە: لَمكُمْ: راَجْعَلْ لت لھا کَمَا لهْمْ آلَِغ رقال اِنكُم فَزْم تَجْهَلَریَ

ایک بیپودی ن ےآپ س کہاکہابھی تم لوکوں نے اپنے وڈ نی کیا تھاکان کے بارے میں اختلاف شرو ںکردیا۔ححخرت نے فرمایا ہم نے ان کے بارے ٹیل اخلا فیگیںکیا ۔ ران کے بعد انی کےسلسلہ مس اختلاف ہواگرقم دہ ہوک ابی 9 -0)] ےکراپنے نی سے نے گ کہ ہارے گی ایک الما خداہنا دہج جیسے ان لوگوں کے خداہیں ءا موی علیہ العلام نے

کہاکہ یی کن ایک جا ل توم ہو.

اس بیبود یک یہت یکا مقصد یھ کیمسلمافوں کے ہابھی الا ف کون لک کے رسول رم ص٥لی‏ ال علیہ وآلہ ول مکی نیو تکوایک اختلا فی ام راب تکر لے مگ رححضرت نے مرلفطفیہ کے ہیا افناعنفر اک راختلا فکاموردوات کردیاکردواختلاف رسو لک غوت کے بارے مل نہ تھا جا نک ابت دای کےسلسلہمیں تھا۔ او بر بہود یا ںکیا حالت پت ہکرت ہو ئۓے فرماتے ہی ںکہ یلیک جو1 ج بش ر کے بحدمسلرانوں کے ہا بھی اخنتلاف برق کر سے میں خودان کی حالت رٹ یکرت مو یکی زندگی یمم مقید دق ید می متزلزل ہو گے تھے چنا نچ جب دوائل مع رک خلائی سے پچھطگاراپاکر در یا کے پارات ےو سینا کے بت نان ہی پھر ےک ایک مورکی کرک ر رت موی سےکینے گ کہ ہمارے لی بھی ایک ای مورکی بناد ہچ ۔ جس پھ حضرت موی علیہ السلام ن ےہ اکیتم ا بھی دی بی چائل ہو , یت کصرمیش تھے ہن سٹو م یش

قحیدک الیم پانے کے بحدشی بت پ یکا جذ برا تا ہوکدہایک ب تکود کرت پنے گے اور با ےکہ اس کے لیچھی ایک بت غالہ بنادیاجائے ا سکوسلمافوں کےسی اختلاف پتصرہ کر ےک اک ین تھا ے۔

۵ پل کا بب

وقیل لە: بای شی غلبت الا قران؟ فقال : مَالَيِیْثُ رَلاإِل ایی عَلَیٰ َقيِهٍ

ححضرت ےا ہانگ اک ہآ پا و سے اپ ےم یفوں پرغال بآ ے راف آپ متا کیج کابھی مقاب ہکرت تھادد این خلاف میرک مدوکرتاتھا-

سیررشی ف مات ہی ںکرححضرت نے اس اھ کی طرف اشارەکیا ےکآ پک بیت دلوں پ چا جا ی یہ جن اپنے حریفوں سے موب ہو جا ال لکا پیسپا ہونا ضروری سا ہو جانا ے

کیوکہمقابلہ بش صرف جسمانی طاقتکا ہونا ہی کائی ٹیس ہوتا۔ بلہ د لک کھہرا اورحوص لک مہو بھی ضردری ہے اور جب دہ ہمت پاردےگااوریضیال دل میس جا ٹاہ جع مخلوب بی ہونا ےذ مغلوب ہہوکرر ےگا کی صورت ام رکون علیہ السلام کےت ای فک ہو 7 وا نکی مسل اعت سے اسر متاث ہوتاتھ اکر اسے مو تک لقن ہو جا قاءڑٹس کے تہ میں ا سک قوت مجنوبی دخوداع اد یختم ہوجائی شی اورآ خ می ڈانی اث اسے مو کی راہ پر لاکھڑا کرتاتھا۔ سج وفاتے لا بنە محمد بن الحنفیة: یہی انی أَحَاف عَلَیَک الْفْقرَفاسْمَجذ باللهِ ارز ئا میتی دنفکاراض دیرازامتی اپنے فرزن شحہ ابع نیہ سے فر مایا ےفر زم می تمہارے لی ےق ر تی ے ڈرتا ہوںمہذ انشروناداریی سے ایر بناد او ءکیوکہ بیدبین کش ہش لکی پر بای اورلوگوں کیافرتکاباعث ے۔ ٣‏ ٣پطرزسوال‏ لسائل سالەعن معضلة: سَل تَفقْهَ اسان تَعَّء إِم الجَاجِلَ لعل شََِة الام وَإِن الام الَعَسّقف فَبةبالْججاملِ الَمَعَتِ. یس یں ئل ہپ تس دا کیا نے اف سے لے وہ این کے لے نہ چو کیو دہ جائل جوسکھنا بنا ےش عم کے ہے اودددعالم جوا لناجا با د ہل جائل کے ے۔

۳٣‏ پچ ایک تورہ لعبد الله بن العباسء وقد اشار عليه فی شی لم یوافق رایه: لک ان تَخِیْرَعَلَیٗ وَآرَئء فَإِنُ عَضَیْتَک فَاطِغبی. عمبدا ئن ع اس نے ایک ام ری سآ پکومشورددیاج ھپ ےریہ کےغلا ف تھا پ نے الن سے نر مایا ۔تہارا یکا ہےکہ مھ راۓ دو۔ اس کے بعد بج ےمصسحوت َ >۔او راگ تہارک را ۓےکونہمانول ب سیل میرک اطاعت لازم ے۔ عمبداشرامن عپائس نے امی رال وشن علیرالسلا مکو یمشورددیاتھاک لن روز بذک یکلوم تکا پردا دج اورمعاد کوشا مکی دلایت پر رٹ رادرٹے ہے یہا ںک گککہآپ کے قدم مفبڑٹی سے جم جانمیں او رعلوم تکو الام حاصل ہوجائۓ جس کے جواب میں حضرت نے فا پاکییش دوسرد کی دای خاطراپنے دی نکوخطرہ می ئی ڈال سلتلہاتم انی بات منوانے کے ہیا می رکیابا تکوسنواورمی ری اطا خ تکرو_ ۳۲٣‏ ہز نا نکوزہ وروی ان لما ورد الکوفة ادما من صفین مر بالشبا میینء فسمع بکاء النساء علی قتلی صفین وخحرج الیه حرب بن شرحبیل الشبامیء وکان من وجوہ قومہء فقالٴ له:اَتَعْلِِْكُمْنَسَاوُكُم عَلیٰ مَا اَسْمَمُ؛ الا نْهَونهينْ عَنْ هذًا الرَیي؟واقبل حرب یمسی معہ وھوٗ راکب ء فقال“: زجع فَإِم مَشٔی بفُلک مَع مِئْلی فَتَلِوَالی وَمَلَلة لِلمُونِ. ارد ہوا ےک جب رت صقن سے پاٹ ہد ےکوفہ یچ یہ شیا مکی 1 بادگی ے

وک رگزرے چہال مفین کےکشتول رون ےکا آوازآپ کےکاوں میس پ گی ا مم قرب این ش یل شبائی جو ا بن اقم کےسریبرآ وردولوگوں میں سے تھے :حضرت کے پا ںآ ےآ پ نے اس سےفر مایا ہک یاتمہارا ان جو رتو پرش نجس چلتا ویش رون ےکی آ داز بی یکمناد ہا ہو اس درونے چلانے ےت ایی سی س کرت ے؟ رب 1 کے بڑ کر خرت کے ہمرکاب ہو لیے درآں عالیک رت سوار ھن آپ نے فرمایا :لٹ جات ےآ دٹیکابجھا سے کے ساتھ پیادہ چلنادالی کے لیے فقنداور من کے لیے ذات ہے۔ ۳٣۳‏ پچ ارح خردان

وقد مربقتعلی الخوارج یوم النھروان: بُوْسَالكُمْء لق صضَرَّکُمْمَنْ غرم فَقِیُل لہ: من غرھمیا امیر المومنین؟ فقال: الشَيْطَان الْمُضَِلء َألنْفُسُ الأَمَارَۃ بالسشُویء عَرّنّهُمبالمَایٗء وَفَسَحَ لَهُمْبالمَعَاِیء وَوَعَدَنْهُمْ الاظْهَارَء فَاقَحَمَث بهم الَارَ

خہروان کے دن خواز نے کے کش کی طرف 0 را مر وارے لج لات وتمائی ہوجس نے ہیں درفلایا ءال ن ےش یں فرجب دیا۔کہامگیانکہ یاامی وحن علیہ السلا مس نے انیس ورغلایا تھا ؟ف مایا لک گرا ہمكرنے وانے حیطان اود برای پہ اففازے زنلاٹ ےک ںین تے الین انمیدون ک فرب شین ال وکنا جوا کا رات ان کے گی ےکھول یا یکا مزال کے ان سے وعرے کے اود اس ط رع یں دوزرغ می لگھویک دیا-

۳٣۴‏ ہگواہکھی اور حا بھی أنقُوا مَعَاصٍیٗ اللِٰ فی الْخلَوَاتَ, َِن الشّامِد هُو الْعَائِ۔ تھا ئیوں میس ال تھا کی ملف تکرنے سے ڈرو ہکیونک ہج وگواہ ہے وی حم ہے . (۳۲۵ این ال یج ری موت لما بلغه قعل محمد بن ابی بکر :ان حَرْنََا عَلَيْهِ عَلَیٰ قُڈرِ سُرُورِهِمْ بهہ ال َنهُمْ نَقَصُوا بَفیْضَاء وَنَقَصْنَا خَبيًا. جۓے؟آ پکوشح ائکن ال ی جک رت الشدعلبیہ کےش بی ہون ےکاخ ری و اپ ےف را یں ان کے مرن ےکااتقادی رق ہےچشخی شمنو کول کی خوٹی ہے بلاشہرا ہکا ایک نک ہوااودہم نے ایک دوس تکوکھودیا۔ ٣۳پ‏ عذرپ رت الْمْر الَذی اَغُذَرَاللّهُ یه اِلَیٰ بن آمَ سِتونٗ سَنَة جم کس کے بعدا تھا یآ دٹی کے عذ راقو لی می سکرتاءساٹھ پر کی ے۔ ۳۲پ خ طط یق ےکا میا ی ا طَفرَمَنْ طَرَ اکم بد وَالْعَالِبُ بِالشُرمَُلوبَ. شس گناہ ابو پا نےء د ہکا مرا نیل اورش کے ذ ری خلبہ پانے والا شقن مفلوب

ہےے۔ ٤‏

۳۷۸ فقرا رکا ص الله سُیْحَانَۂ فَرَضَ فی أَمُوَالِ ا غیباء اقَا النقراء: فَمَا جَاعٌ غراوئرعا نے دتتروں کے مال می قرو ںکارزق مقررکیا ہےلہذااگ کو فقیر ھکار بنا اذ ال لیےکہدوات مند نے دوا تکوسبیٹ لیا ہے اور خدائۓ رگ ور

ان سے ا کا مواغذ وک رۓ والا ے۔ (4)۳۲۹ءزرای ااسْيفنَاءُ عَنِ العْذرِأَعَزُّمِنَ الصّدقِ به۔ چا خرن لکرنے سے میذیاددد یع ہےک مغ رک ضرورت ین پڑڈے۔ مطلب ہہ ےکہانسا نکواپن ف رن پل ط رح کار ند ہونا اپ ےکراے معذرت یٹ

یں

کرن کوبت ایض ئۓ _کیونکہمذرت بی ای کگوشکوتاب کی جحلک اورذا تکیمودہولٰ 0سٹھی0) اکیوں مہ ہو- ۳۰۶۰٣‏ ہنم تکاصرف بے جا اللکاکم ےکم جوقم بر ھا ہوتا ہے ہی ےکہا لکیتتقوں سےگناہول می بددنہ لو کان نت وناساہی کے چنددد ہے میں ۔ پل دج ہہ ےکہانسالنفقت ہیک شی نہ میویتظری لب یربڑسسر2 ا سضملگھلاہ

ارک جئی بہوئ یتس ہیں گر بہت سےلوگو ںکوان کےذقت ہون ےکا ا ساس ب یمیس ہوت اک ان می شک رگ زار یکا جہ پیدا موہ دوسرادرجہ یر ےکرذق تکود یھ اور بچےگمراس کے متقا یل ہل شک بھاضہلاۓ . تس رادرجہ یہ ےکرقت پت وا ل ےکی خلت وناف ربا یکرے۔ پچوھادرجےے ہ ےکا یکی دی ہہوئی نت نکواطاعت و بندکی بی صر فکر نے کے ہچاۓ ا سکی محصیت و ناف بای شی صر فکرے بیکفرا انح تکاسب ے ڈادرج ے- ۳۳۱ )ادا ےق کا موتے ج بکائل اورنا کارہ افراول می سکوتاہ یکرت ہیں تذ ال کی طرف ے نظ نروں کے لیے ادائۓ رن کا الیک رین موق ہوتا ے۔ ۳۳۴ پک بادشا کی حقیت السا و اللہ فی ازضد. حکام الک سرز ین می ا کے پاسبان ہیں۔ ۳۳۳ بی مین کے اوصاف فی صفة المومن: الّموِنْ شر فی وَجُھهہ وَخْزنَه فی قلبهہ َوْسَمُ شَیٔ مرا وَأذْلَ حَیٗ تَفمَاء يَكرَه الرَّفعَةٌہ وَیَشْنا الشُمْعَة طَِيْل عَمّةء يد متا يْرٌ نا نلارق رگا کر( مرہ درز کرو ند بِخَلَیهء سَهُل اْخليقق ليؿْ ارگوا َفْسُة اَصْلَبُ مِن الصَلیء وَمُوَأذل من من کے تلق ف مایا :عون کے چچجرے پر بشاشت اوردل می کم وا ئوہ ہوتا سے

جصت ا لک بد ہے اوداپنے دل میں دواپ ےگوہ ليبھتاہےس یلد یکو برا تا ہے اور شہرت سےنفر تکرتا ہے ا کان م بے پایاں اود ہمت بلند ہوٹی ہے۔ بہت امش ہمہ وقت خشخول ہش اکر صاب رلک ریس خر دستطلب بڑھانے می ںکئیل خوش لق اورنزم یت ہوتا ہے اورا کاٹس پچ رسے زیاد وخ ت اورشودظلام سے زیادو تو اش ہوتاے۔ ۳٣٣‏ فرب آرزو لؤ رآ اَْبّة اّجَل وَمصِيرَۂ لاتق اَل رَمُرُورۂ. اک رکوئی بندومدتحیات اورال کے اما مکود چھےتذامیرول اوران کےفریب ے نف تکرنےجے۔ ۳٣۵‏ پیا روتصررار ِكُل ای فی مَلله شَرِِگان: الوَارِث وَالْحَوَادِث. رس ےمان و وضرائم کاو باانخا وھ ےوادث, (۳۳۷ )ےوعد ہدفالی ألمسوول حر ححتیٰ دج سے ااہگا جاۓ ددا دنتککآ زادےءجب آپمررداڑے۔ دخ فا الداعی بِلاَعَمَلٍ کالرًای بِلاوَترِ۔ لی سک رت اوردعا انا ہےدہ الا ے جیےے اخی مان کے ترچلانے والا۔

۸ )رکید میں تولملش ترسم راع منٹرلنالزگر عم دوطر کا ہوتا ہے؛ایک دو جٹس می بس جا اورایک دہ وصر فکنل اگ اہ اورسناسنایافائکد ول د تاج بکک وودل مل رار تہو- (۳۳۹ تال وادہار صَوَابٌ الرّایِ بالڈَُلِ: بقل بِالبَِهَا ویلب بِلَعَابهَا. اصاہت راۓ اقبال ودوات ے وابسۃ ہے اگ یہ ہے دوکھی ہو ہے او اکر ہے ٹیس تد دی یس ہوی. (۳۳ انت ہگر ری ز بت پاکمدائی اود قگر یک ز معن گرے۔ ۳٣٣‏ مال دظلرم َوْم العَڈلِ عَلَیٰ الّالِم اد من یَوُم الْجَوْرِ عَلَیٰ المظُلُوما الم کے لیے انصا ف ادن اس سے زیادہجخقت ہوگاء تنا مظلوم ینلم کاو

۳٣‏ بے بی د لمُتری الَْتَّیٰ اکب الّياسُ عَمّا فی ایی الَاسِ۔ سب سے گی دولات مندکیا ریہ ہج ےک دوسرول کے پاتھ بس جھ ہے ا سکیس نہ رک وے۔ ٣۳٣۳ہی‏ بجاو ںکی حاات اَّقَاوِبلُ مَحْفْوهَة وَالسَرَایز ماوق کلف بما کَسَبَث رَِتَم لاس مَنقوصُون مَذ خُوُون ال مَنْ عَضَم اللّة: مَالهَمْ تعَنّتَ, وَمجِيهُمْ کلت َگاۂ اَفضَلهْمرَأن يَرُڈه عَنْ فضْلِ زَايه الرَّصّیٰ وَالسّحُط وَیَگاُ اَصْلَيْهُمْ غمودا تنگوه وَتَسْمَحِیْله الْكلِمَة الوَاجدَة گنگ وی ںتفوبطہں اورولوں کےبجیدجائے جانے والے ہیں۔ ہٹس اپنے اعمال کے پاتھوں می ںکروی ہے اورلوگوں کےسوں می ٹیس اورقلوں می فة رآ نے والا سے رو کہ جے ال یاۓ رکھے۔ان میس لپ نے والا لھا نا اتا ہے اورجواب دج والا بے جانے او چے جوا بکی زحمت اٹھاتا ہے جو ان بش درست رائۓ درکتتا ہے۔ اکر شا زی نشی لق رزت ا ےچ راتۓے تے مو دن میں او لان گی سے اڈ سے پقع ہوتا سے ہنیگکن ہےکہایک نگاہاس کے دل پراز /َریۓاورأى گن بی انقلاب پیر اگروے۔ ( ۳۳۳ پرموعظلت

اپ ا 7 یت 230 27 ے 28و 22 َ‫ کی مر ہر مَعَاشٍِرَالاس اَتَقُوا اللہ فُكُمْ مِنْ مُوَمُل مَالايَبلَعَةُء وَبَان مَا لا يَسْکنةء

وَتجایچ مَا سَوٴف یَتْرْحُه وَلَعلَهيِنْبَاطلِ جَمَعَة وَينْ عَىٌ مَعة اَصَإَۂ حَرَامًا: وَاَخْتَمل بِه آقَامّاء قَبَاءَ ہوژرِہء وَقَيْمَ عَلَیٰ رَبّیہ فا لاِفَاء قُڈ عَیِرَ الا لَاجِرَة ذلِک مُوَالْحُسْرَان الْمِیْنٌ)

ا گرددمردم :الدسےڈرتے رہ وکیونگ کٹ ہی ایی بات نکی امید ہار نے وانے یں شش ن تک پی ےنیس اورا ےگ رن کر نے وا نے یں مشیکن مل ہنا یی بل ہوتا اور ایا مال ش کرنے دالے ہیں ے پوڑ جاتے ہیں عا لاہ ہوسکنا ہےکراسے خللاطر تہ ےت کیا ہو ای کان د اکر حاص٥‏ لکیاہو۔ ا رم اسےبطورترام پا یا ہواورا کا بج س گنا ہکا وچ ٹھااہوہ اذا کادبال نےکر لیے اوراپنے پروردگارکےتضوررن وافوں کرتے ہد ئے جاپ د یا خرت دونوں می گھا ٹا ٹھاا_ بی تک رکھاکھ ٹا سے_

۳٣۵(‏ گناو سےوراندگی گنا ومک رسا یکا نہ ہوناکگی ایک صورت 77 انی ےت (۳۰م)سرال

مَاء وَجُھِک جَامِڈ ُقطرَةُ السُوَالَء فانطُر عِنْد مَن تقَطِرُۂ.

تہارک آ بر دقائم ہے جے دستسوال دا کرن بہادتا ہے لہذ ای خیال ر ےک کے ےاپن یآ برود یک یکررےہو-

۳۳پ مرح مل حراتزال

َء بأَكُفرَمِن الاسُِخْقَاقِ مَلَ, وَالَقُصِیْرُعَن الَاسِْخقاقِ عِىٌ اَرْحَسَة.

مس یکو اس کے سے ذیادوسراہنا چا پلری ہے اوررقی می شک کر اکوتاہ ای ہے یا حیزے.

ہک

اَفَذالُتوبِ مَا اَسهَانَ به صَاجة.

سب سے پھارئیگناددہ ےک یل ککاا رکا بکرنے والا ا سیک بے

و ےگناہوں یس بے پاکی د بے اخقنائ یکا ہبی ہوتا ےکہانسا نگناہ کے معاملہ یل بے پرواوسا ہوجاتا ہے اوررفتۃ رفت ہی عادات اسے بڑے بڑڈ ےگنا ہو کی جرات داد ے ص2۳ تپ کےا نکامرکب ہونےکتاہے۔ہزا کیو ےمنا ہو ںکو پڑڈ ےگنا ہو ںکا یل خیمہیکھتے ہو الن سے ات را زک نا ای اکم مڈ ےگنا ہہوں کے مرککب ہون ےکی فوبت ھا

ج۳۰۱ ا گے اور یر ےاوصاف

َرَفی عَیْبِ تق عق عَنْعَیبٍ عَیْرو وم رَضِی برق اللِلَمْ رن لی مَاَاَةء وم سَلّ سیق الیهٰی لہ ومن کاب الاُور َولبَء وََیْ انم اَم عرقء ومن دحل مَاحَل السُوءِانَهھم َمَنْ کثْر کااۂ کُر عَطَوّةُ وم کَثْرَحَطَوهقَلَ عَيَاو. ومن قَلَ عَيَارة قَلَوَرَعۂء

وَمَیْ قُلَوَرَغُه مات قَلبْة وَمَیْ مشات قَلبةهَعَل ار وَمَنْتَطَرَفی

غیُوبِ النَاسِء فَأنكُرَمَاء ثُمَ رَضِيْهَا لِنقِْهء فک الاحْمَى بعَیيه. وَالْمََاعَةُ َال للایْقَة. وَمَنْأَكَرَِنْ گر اْمَوّتِ رَضِیٗ مِن الڈنيَابالَیْسِيْرء وَمَنْ عَلِمَ جو اپ غیوب پفنظر رگا درو لکاعیب جوئی سے بازر ہگا۔اورجواللہ کے دپے ہو دذق پرخت رگا ء ون نے والی نپ رید ہیں ہوگا۔ جو مک یکوار کھپتا ہے دواسی ےل ہوتا ہے جوا ہم امو رکوز بر زی اضجام دینا ا ہنا ہے۔ دہتبادد بر باد ہوتا ے جواشتی ہوئی موجوں میں بچانمتاےء وہ ڑوتا ہےء جو بدناٹ یکی ججہوں پر جائے گا دوبدنام ہوگاءجوزیادہ لو لگا دوزیادولغز نی سک ےگا اویشس میں ھ امم ہواس میں تق یکم ہوگااورینس می یکم ہوگا ا لکادل مردہ ہو جا ۓےگا ارجم کا دل مردہہوگیا دو دو ےی جا ڑا نشی لڑایں کےئیو بکو دوک نا ککھول تچڑ جا او پچ رکیل اپنے لیے چا ہے اورمراس رای ہے اعت ایماسرمایہ سے چم یں ہوتا جومو تکوزیادہ بادرکتنا سے د وھوڑک یىی دنا برکھی خونل ہورہتا ہے جن پہاتا ےکا سکاقو لبھی لکاایک جم ےء دو مطل بک بات کے علادوکلا شی سکرتا۔ ۳۵ :نا مکی علامات لم الال اك َلاَاتِ: یلم مَْفَرْکهِالْمَمْصِیَة َمَىْذُزنَه اْعْلَبَة ار اقم الم لوکوں میں جو نلم ہوا کی ین علا تی ہیں :وہل مرا ہے اپنے سے بالما تس ت کی خلاف ور زییےاوراپنے سے پیست لوگوں برق وتسلط سے اورطالمو لک یکنک وامرادرتاے_

(۵۱ ہن کے بعداسانی عِنْد تَنَامی الشُتَو تَکُون الَْرُّجَة وَعِنْد تَصَايْيٍ عَلَي البلكِ یکو الوّخَاء. ج بک ان او جا نماض وفرای ہوگی اور جب الا ومحییب تکیاکڑیا لگ ہو نہیں و راحت وآ سائش حائل ہولیٛے۔ ۳۵۳ پچ زان وفر زنر ےلگا 1 لبعحض اصحابہ: لا تَجْعَلَيْ اَكُنْرَ مُعْلک بِأمُلک وَوَلَدک: فَإِن یکنْ الک وَوَلَّذُکَ اَوْلِيَاءَ اللہ فان الله ليُضِیْع اولِیَاءَ ء وَإِْ بگونُوا أَغدَاءَ اللہ فُمَامَمُکَ وَشُعْلکَبأغداءِ اللہ اپنے اعحاب یش سے ایک مےفرمایا زان دفرزن دک ذیادوگ ریس نہد ءاس کہ اگمردددوستان خدا ہی تو خدااپنے دوستو کو بربادنہرہونے د ےگا اد راگ وشمان خدا ہت ضو غس ص2 ظا اد ۳۵۳ عیب جوکی الف ترچدوتنظر سب سے ب ڑا عیب ہہ ےکا لع بکو براکہو ہین کے ماخن رتو ہار اندرموچود ٦‏ اس سے بڑ تک راورحی بپکیا ہ کت ےکہانسالن دوسردں کے ائن یوب پرکت مج یکرے جو خوداس کے انددیھی پا جاتے ہول ٠‏ تقاضاۓ عرل فو یہ ےکہدہ دوسروں کے عیوب پنظر

نے سے چپ اپے عیوب پرفظرکرےاورسو پ کیب دحیب ہے دو دوسرے کے اد پایا جاۓ یا اپ اندد ۳۵۳ پچ تہنی تفر زیر ومنابحضرتے رجل رجلابغلام ولد له فقال لہ: لِیَهُیتُک الْفَارِسْ: َال لاتقُلْ ذلِک, وَلکِن قُلْ: شُکُرْت الوَاجِبَ وَبُو رک لک فی الْمَوْهُوبء وَبَلَع اَشَتَهُ وَرْرِفتَ بوٌۂ. ریت کے پاش ایک ٢‏ 2008 پلدراہہونے پرمپارکیاددے ہو ۓگ سوا مارک ہو ینس پرحفرت نے فما الک یہ کہ ب کت نے دانے خداک ےک رگز ار ہوے تی ہہوکی نت نہیں مارک ہو مرا ےکما لک یچ اور ا کی گی وسعاد تی تعیب ہو ۳۵۵ دوات کےآ خار وَہنی رجل من عماله بناء فخماء فقال“: اَطُلَعَتِ اوَرِق رُوٌومَھَاا ان حرت کے مال ہش سے یٹ نے ایک باند مار تاقی رک جس پآ پ نے فرماا: چا نکی کےکوں نے سرمکالا ہے بلاشبرییمارتتہاری و تک ناز گل ے. رزق رسای وٌقیل ل٤ٗ:لوسد‏ علی رجل باب بیتەء وترک فیەء من این کانه یاتیه رزقه؟ فقالٴ : من حیث یاتیه اجلە

فرت کہاگ یا الگ ریش کوک ری چھو وک را سککادرداز وین کرد باسائ ےتال گیاروزیکمدھ ےتآ ےگ ؟فرماا: جدھرسے ا سک مو تک گا۔

اگ رخداونعال مکیصلحت اس امرکی لقن ہوکہد سی این سکوزندور ہے ےکی ہنی 0 ایا ہوہقدد اس لیے سردسامان زنری مہ اک کے اسے زندہ رک پرقادد سے اور شس رع بنددددازے مو تکوڑیل روک کت ء ای طرح رزقی سےبھی مان نہیں ہو سکتا_ 2 ایاقدرت دوفو پریکسا لکارفر اہ متصحدیہ ےک انساا نکورزقی کے معالہ ان ہون چا ےکیونگہ جوا کے مقدریی ہے دہ جہا کی بھی ہوگااسے ہبرصورت ےکا

ے۳۵ اریت

وَعَرٌى قوْمّا عن میت مات لھم فقالَ: ان لا مر لیس بِكُمْبَذاء وَلا لحم نَهَىٰء وذ کان صَاحِبكُمْ هذّا یُسَافِء قَمُڈُوۂ فی بَغض آسْفَارِوِفَِنْ

حخرت نے ایک ججاعح تکوان کے مرنے وا ل ےک لن زی تکرتے ہوم فرمایاکہ: تا بکھی بی جھوکرددانےٗسی سفریٹس ہےاگرد ہآ گیان مترء ورنیقم خوداس کے پاسی تج اگے۔

۳۵۸وت مت ا المّاسء رم الله الْعُمَة وَجِلیْمَء کم يرَاكُمْ می الْقمَِفرِقِیْنَا ِنّهمَئ سم عَليه فی کات یه قَلم بر ذلک اسْیئرَاجا قد ا مَسُوقَءوََنْ

صُيّقَ عَليه فی دَاتِ يَِوِقَلميَر لک اَعْیَاراقَقَد صَيْع مَامُولاً۔

اےلوگو ہ ےکا قمکت د1 سانش کے موںع پریھی ای ط رح خاکف و سال دبجھے جس طر نتم ہیں عذاب سے ہراساں د تا ہے۔ بتک یےفراغ دق حاصسل ہوہ اوروہا ےگ مگم عخا بکی طرف بے س ےکا سبب نہذ ا نے خوفراک بیز سے اپ ےکو ملھک بچدلیا اور جوشنگمرست ہواوردہ اس ےآ ز مان نہ چچئےتذ اس نے اس تا بکوضا ئا کرد ی ایج سک امیددآ رزگ جال ے.

۳۵۰۳ اصلا ان

ا أُشرَیٰ الرفَةََقَعِرُوا قنالمَرُج عَلیٰ ال ليَرُوغۂ ِنْه الا صَرِیٔف ناب الْحِدنَان .اھ لاس ء تَولُوا مِن انقُيِكُمقَادِيهّاء وََعیلرا ھا غخ شَرَازق 1206ا

اے تی وگ کے اسیردبازآ جا کون دنیا یٹوم والو ںکوحوادث ز مان کے داشت پینے بی کا اند یش ہکرن اہی اے لوگوخودئی انی اصلا کا ذمہلواود اپٹی عادفژل کے تتزاضوں ے مموڑلو_

ری ا

اهت بكلِمَة عَرَجت مِنْ أَحَدٍ سَوء أء وَآن تَجذ لھا فی الْعَيْرِمُْتَمَلا

کسی کے مت سے نین والی بات میں اگ اسچھائی کا لونک سکتا ہہ اس کے پا دے یں بدکمائی شکرہ

ظ۰ پ رما کطریتہ

ِذَا انث لک لی الله سُبْحَاَة حَاجَةفَبْأِمَسألة الصَاۃّعَلّی رَسُولیہ

رک ا

خلَیٰالَلَعَلَت زَالَ رَحَلَ الم جک فان الله أَكُرَمْمِن بُسأَلَ حَاجَتیْيٍء فَيقٌضِی ِحخْدَاممَا وَيَمَع ا خرَیٰ. جب ال تھا لی ےکوئی حاجتطل بکروہذ پیل رسول ای ال علیہدآ لہ ریلم پردرود کتیچوء بل انی حاجت ماگ کیوکلہ خداوند عالم ال سے بلندت ہےکہاس سے دوھاجتیں طل بکی جانیں اوردہ ایک ود یکردےاورآیگ روک تنے- ۷۶پ مز تکانگہداشت با ی1 بروکز نہد ددلڑائی ھکڑے سےکنارکئش رے۔ ھنھے 8 لک الْخْرْقِ الْمَاجَلَهقَبْلَ الامُگانء وَال‌نَاهُبَْد الْفْرّْصَة. امکان پیداہونے سے پیل یکام یس جلدبازگکرنااورموئح آنے پردکرنادینوں حاقت ش رٹل إں- پچ ہے ماد سوال لأتَسْأَنَ عَمًا لایَگونء فی الَِّی قَڈ کان لُک فُعُلِ جوبات نہ ہونے والی ہوا کے تخل سوال شرکرواس لک جو ہے ود یتمہارے لی ےکاٹی سے

٣۵‏ ۳پ پیندرید ہٹس فک بِ رآ صَاِيَة وَالاعیَاز مُنْدِرٌنَاصِخ. وَكفَیٰ اب فک اف نآ ینہ ہے :عبرت اندوزگیا ایک تج رخ او صن رنے والی چچز ےہ سی اصلا کے لیے مج یکائی ےکن جیزو ںکودوسروں کے لے برا کھت ہدان سے کر

ارآ ٣۷یک‏ ول

الثم مَقْرُون بالعمَلِ: فمنْ عم عملَ: وَاليلم نَهيفُ بلعملِلَِن امجۂ َال اَرََحَلَ عَنةٌُ

مل سے وایستۃ ہے ۔لہذاج جا ہے و لپھ کرت ہے او یہ لکو ارتا سےاگروہ للیککتا او پبترءورنردوکی ال سے رخصت ہوجاتا ے_

جڑ ے٣۳‏ پاخیروالقلاب

اھ َء ماع الا حُطامْ مُوبیٗ فَجَُوا مَرْعَاۂا قُعنھَا اخطی مِنْ طمَاییتھاء بَا گی مِْ ترْوَِهَاعکمَ عَلیٰ مکی بِنھا اللہ وَاِينَ مَیْ غِيِی عَنْهھَا بِالرَاحَة مَیْرَاقَة رِبرِجُهَااَقبَت نَاطِرہِ کَمَھاء وَمَن امْتَشْعَرَالشْفَفَ بِھا َلاث صَحِیْرَة اَفْجانء ون رفص عَلیٰ سُوَيْداء قلہه: مُنْقَطِعَ اَبْهَرَاف مَیْتَ عَلٰ الله اوه عَلیٰ الخُوَان الْقَاوۂء وَإنمَا بَتظرُ

المُومِنْاِلیٰ ڈنیا بَعَين الاغیتارء بقاث مِنْهَا پبطُن الاضْطِرَارِ رَیَسْمَمُ ھا ِْْن اعت وَلاَاسِ, ان قیل ای یل ھا زان فرع لةبالقءِ خُزٍیَ لَه بِالْقناوا هذا وَلَمْيَايهِمْ يَوْمَ لہ یلشوی -

اے لوگو:دنیا کا سازوسامان وکھا ڑا جھوسا ہے جو وبا اکر نے والا ہے۔ ہنا ال چراگاہ سے دور روکس سے بل چلا بایان منز لکرنے ے زیادہ فدہ مند ے اورصرف بر رکغاف لے دنا ال دوات وشروت سے زیادہ پرکت والا ہے ال کے دوللت مندوں کے لین رت ہو چکا ہے اوراسل سے بے میاز رٹ دالو ںکوراح تکامہاراد گیا ہے۔ نھ کو کی دی اتی ہہ دوانا مکارا کی دوفو ںہ مگھو ںکواند کرد یچ ہے اور جوا لگا چا ہ تکواپناشعار بنالیتاے دو اس کے د لکوا لی قموں سےگرد ہچ ے جھ د یک یگہرائیوں می تام بر اکر تے ہیں یو ں کل یکوئینکرا ےکر راقی ہے اوریھی کوئی ان رات رنچیدہمناۓ ر ہنا ہے۔دوای حالت میس ہہوتا ےکا کا کون پانے گت ہےاوردہبیابان ٹس ڈال دیاجا تا ہے اس عا لم می شکہااس کے د لکی دوفوں رکیں ٹوٹ ھی ہوئی ہیں ال کو ا کان اکرنا کل اوراسں کے بھاگی بنرو کا ا ےت بیس اجارنا 1 سان ہوجاتا ہے. من دنیاکوعبر تک ڈگاد سے دبکتا ہے اور اس سے اتخی بی خزا حاص لکرتا ہے۔ ا پہی ٹکیا شنرددت ورک ری ہے اوداس کے بارے میں چرجا تکوانو وعناد کے کافوں سے سطتا ےاگ سی کے تلق یی کہا جانا ہج ےک دہ مال دا ہوگیا ہے مرگ کین ۱ می سآ تا ےک نادارہوگیا سے اگ رزمرگی ہف کی 7 ہے وع بن بھی ہوتا سے حالت ہے عا لان اچھی دد دنچ آ7 ینس مل دی ما وی بچھاجا ۓگی-

ظ۸٣۳‏ )یناب وعقاب

الله سُبْحَاَة وضع القّوَابَ عَلَیٰ طاعَنۂء وَالیقَابَ عَلَیٰ معُصِيید ذِيَادَةً

ال ربا نہ نے اپتی اطاعت پرٹو اب اوداپنی محصیت پر مزال ےکی ےک اپے 7770 ۷ھ"

(4)۳۲۹ ایک زان

یی عَلَیٰالّاسِ رما لق َيهِم من اكرآن الرَسْمُةہ وَينْااِسُلام الا أَمُۂ وَتَساجِثْهُم يَوْمَبلِعَِرَةمِْ ال عَرَابِ من اَی سُكالھا وََمَارهَا شَراَهلِ الارُّضِ مِنهُمْ تَحْرْج الله وَالَيهِمْ تی الْحْطِيَةُ يَركُونَ َْ شٌَ عَمْهَا فِھاء وَیسُوقون مَنْنحَرَعََْا لها َقُولَ الله سمُبحاةُ: فی عَلفْتُ ا بُعغْنٌ عَلَیٰاَوليِکَ فِتْنَةُتمَرکُ الْحَلِیْمفِهَا جیْرَائ. وَقَ قَعَل, وَنَخنُْ

لوگوں پرایک ایبادورآ ۓگاجب ان می صرفت رن کےنقوش اوراسلا مکاصرف نام بات رہ جا ےگا ءاش وقتہ سید می روز بینت کے اط ےآ باداور ہدابیت کے اعتبار سے ویان ہو ںگی ان می لکہرنے وانے اورائی لآ اکر نے وا ل تام ال زین شیل سب سے بد ہوں گے ووگنتو ںکا صرتش او رگناہو ںکا مرلڑہوں گے جوانفتوں ے منرموڑ ےگاء انی انی فقو نکی طرف پل انیس کے اور جورم ت چیہ ہنا ۓگاء انیل شی لکرا نکی رف لایمیں گے۔ارشادالہی ہےکہ بشھے اپنی ذا تکاس یس النالوگوں پہ

ایا فتتہناز لکرو ںگا جس میں لیم دبرد با رکتیران دسرگردان' چھوڑدوںگا. چنانچردہاییا یکر ےگا ءم الد ےمفل تکیٹھوکروں ےکفو کےخوامگارہیں- ۳ص٣‏ نت کید یرب زگا ری وروی ان قلما اعتدل به المنبر الا قال امام الخطبة: ايھَا الَاء أنّقُوا الله فُمَا ملق اَمرٴوعَبََ فيلهوَ وَلاَئْرِک سُدیٗ فَلمُواوَمَا ذنیاۂ البی تَحَسْنَث لَه بِخَلَفٍ مِ الَاجِرَة الٔی قَبْعَھَا سُوء الَر عِنْدۂء وَمَا المَمْرُوزُ الَُدِی طَفِر می الڈُنيا باغلیٰ مِمیہ الخ الَِی ظَفْرَمِنّ الاخِرَۃ بای جبکھ یآ پمنبرپردو افروز ہو تل الیانقا کم ہوناتھاک خارے پیل یئات نف بائتیں ۔اےاوگواا پٹ سے ڈروکیونکوگینٹصش بےکار دای کیااک و ھی لکورش پڑجاۓ اورتہاسے بے قیدرو بن گھوڑ دیامگیامیک جیہودگیا ںکرنے گے اوردجیاجو اس کے لی ےآ راستہ وچب راستہ سے ا آ خر کا عیق یں ہیکت جن سکوا کی غلط آگاہ نے ہرگا صورت ٹیس می ںکیا سے دوفر جب خوردہ جواپٹی بلندہشتی سے دنا حاص لکرنے بی لکامیاب ہوا دوس ےیک کے ماننزیی تاجن نےیتھوڈا یب ت1 خر تکاحص حاص لکرلیاەو- اپ انی اور بریضتیں لا ضرف اَغلَیٰ ِں الاسشلام ء وَلاعِرٌاعَر من هو وَلامَعقِل آَحْسَنْ من الَوَرَع وَلاَشَفِیع انج من الله وَلا كتْرَأهَٰمِنالْقَاعَة وَلأمَال اَفْقَبٌْلِنفَاقَةِمَنْ الرّصَٰبالْقُرتِ. وَمَي افَصَر عَلَیٰبُلعة الْفَافِ فَقَد

عم الرَاحَةء وَتَبَوَاَحَفْص الُعَة. وَالرَعبَةمِفمَاح النصَبِء وَمَطِيَة الَعَبٍء َالْحِرٴصٔ وَالَْبروَالْعَسَۂ فَواع لی القَحُم فی التبء وَالشرجَایمٔ مَسَاوی الَمُوبٍ.

کوئی شرف اسلام سے بلندتننی ںکوگی بذ رگ یت کی سے زیادہ ا وقا یل ءکوگی پنادگاہ ہن زگادہی سے ؟ہت رکیل ہکوئی سغا رز لکرنے والانذ ہے بڑ ھک رکا میا بجی کوک ی فان فراعت سےزیادہ بے میا زکرنے والانجی لکوگی مال یق رکغفاف بر رضا مندرتے ے بڑھ کرفردا یا کاو رکرنے والائیں۔ جن ق رحاجنت پر اتا اکر لیت و٥1‏ سرائش و راحت پالتا ےاورآ رام وآ سودگی منزل بنالیتا ہے ۔خواہش درقبت مررغ نی فکی کیراورمشنقت واندد ہک سوارگی ہے . عع گبراورص گنا ہول میل پھاند پڑنے کے رکا ت ہیں اور برک ردارکی تام پر ےتےو بکوعاوگی ے-

ظ٢2٣٣‏ بی جابرائ نکپرالر

ِجابر بن عبدالله الانصاری: یَاجَابرء قَوَامٌ الڈیْي وَالدُنيا بَاَیعَة: الیم ُسْمَغیلِ عِلمَهوَجَاجلِ یٹ ا عم وَجَوَادِ ايل بِمَمرُوفہ وَفَقرِ ایم آَخرَنَۂ بِدنياۂ: قَإدَا یع العَالِم عِلْمَة اَمْتَنگف الْجَامِل اَى مََعلم وَإِذًا بل اَی بِمَمرُوفهبَاع ار آجِررہ بدنیاۂ.

يَاجَاِرُ مَنْ کَتْرَث عم الله عَلَيیْه کرٹ حَوَاِخ لاس اِليهءفَمَنْقَامَلِلَه فِْهَا بِمَا يجبُ ھا عَوُصَهَ لِلدوَا وَالیقَاءء وَمَْ لم َقُمفِيّْهَا بِمَ يَجبُْ عَرَسََا ِلؤوَالِ وَالْقتَاء

جابراجن بدا ڈدافصارکی سے مایا :اے جاب ارم کے1 دیوں ےدین ود یا کا تام

ہے عالم جواپنےعلمکوکام ٹس لاتا ہ, چائل جم کے حاصس لکرنے میں عار ہکرتاہو, گی جودادددیش می پل شدکرت ہوہاوفق جآ خرتکود نا ےکا نیہوت جب عالم ہے عک مک پر باوکرےگاءلو چائل ال کے سیھن ٹس عا تھا اور جب دولت مث رن واحمان بی لک/ر ےکن فقی ران یآ رت ا کر 8ار کر ےرت رئا چس رھ ناد رکفو زیاددواینت ہو ںگی ہاش ان‌نمتوں پرعاند ہونے وا لتق یکو اڈ کی اط رادا کر ےگا ء وہ ان کے لے دوام وگ یا ماما نکر ےگا اور ج ان واج ب تقو تی کے اوا کرنے کے لی ےکھٹاکیس ہوگاد ہایس فاد بر باد کا زدیر لےآ ہے ١٣پ‏ ام بالمع روف وت یع ن نکر وروی ابن جریر الطبری فی تاریخه عن عبد الرحمن بن ابی لیلی الفقیه وکان ممن خرج لقتال الحجاج مع ابن الا شعث,ء انه قال فیما کان یحض بە الناس علی الجاد: انی سمعت علیاء رفع الله درجته فی الصالحینء واثابہ ثواب الشھداء والصدیقینء یقول یوم لقینا امل الشام: ھا المُوِٰمٰويَ ِنهُمَْرأئٰ غدوَام َعْملُ يہ ومكریُذی یہہ قانرۂ بقلبه ففقَد سَلِم َبَرِی: وَمَیْ اَنكرَبِلسَانه َقَة اَرَء َهُو افص مِنْ صَاجب: وَمَنْ نگرۂ بالشیف نوم يِمَة الم ِی اللِ وَكيمَةلشلِین می اشْلیٰ

ائنغ ج ری رکا نے اپ تارتاً می عبدالشن ان ال یلیگ فتقڑرےروای تک ےاورے ان لوکوں یل سے تھے جواین اشعف کے ساتقحدتوارجع سےلڑنے کے لے کل ج ےک دہ

لوکو ںکو چہادپراچھارنے کے لے کے تےکر جب ائل شام سےلڑنے کے ليیے بڑ ھھےاتھ نے علیہ ال لامکفریاتے نا۔اے اب ایمان جوشس دس ےنلم وعددان پل ہودا اور برائی کی ضرف وت دی جاری ےاوروەدل سے اسے برا چجھے .او ووعزاب ے تفونا اورگناہ سے برک ہہوگیااورجوز بان سے اسے بر اکیے دہ ماجور ےصرف دوگ سے ھ ۳7ھ-00209 727 یف ہوک راس پبرائی کےخلا فکٹرا ہو اک الد کول ال ہاودنالو نک با گر جا ےت کی دوش ہے نے بای تگ داذَآپلیا اورسید ھھے رات پرہولبااورال کے ول میس لقین نے ری پھیلادی- ۳۶پ ام بالروف دنیگ ن نر وفی کلام آخرله یجری ھذا المجری: فَمنْهُمالْمکر لِلمنکُرِبَِدِہِ َلِسانه َقَلہوہ فَذلِک الَمسْتَکُملُ لصا الَْر: وَينهُم الْمنكرِلِسَانهِ وَسَضَئع عَصْلَة: وَنهُمْالمنكر بقل وَالَاِکُ بِيَدہ وَلِسَابہء دک الِّی ضَيُعَ شرف الَحْصْلََيْنِ مِنَ الب وَتَمَسُک بوَاجِدة: وَبِنهُمْتَرِک لانگار الشُنگر بِلِسَانہ وَقله وَیَدوہ فک می الاخْیَاء. وَمَا مال ابر لق وَالجهاۂ فی سَبیْلٍ للع مر بالمَمرُوفِ وَالھی عَنِ المنگر ال تقو فی بَخرِلمٔیٗ. وا مر بالممرُوفِ وَاللهیَ عَنِ اْمنكرِلَنَقرَنانِ ِنْ َجَلِء وَلأينْْصَانِ مِنْ ِژقِء وَاَفصَلمِنْ ذلک کُله كلِمَةعِنْد ِقام ججائر۔ ای انداز پِتخر تکا ایک کلام ہے لوکوں میس سے ایک دہ ے جھ برا یکو تر

زان اوردل سے پر اپچتتا ہے۔ چنا خی اس نے ابچ یخصسلتو ںکو پور ےطور بحاص لکرلیا ہے اورایک دہ ہے جو بان اوردلل سے پرابتتا سان پاتجھ سے ا سے یس ما ا اس نے ائھ ی تصلتوں میں سے وڑتصلتتوں ے ربا رکھا اور یک ضصل تکورائیگا نکر دیا اور ایک وہ ہے جودل سے برا تا انان اسے مٹانے کے لیے پاتقھداورز با نمیا ےکام یں لح زس نتم نخصلتقوں میں ے وع پ لتق ںنکوب اگ جک راو رصر ف ایک سے واہست:ر ا اورایک دہ ہے جونہز پان سے نہ پانتھ سے اورترول سے برا یی روک تھا مکرتا ےہ بیزندوں میں لت برتی ہوئی لا سے میں معلوم ہونا جا ےک ہتمام اعوالی تیاور چہاد یھی الام الع روف اورت یگ نلنگر کے ما بیس ا-ے مویہ جی ےگہرے دریا لطاب دنن کےء بے ہوں ہی یکا جرد یناور برا ے روگنا ٹل ےکا کا وج سے مو ت ئل از وق تآ جاےء یا دز ان می گی ہوجاۓ اوران سب سے ہرود تن بات ہے کا جا تم رالن کے سان گی جائے- ۵٣پ‏ ام بالمعروف ونیک ن گر

وَعن ابی جحیفة قال: سمعت امیر المومنين: یقول: او مَاتَقَبونَعَليهِ بن اجھاد الْجهَاڈ بيدِكم ثم َنِم تم رکم فمَنْ لم کرت بقلبه تفر زع ٹُکز کر قب فَبل أغا نفلۂء رَآفَلة آغااۂ

الودتیفہ سے روایت ےک انہوں نے ام رال وشن علی السا مکوف مات ستناکہ:

پہلا چہاوکجس ےت مغلوب ہوجاگےء ات کا جیاد ہے۔ رز با نکاء رد کا نے دل سے علایمکواچھائی اور پراگ یکو بران بچھاء اسے الٹ پٹ کر دیا جات ۓےگا۔ ال

ر کاوپرکاحص نچ اود ین ےکا تاد پرکردیاجا ۓگا- ے٣‏ پوت وبا ل کات ِكٌ الْحَق تل مَرِیءٌءوَإِنَ البَاطِلَ خَفیْفٌ ہی٤‏ گرا ںگ رخ لگوار ہوا ہے اور بل ہنرو بای اکر نے والا ہوتا ے۔ ے٣‏ بی امیرودیالں لامَامَتْعَلیٰ حَيْ هلذہ الم عَذَابَ اللہ وه عَالیٰ: رفَلاَيَامَنْ مَکُرَ الو ال القَوْمْلَاسِرُوق وَلائَیَأَْلِفَرَ دہ امن زؤح اللہ لہ تعالیٰ:(الَه لاَؾاسُ من زج اللہ ال الوم الگاؤزوؤ) این امت کےا پت ری نشین کے بارے یی بی ال کےعذزاب بے پا لق ل من ہد جا. کیونکہ اٹ جا ہکا ارشاد ےکرکھا ٹا اٹھانے وا لے لوگ دی ایر کے عذاب سے من ہوٹیشھے ہیں.. اوراس امت کے بدت ینآ دی کے پاارے می بھی ای ررمعت سے مالیں ہو جاکیونکرارشا دای ےک دای دعمت سےکافرولں کے علاد وی اورناامی ٹیش ہوتا. (۳۱۸ ئل یل ججاع لِمَسَاوِی الوب وَهُووِمَامٌْقَاد بهإلیٰ کل سُوٍ کل تاس یر کید با دع یی ادر ای مار ہشن سے جربدائ یک طر فک اکر جایاجا گے

(۳2۹ پارزل روزی بن آقمہ الرْزْف رِزقانِ: رق نَطلیيه وَِزق َطلیکء قن لم تاد آناک: يَمْبِقَک الّیٰ رِژقک طالِبٔء وَلنْ يَعلَک عَليْهِ غَالِبُء وَلَنْ تی عَنک مَا رزقی دوطرع کا ہوتا ہے۔ ایک وہ شش سکیا ملا میں تم وہ ادرایک دہ جوتہا رج ین یت ارم انتک نت سکو کے ذو وق کا کے کرد ےگا۔لہذااپے ای دن گر سا مھ رکیگک ری ضلادد۔ جھ ہرد نکارذقی ہے دوتمہارے لی ےکاٹی ہے:ذ الد ہر دن جوروزگی اس نے تہارے لیے مت کر ری ہے وو نہیں دم ےگا وہای ع رکاکولی سال باقی نی سے ہیں معلوم ہونا چا ہ ےک کوئی لگا یق ہارے رذ قکی طرف تم ے آ کے زی سا اور تہکوگی خلبہ پانے والا اس می لت پر ال بآ سکتا ہے اور جوہارے لے مقددہو کا ےا کے لے مج بھی نا تیر وگیا. ۳۸۰ زن دی وموت رُبٌ مُمْتَقلٍ يَوْمَا لَیْس بِمْْمَذبرءہ وَتَفبُوطِ فی اَل َء قَامَتُ َوَاكَيْه فی آجرہ۔ بہت سے لوگ ایل وا کا سسا ہنارت ہیں جس سے انیس بی بیلراناکیش بہوتا اور

بہت سے اےے ہوتے ہی ںکردات کے پیل حصہمیش ان پر رش ککیا جانا ہے او رآ خ ری تصبییش ان پرروےے والیو ںکاکبرام میا ہوتاے . ۳۸ز با نکگہراشت

الّكَلامُ فی وَنَافک مَالَمْ تَمَكلَمَ بہ: فإِذًا تَكلُمُتَ به صِرٴت فی وَاقہہ فَاغْزن لِسسانک گَمَاتَعْزْهفعبَکَ وَوَرِقک, قَوْبٌ لِمَوِسَلِبَث َعْمَة

کلامتہارےقیدویندٹش ہے ج بکککت نے اس ےکہاکیس ہے اور ج بکہ دیاہ تم ا لکی قرو ہد یش ہو۔لہنا یذ با نکی ای رح حفاظ تکروجشس طط رح اپنے سونے چا ند یک یکرتے ہ وکیوگییض بای ایی ہوئی ہیں جوکسی بین تکوجھین می اور مصییب تکوناز لکرد بت ہیں-

ج۳۸۲ ت

اَل مَالانَعْمَلْ لتق ہل مَا مم الله فَرَض عَلّی جَوَارجک کُلهَ فَرَابض یَحَْغبِهَا عَلَيَکَ یَوْمالَْمَةِ

جویل جات اسے شرکہوہ بللہ جو جات ہوا دونحی س بکاسب ش کو کول ال ان نے تہارےتماماعضا پر پجیفراس ھا سے میں لن کے رم قی مت کے دن تم پرجت لاۓگا۔

( ۳۸۳ و حصیت اَخْلَرْاَعْ يَرَاکَ اللَهعِنْدَمَعْمِّ وََقْقدک عِْد طَاعیء فَتگُونَ مِنَ

الْحَاىِرِییْء وَِذً قِبٔت فَاقَزعَلَی طَاقةِ اللہ وَِذًا ضَلَقْتَ فَاضْعُفَ عَنْ مَمصِيَة ۱

پ ےا

انس بات سے ڈدتے رہ وکرالڈ یل اتی محصیت کے وقت موجوداور اتی اطاعت کے وقت نیب رحاضر ا تو تہاراشحارھا ا اٹمانے والول یس ہہوگا. جب تی ودانا خاہت ہوناہون کی اطاعحت پرا تق وت دکھا اورک ور نا ہوتذا سک محصبیت سےکزروری دکھا.

۳۸۳ پل اعار

ال رون الّیٰ لیا مَعَمَاتُعَايِنْ مھا جَهُلٌء وَالَقصِيْرُ فی حُسنِ العَمَل دا وَثِقُت بِالسُوَابِ عَلَيْهِغَْنْء وَالُمَايَيَتَةاِلیٰ کل اَحَدِ قبْلالِخیارِ له

دنیا کی حالت د کے ہو ا کی طرف جھکنا جہاات ہے اویمس نل کےا بکا لقن رکت ہہوۓے اس می لکوت یک ناگھا ا ٹھانا ہے اور بر کے بی رہ ایک پیک روس اکر لینا چھزدکردری ے۔

دو تا

َنْمَوَانِ الڈنيا عَلیٰ الله نہ لأََہُ عصَیٰ ال فِيْهَاء وَلايَال مَا عِنَذَۂ ال بتکھا۔

اٹ کے نذدریک دنا کیاتارت کے لیے کی بہت ےک اش دکی محصیت ہوکی سےا اس یل اودااں کے بیہا ںکیانیں حاصل ہوثی ہیں تو ا ےجھوڑنے سے

(4۳ 2 یدہیانرہ جن کسی چزوطل بک ےق ات اس کان حصکوپا لےگا۔ پڑ ے۳۸ پگ اور بر َا عَیْرْبِعَیْرِبَعْتۂ الَارُ وَمَا شَربِشَربَغْۂ الْجَنَق ول تیم کون الْجََةقهوَمَحْفُورَ رَکلُ بَلاو دن الَارِ عَافية وہ نیخلا گی بچھاائ یئل شس کے یحدددزغ گی ہک بواوردہ بد ائی جرائی کی جس کے بجر جنت ہو۔ جنت کے ات ہم تتقییر اوردوز غٔ کے مقابلہ شی برحجیبت راحت ے۔ ۳۸۸ مڑ یقت لوان من الا الَفاقَةہ وَاَفة من القَاقّةمَرَصالبدنِء وََضَدمِنْ مَرَضٍ لن مَرَضٔ الْقَلٍَ, وَِنَ مِنْ مِحة یدن تقو اقب اس با تکوجانے رہ وک نفد فاقہ ایک مصیبت ے اورنقرے زیاد مخت جمالی مرا ہیں اور جسما نی امرائش سے زیادوقت د لکا روگ سے یاد رک وک ما لک فراوالٹی ای نقت ہے اور ما لک فراوانی سے م ہت ححت بدن ہے اورححت بدنع سے بہت و لک پرمیزگارٗاے۔ )٤ب‏ نب (مَنْ اباب عَمَله لم يُسْرٍِع بِهِنْسَبْمم وَفی روایة اخری: مَنْفَاتَهعَسَبْ

عق ےق

ےئل یچچ بٹاۓےء اسے نس بآ گ ےکی بڑھا سکنا ایک دوسرکی روایت یش اس رح ہے ھے ذالی شرف دمنزلت عاصل نہوا ےآ با دادکی منزات بفا لد ٹیس با و

۹۰ ہوم ین کے اوفات

ِلمُوين لاٹ سَاعاتِ: فَسَاعَةيَاجی فِيْھَا را وَسَاعَة یرم تَعافَاہ رَمَاعة فَاخِصًا ال فی تَااثِ: مَرَمُةلِتَعَاش, از عُطرَفی تقر انی عَيِْنَعرّم

من کےاوقات جن ساعقول پ شک ہوتے ہیں ایک د کبس بس اپنے پرورذگار ےرازویا زگ یا می ںکرتا ہے اورایک دوشنس می اپچتے معائ کا سردساما نکرتا سے اوردہ کرجنس معلال دایز لذتقوں یش اپ اٹ سکوآ زادچھوڈد تا ہے تقد د یکوزیب نیس د اکر دہگھرسے دور ہو مگ رن پچیزوں کے لیے معائش کے بندویست کے لیے پا امم آخر تک ططرف رم اٹھانے کے لیے یلت اندوزی کے لی ےک جوترام تہہو ۱

۳۹ز ہردنیا

اڈ فی ال سرک اللَُعوْرَِهَاء وَلانَقََْْستَ بِمتفُوِ عَنْک!

دنا سے _یٹ٥لتی‏ رہوتا کہا مق مٹ دنا کی انیو کا ساس پید انکر اور غاخل شہ ہوا لی ےکیتہاری رف سے ا ئیس ہواجا ۓگا.

۳۹۲ :مرن ںگفتہ باشد با تکرد اک ہیچانے جا کیونک ہآ دن ا ہنیز بالن کے یچ لپ شیددہے. ۳۹۳ بوطلب دا حْذ ین ڈنیا ما آناک, وَتَولَ عَمّاتولیٰ عَنک: قَإن انت لَمْتفعلَفاجُملُ فی الطْلّبٍ. جودٹیا "ہیں حاصل ہوااسے نےلواورج جزرغ گب رن اس سے مہم وڑے رہ او اگ راییا نک رسکوتے سیل وطلب یل میاضددوی اخقیارکرو. ۳۹۳ >4 با تکااز رب قوزلِ لق ِن ضول۔ بہت سے کےتملرےزیادواثروففوذ رکھت ہیں. ۳۹۵ب تاعت مُفَصَرٍ لے کافِ۔جس تبقاع تک جا دہکاٹی ے. ۳۹۷(۳ رودن مه ولا الد وَالَُلَ ولا للَوَسُلَ. رَمَنْ لم بُغط قَاجدالَمْيُعَط قَاماء َالتُمْر يَوْمَان: يَوْمَ لک وَيَوْمَ َلَیک: قَذًا کان لک فَلاتبْطرُرتبعطش َاِذَا كانَ عَلَيْک فَاصْبرٌا

موت ہواورزلت 7 لے اوردوصرو ںیکووسیل_ بتانا یہو صے بے متا ےکی تا

اے اشن ےبھی بحاص ل میں ہوگ زمانددودفوں نشم ہے یک دنتمہارے مواف اورایکتتہار ےخخالف جب موافن ہو اتر ایل اورج الف ہو صبرکرو. ۳۹پ مکل بت رین خوشبو کک ہے مج کانطرف پلکاا ورس ک مار ہے . ۳۹۸ پانخر صرلری ضْعْ رک طط کارک,زاة گزفٹرک. تروس ربلند یکویچھوڑ دوب روف رورکومااورقرکویادرھو. ۹۹پ فرزندویدر موی

اك اد علی رد حَفًء وَإَِلِلوَِ عَلیٰ ار حَقًا: فَحَیُ الوَاِدِ عَلَیٰ

الُوَلَد اى بُطِيَعَة فی کُل شیا فی مَتْصِيَة الله سُبْعَانة: وَحَقٌ الد عَلَیٰ الْوَالِدِ نْيحَسَن اَسْمَةہ وَيْحَسْنَ ق اَل َیْعَلمَة اْقرَآن.

ایک تن فرزندکا باپ پر ہوتا سے اورای کن با پ کا فرزن پرہوتا ہے .با پکافرزند پہ بی ےلہردوسواۓ اللدکی محصبیت کے پر بات می ال لک اطاع تکرے اورفرزن کا باپ پر ٹن ےکہاا لکانام اسچھا تجو یکر ایک اخلاق وآ داب ےآ راستدکرے اور

رآ نکی ا ےنم دے.

۳٠٠‏ 4اا زوےاز

نمی عَقْء وَالرقَیٰ عق وَالسَخْر عَقٌ وَالَاَ عَقٌء وَالطَيرَ مث بی وَالْمَوَیٰ لس بِحَىء وَالطيْبُ قوف وَالعسَلُ تُمْرَقہ وَالرکوبُ شرف وَالطُر لی الحْضرَونْشرَقَ

تشم انوس بمراورفال خی ان سب میس واقیت ہے البت فال بدادر ایگ پار یکا دوسر ےکونک جانا غلط ے ہٹوشبوسوگھنا بش رکھا نا +سوار یکر نااورسزے پفْطرک راف وا نود اوثاقی واقطرا بکودورکرتاے.

یرہ ک عم خالل بدادرتقال کےعخ خال نیک کے وت ہیں . شر لحاط ےکی چزے برا شون لی کوئی یقت نیس رکتا اور یصرف ا جا تکاکرشم ہے اس برنشگوفی کی ابت دا اس طرح ہوئ یمک ہکیوسر ٹول نے رات کے پیل تصہ مر کا ذا نک اورا تماق سےاسی را تک کیومر ٹکاانتقال ہوگیاٹس سے انیس ری ہم ہد اکم رر کابے وقت اذان د ینام ی اخ مک یی شیممہہوتا ہے چنا رانہوں نے اس مر کوؤ کردیا, اور بعرم ںخخلف عارڈ کا لف چچزوں ہے تحص تلق ت ات مک رلیاگیا۔

البت فال تیک لیے می سکوئی مضا نکی .چنانچہ جب ہجثرت تقر کے بعدق ریش نے ہے اعلا نگیاک ہ12 تحضر تکوک یرک ےگا, نذا سےسواونٹ انام یش دئے ایس گے ابد بریدہ لی اپنے یل کے ست رآ دیوں کے ہھرا ہآ پ کے تھا قب می رواشہہوا .اور جب ای منزل پر مناسامنا ہوا حضرت نے لے ھا مکون ہوا ن کہ اک بر دای ن نصیب ۔حضرت نے ینام سنا ف فر مایا برادمرن جارامعابلخغوشگوارہ گیا .بج راکرس قل ے ہو؟ اس ن کہ اک اقلم سے نف ما الک سلمنا ہم نے ملا پا .رد یاف تکیاکرکس شا سے ہوا نت ےکہاکہ

ب کم سے .فو فرما اکیشر نسحم کتہارا تفگ لگیا. بریدداس انداز نو اور نگغزاررے بہت مان ہوا. اور و پچ اک ہآ پکون یں رما اکیشجھ ای نمبداند یک نک بے ساخت ال لک زبان سے کال . اشحد ا تک رسول الیک اشعلیدٴ لن اور یس کے انعام سے وب ردار ہوک ردوات ایا لع سے االا مال ہوگیا ۔ ۱+" پ اخلاق میں ہمآنگی مُقَارَبَةُ (مفارققم النَّاسِ فی اَخْلاكهِمْ امن مِنْ عَوَاللهم. لوکوں سے ان کے اخلاقی واطوا ریس پھرنک ہونا ان کے شس ےتفوظ ہو چان ہے . و ۸0

لبعض مخاطبیهء وقد تکلم بکلمة یستصغر مثله عن قول مثلھا: لقد طرت شکیراء وهھدرت سقبا۔

ایک مکمام ہونے دالے سک ہن نے انی شیت سے بڑ نکر ایک با گنگ فرمایاتم بر گت ہی اڑنے گےاورجوان ہونے سے پل بہلانے گے .

سید بت ف مات ہی ںکہا ںقرہ مس حگبر سے مراددہ یب ہیں جو پیل بل مل ہیں اورابھی مضبوی نیس ہونے پاتے اورسقب اوٹف کے بج ےکوسکتے ہیں ادردہ اس وقت بات ہے جب جوان

ببوتاے.

۰م ےلب ال فوت النل مَنأوعَاَلیٰ مُقَارِتِ عََلَه اَل جن لف نزو ںکاطل گار ہوتا ہے اہ کا ساری تھی ری ناکام ہوجائی ہیں.

یں تھسا وه سُیِلٌ عن معنی قولھم: رلاحَوْل وَلَائُوةَإِ باللن ن لنَمْلِکٌ مع الله خَیْنًاء وَلأنَتْلِکٔ ال مَ مَلکنَا: فُمتَیٰ مَلگتَا مَأقو الک بِو مِنَا رت ے لاحول ولا تو الا پاش ہقوت وٹ انا یی ںگر اود کےسبب سے ہ کےمعی ددافت سے گے آپ نے فرما اک ہم خداکے سات کی جچز کے مالک یس اس نے جن جو ںکا یی ما نک بنایا سے اس ہم آئیس پراخقیاد رت ہیں .فو جب ال نے “می الک کا ما نک بنا یاششس پردہ ہم ےزیادہاخیاررگتا ہت ہم پر شر ذمسداریاں عائکرکیل اور جب اس چیڑکووالئیں لاف ہم سے اس ذمہداریکڑھی بمطر فک۷ردےگا. مطلب ہہ ےکر انا نکیاسی ے پمستقلاتمک واختیارحاص لیس بلکمہ یقن لیت وقوت تصرف قزر تکا بنا ہوا ایک عطیہ ہے اور ج بکک ملک وانقیار باتی رہتاے ."لیف شرئی برقراررنتی ہے اوراےسل بکرلیا جانا ہے تی فگھی مطرف ہوجائی ہے . کیوکاڑی صورت می کی فکا عم دکرن تکلیف الابطاتیق سے چو یعییم ددانا یطرف ےمائلیں ہ وت چنا جا بھاضرنے اخضاد جوارم بل اعمالل کے بپالان ےک قوت ودجت فرمانے کے بعدان ےکی “تح قکی .ہز اج بکک ریقوت بائی ر ےگ ان ےکی ف اتک ر ہےگااور اس قوت کےسل بک لے کے بحدرتکلی بھی مطرف ہو جا ۓگی, یی زک کا فربیضراسی وقت عابتا سے جب دوات ہواور جب دوات جن لے گا نواس کے تہ میس ذکو کا ووبگی سافطاکرد ےگا ءکی ون ای صورت می نکی فکاعائ دک /نا عقدا ٗی ے.

(۵٥))مخٍردام‏ شخب لعمار بن یاسرء وقد سمعہ یراجع المغیرۃ بن شعبة کلاما: دَغَهُيَا عَمَازُء َإنَهُلُميَاخذُ من الین ال مَافَارَة ین الڈنء رَعلیٰ عَْدِ لب عَلیٰ نیہ يَجْعَل الشُبْهّاتٍ عَاوِرا لِسَقَطَاِہٍ عمار جن ماس رگ جب مخ رہ این شع سےسوال وجوا بک رتے سنا فان سےفرایا:اے مارا ےچھوڑ دواسل نے دبع سے ٹیس دولیا ہے جھاسے دنا سے تقر یی بک ے او راس نے جان بو ےک را ےکواشتباہ ٹس ڈال رکھاہے ت کان ہا تکوا نی لغزشوں کے لیے بہاشہ راردے کے ۸۷م ناش وٹورراری مَا أْسَیَ تَوَاصم الَغييَاءلِلقْقَاءِ طلبَا ِمَا عِنْذ اللها وَأَحُسَیْ مِنْ ئا الْقْقَرَاء عَلَیٰ ال غُييَاءِ اَتكالاعَلَیٰ الله ال کے بیہاں اج کے لیے دونقندرو کا فقیروں سے پچ زواککساری بر اکننا ا ھا سے اوراسں سے اپچھا فق راک اد پیک روسکرتے ہو ۓ دولتنروں کے متقابلہ می نھروررے یی

آگارۓے

0

اکٹل َا اَسْمَوْةَع الله مرا عَقّلإل اَمتقَنَهُبِهِيَزمَّمَا!

ور ےئ رای شکۓوگسوی کے سرت

ای سے یا ےگا

4)۸ ےرا من ضارع الْحق ضر جوتق ےکر گان اسے پچاڑدےگا. ۹ہ پل القْلبْ مُضْخف الَضَرِ. ‏ ر ل1گوںکایڈے. بزہ پت لق ریش ال ای تتقی تا مضصلتو ںکاسرتا نے ا پچ استادکا اترام لأتَجْعلی ذَرَبَ لِسَایک عَلیٰ مَيْ انْطفَک وَبَلاَة قوْلک عَلیٰ مَنْ سُڈڈک. جس ذات نے ہیں بولناسکھایا ہے ای کےخلاف !ہنی ذ با نکی ت زی صرف شگرواور ضس نے ہیں راہ پرلگایا سے اس کے مقابلہ می فصاح تگختارکامظا ہرو کرو ١۳(‏ پآ رای سی کات اس الیک اوت د کرای میرک تحار ٹئ سکی آ راشگی کے لیے بھی کاٹی ےک بس چچزکواوروں کے لیے نا ند کرت ہوااس ےجو دی پر ہیزگرو مس 75 ا3 مَنْ صَبَرَصَيْرَاَخرَارِء وَالّ سَلاَسُْرَالِغُمَار جھانخردو ںکی طط رح صبرکر ےۓچی تو سادواوو ںکی ط رح بھول بھا لک جپ ہوگا.

۱۳ )زیت

وفی خبر آخر انهٌ قال لاشعث بن قیس معزیا عن ابن لە:اِنْ صَبَرْتَ صَبْرَالاکارمء وَا مَلوْٹ سَُر الْهائم.

ایک دوس رک ردایت ‏ ہ ےک ہآ پ نے اضعت ای تی یح زیت دتنے ہوم مایا اکر پذ رک ںکی رت نے صبرکیا نر او رض چ پا کر ایک دن بھول جاؤ گے .

پک دنیاکی حالت

فی صفة الدنیا:َقُر وَتضروَتمْرّء ان الله تَعَاٰي لم َرْضَیَ توب ِء و٦‏ عِقَاا لَعِداہ وَإِم ال انا كرَكبٍ مم عَلُرا ره صاع بِهم مَالمْ فَارْتَعَلوا,

دنا کے تلق ف مایا :دا یو کے بازفقصان رساں اوررواں دواں ہے ؛ابرنے اپے دوستوں کے لیے اسے لطورواب پین ری سکیا اور نہ شنوں کے لیے اسے لطورمزاپپنر کٹل دنیاسواروں کے ماف ہی ںکدابھی ان ہوں نے مز لکی یھ یک ہنگانے والے نے للکارااوریل د گے

۹پ اما متس کوہرایت وقال لاہنه الحسن الیل تَخَلَفَنَ وَرَاءَ ک شَيْتَا مِنَ النیاء ِئک

ابنے فرزنیسن علیہ السلام سے فر مایا ا فرزند دمیا گ یکوئی نز اپینے کے نہکیموڑ و .اس لی کرت دو یش سے ایک کے لے چیھوڑ و گے .ایک دو جھاس ما لکوخدا کی اطاعت میلںصر فک ےگا فذ ج مال تہارے لے بش کاسبب جنادہاس کے لیے راحت وآ را مکاباعث ہوگا.یادہ ہوگا 2 .‏ سو کردوما لکی وجرے بد بنت ہوگااورالصورت میقم خداکی محصیت میں ا کے کن و مددگارہوگے ,اوران دوفوں می سےاُیکہن بھی انی ںکراسےاپنأٹس پنز در

سیدرشیفرماتے نی ںکہ یکلام ایگ دوس ری صورت مھ بھی ردبی تکیالگیا ہے ج ىہ سے جھ ای تھادے ہاتھ یل ےکم سے لے اس کے ما تک دوسرے تے اور بیتہار بعد دومرو لگ رف لٹ جات ےگا اورتم بش سے دو یں سے ایک کے لیے م کر نے والے ہو ایک وھ تھا ے جح کے ہو نے ما لکوخداکی اطاععت میں صر فک ےگا. تو جھ مال تہارے لے دنت کا سبب ہوادۃاال کے لے سمعادت و خی کک کا عیب ہوگا دو جوا مال ہے ال ری محصیت کر ےو چوقم نے اس کے لیے کیادوتھہارے لے شی کا سیب ہہوگا اوران ددڈول میس سے ایک بھی اس قاع لی سکہاسے انی یش تکوکرانجارکرو جگز گیا ال کے لیے ای دکی رحمت او رج اتی ر ہیا ےااس کے لے رزقالٰی کےامیدواررو.

بڑ ےا۳ پچ استغفا ر کے سی

لِفائل قال بحضرت: رَسَْقْفرْ الم تَکَلَْکَ اُتُک, انذرِی مَا لامْمْفَاز مقار قرَجَة ال مر اَم وَاقع علیٰ سد مَعان: اوھ سمل مَضَیٰ اَی اَم عَلیٰ ترک او دِإلیْهابداء اَل ا

-ے- سے سے سے سس سح صس۔ ‏ سسس۱ سا

َالرٌبِ ا تَعْمة اِلَیٰ کل قَريْضَوَِعَلَیک ضَيّهَا قزّذُیَ حَقھَاء وَالْحَايسُ تَعْمة الَیٰ اللعُم الِی تَتَ عَلیٰ السُحُت قَتذِيَةباخزانء عَنٰتُلمِقَ اجلد بالغشی رْمَا تھا لغم بمیئلہ زالشاون او تلق الم لم الَاعَوِکَمَا دقن حَلاوَة المَعْصِیَة: فينْد ذلک تَفُولْ:ر اَسْعَفْْر ال

ایک کی دا نے نےآپ کے ان تفم را کیا.2 پ نے اس سےفرمایا.

تہادی ماں تمہارا سوک مناۓ پر معلو مبھی ےک استتففا رکیا ے؟ استغفار بلنر مضنزات لوگوں کامتقام ہے اور ایگ ایا لفط ہے جھ پچھ باقل ب عاوئی سے پچ کچھ ٤‏ چنکااس پرنادم ہو , دوسرے بمیش کے لیے اس کے مب مہو ن کات یکزنا گر یوق کے تقوق اداکرنا یہا لم کک الد کےتضسور بیں اس حالت بیل ماپ وک تہارا دالن پاک وصاف اورقم پروی مواغذ و ضہ ہو چھ تھے کہ جوفرال تم پر حائد سے ہوئۓے تھ ,اورقم نے یں ضا ئ کرد یاتھا. ایل اب لور ےطود بی بالا. پا نچ سی بےکہھگاشت کل رام ےنت وفایا تاد پا ےا کم داندوہ سے پگھلا ہا لک کےکھا لکوبڑیوں ے ملاد وک رسے ان دووں کے درمیان میاگوشت پراہ ,ےہ این مس مکواطادعت کے ری سے؟ شیا کرو جس رب ا گنا ہکی